بلاگز

انسانی شخصیت کی ساخت کیا ھے۔

یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں ہے نہ ہی اسکا کوئی طبعی وجود ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال کی توجہیہ و توضیح کیلئے اسکو تین حصوں میں منقسم کیا

(شعور )
2-Sub-Conscious MinD( تحت الشعور)
3-Unconscious
Mind (لاشعور )

۱-شعور ( Conscious MinD)

شعور سے مراد ذہنِ انسان کا وہ حصہ ھے جو زمان و مکان کی خبر فی حال مہیاء کرتا ہو ۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے تو فوراََ کہے گا کھانا کھارہا ہوں کیونکہ یہ بات اسکے خانہ شعور کا حصہ تھی اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانہ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں ۔

۲-تحت الشعور
( Sub-Conscious MinD )
تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جو آپکی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کر کے آپکے شعور تک لے آتا ہے۔ اکثر اوقات ہمیں بھولی باتیں یاد کرنا پڑتی ہیں اور اکثر بھولی بھٹکی یادوں کا گزر ہمارے خانہ شعور میں بھی ہوتا رہتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے جب کوئی چیز ہمیں بھولتی ہے تو اس بھولنے سے کیا مراد ہوتا ہے۔؟؟ کیا یہ چیز ذہنِ انسانی سے نکل جاتی ہے۔؟؟ یا اسکا وجود ذہنِ انسانی کی کسی گہری پرت میں ہوتا ہے۔ چونکہ ہمیں اکثر بھولی ہوئی باتیں یاد آجاتی ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کے وہ چیزیں بہرحال ہمارے ذہن میں موجود ہوتی ہیں اور طلب کی صورت میں وہ ہمیں یاد بھی آجاتی ہیں ۔
مثال کے طور پر اگر آپ سے پوچھا جائے کے کل آپ نے کونسے رنگ کے کپڑے پہنے تھے تو یقیناً آپ تھوڑا سا سوچ کر اسکا جواب دے لیں گے۔ اسکا معنیٰ یہ ہوا کے یہ بھولی ہوئی بات ہمارے من میں موجود تھی اور طلب و حاجت کی صورت میں اسکو شعور کے خانے میں بھی منتقل کردیا جاتا ہے ۔ یاد آنے سے قبل اسکا وجود تحت الشعور میں ہوتا ہے۔ اور یہ خانہ شعور کے تحت کام سر انجام دیتا ہے یہ انفارمیشن آپکی شارٹ ٹرم میموری میں موجود تھی یا دوسرے معنوں میں یہ تحت الشعور میں موجود تھی جسکو آپکے سوچنے سے شعوری احاطے میں داخلے کی اجازت ملی۔ اور یہ معلومات آپکے صحنِ شعور میں نمودار ہوگئیں۔ تحت الشعور میں غیر ضروری اور غیر اہم باتوں کو شعور سے نکال کر اکٹھا کردیا جاتا ہے اور بوقتِ ضرورت انکو طلب بھی کیا جاسکتا ھے۔

۳- لاشعور
(Unconscious
Mind)

ذہن کی عمیق ترین تہہ جہاں تحت الشعور سے رد کردہ یادیں خیالات , تجربات اور مشاہدات کو عمر قید کی سزا سنا کر لاشعور کے زندانوں میں پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے۔ بچپن سے لیکر مرنے تک کے تمام معاملات اس خانہ لاشعور میں رکھے جاتے ہیں ۔ ذہن کی یہ عمیق ترین تہہ شعور سے تحت الشعور اور تحت الشعور سے دھکیلی ہوئی یادوں خوف و اوہام سے لیکر انسانی ذہن سے منسلک ہر شئے کو جمع رکھتی ہے ۔ مثال کے طور پر ہم آج سے پانچ سال پہلے شام کے چھ بجے کہاں اور کیا کر رہے تھے ۔ اس سوال کا سارا جواب اور ماضی کا سارا حال احوال ہمارے شعور و تحت الشعور سے نکل کر خانہ لاشعور میں آچکا ہوتا ہے۔ اس لیے لاکھ یاد کرنے پر بھی یہ ہمیں یاد نہیں آئے گا کیونکہ شعور کی روشنی کبھی لاشعور کے تاریک ایوانوں میں نہیں پہنچتی ۔ اسی طرح کے بھولے بھٹکے واقعات اور یادیں ہمارے خانہ لاشعور کا حصہ ہوتی ہیں ۔مزید یہ کے خوابوں کا تعلق بھی لاشعور سے ہوتا ہے۔ لاشعور میں آپکی زندگی کی ساری یادیں جو آپکا شعور اور تحت الشعور رکھنے سے قاصر ہے وہ اس احاطہ شعور میں مجمع ہوتی رہتی ہیں ۔ لاشعور میں آپکی ساری خواہشات , پریشانیاں , احساسات جو کبھی کسی ساعت پے کبھی آپکی زیست کا جز رہے تھے جسکو آپ بھلا چکے ہیں وہ ساری چیزیں آپکے لاشعور میں رہتی ہیں ۔

فرائڈ ذہنِ انسانی کی تقسیم کے بعد انسانی شخصیت کو بھی تین حصوں کا مجموعہ قرار دیتا ہے۔ اور انسانی شخصیت بنیادی طور پہ تین اجزاء کا مجموعہ ہے جسے فرائڈ
اڈ ( ID ) ایغو ( Ego) اور سپر ایغو( Super Ego ) کہتے ہیں ۔
انسانی شخصیت کی ساخت کی تشکیل انہی اجزاء کی مرہونِ منت ھے ۔ جبکہ شخصیت کے توازن کیلئے تینوں اجزاء میں ایک مخصوص توازن ہونا لازمی ہے باصورت دیگر طبیعت و مزاج یا شخصیت نفسیاتی عارضوں کے گرداب میں پھنس جاتی ہے جس سے زندگی کی مستعدی و فعالیت میں بتدریج کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔

اڈ ( ID) :

اڈ (Id ) کا تعلق لاشعور سے ہے یوں تو روزمرہ کے معاملات و تجربات و خیالات کا حصہ شعور سے تحت الشعور یا لاشعور کے زندانوں میں چلا جاتا ہے جسے مخصوص طریقے سے شعور کی سطح پر لایا جاسکتا ھے جبکہ لاشعور کا ایک ایسا جبلی اور سرشتی حصہ ہوتا ہے جسے فرائڈ Primary Unconsciouss mind کہتا ھے جسکا اظہار کسی طور بھی شعور کی سرزمین پر نہیں ہوتا ہے۔ اسی کو فرائڈ اڈ (Id ) کا نام دیتے ہیں ۔ اڈ (Id ) بنیادی طور پر لذت و انبساط خوشی و مسرت اور سکون و راحت کے حصول کیلیئے انسان کو محرک کرتی ہے۔ اڈ (Id ) کے اجزائے ترکیبی طبعی رجحانات جنسی و جبلی معاملات کے ساتھ ساتھ لذتوں اور راحتوں کا حصول ہوتا ہے۔ اڈ (Id ) کی دنیا میں نہ تو کوئی اخلاقیات کی روک تھام کا گزر ہوتا ہے نہ کوئی منطق نہ اصول اس سرزمین پر قدم رکھنے کی جسارت کرسکتا ہے۔ یہ گہری وادی ذہنِ انسانی کی عمیق ترین اور تاریک ترین تہوں میں پنہاں ہوتی ہے جہاں نہ شعور کی روشنی پہنچتی ہے نہ ہدایات کا نور ۔ اس خطہ ظلمت میں اخلاقیات و قوانین سے لیکر کسی شئے کی تمیز و تخصیص کا نظام موجود ہوتا ہے ۔ اس سرزمین پر صرف ایک ہی قانون ھے وہ ہے لذت و راحت کا حصول وہ بھی فوری اسکے علاوہ دکھ درد اور تکلیف سے احتراز وہ ہر قیمت پر ۔ اڈ (Id ) کو یہ پرواہ نہیں کے لذت و راحت کا زریعہ صحیح ہے یا غلط اسکو بس لذت و راحت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اور اگر باقی اجزاء کی فعالیت کی وجہ سے لذت و راحت کا حصول ممکن نہ ہو تو اڈ (Id ) لاشعوری تحریک کے تحت اس لذت کو خوابوں میں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اؤر عجب سپنوں کا سنسار تخلیق کر کے ایک برم (Illusion) کی دنیا تخلیق کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل ضرور کرلیتا ہے۔
ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے مطابق خواب مخفی آسودہ خواہشات کی جزوی تکميل کام کرتے ہیں ۔ خواب ہزاروں رنگ کی مختلف خواہشوں کی قبا اوڑھ کے خوابوں کے روپ میں ڈھلتے ہیں ۔ یہ ہماری خواہشات کو ایک غیر حقیقی دنیا کو حقیقت کا رنگ دے کر اس سے لذتیں اور مقاصد جزوی طور پر اخذ کر کے انسان کو سکون و قرار کی پر مسرت فضاؤں میں محوِ رقص رکھتے ہیں تو دوسری طرف انسان کے خوف و گھبراہٹ کے احساسات اور مخفی پریشانیوں کو اصلیت کا لبادہ پہنا کر خوابوں کی دنیا میں نمودار کرواتے ہیں ۔ تو کسی نہ کسی طرح انسان کے اندر مخفی اور مضمر ارمانوں کی تکمیل کرتے ہیں ۔ جیسے کنوارے کو شادی کے خواب اور
بلوغت کی عمر میں پہنچے ہوئے نوجوانوں کو جنسی عمل کے خواب آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کے ایک جوان لڑکے کو جب جنسی میلان کی ضرورت ہوتی ہے تو اسکی وجہ لاشعور میں سرگرم عمل قوت اڈ (Id) ہوتی ہے جسے حصولِ لذت سے سروکار ہوتا ھے اگر ذرائع لذت یا جنسی میلان وقت کے دائرے میں ممکن نہ ہو تو اس لاشعوری جذبے کا اظہار خوابوں میں جنسی میلان کی صورت میں ہوتا ھے۔یہی وجہ ہے کے جوان لوگوں کی راتیں اکثر جنسی میلانات کے سپنوں سے مزیّن ہوتی ہیں ۔ اسی طرح بہت سے ایسے جذبات کا اظہار خوابوں کی بجائے حقیقی زندگی میں ہوجاتا ہے جو انتہائی لغو اور بے بنیاد اور بے معنی سے لگتے ہیں لیکن اگر انہیں لآشعور یا اڈ (Id) کے تناظر میں دیکھا جائے تو بات منطقی و صاف ہوجاتی ہے ۔ نفسیاتی عارضے بھی دراصل اسی لاشعوری قوتوں کی دین ہوتے ہیں ۔ ماہرِ نفسیات ذہنی عارضوں سے نبٹنے کیلئے عموماً تحلیل النفسی کا اطلاق کر کے بیماری کے پس منظر کو کھنگالتے ہیں ۔اسی طرح بھوکوں کو کھانے کا خواب آنا بھی لاشعوری قوتوں کے تحت ہوتا ہے ۔ یوں تو لاشعور کا خارجی دنیا سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن عضویہ کا لاشعور سے ایک خاص رشتہ ہوتا ھے جو خالصتاً نیوروسائنسی موضوع ہے۔ جیسا کے اگر کسی کے پاؤں میں کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی گرم چیز لگ جائے تو یک دم پاؤں کا اٹھ جانا یا ہاتھ کا پیچھے آجانا لاشعوری قوتوں کے تحت ہوتا ہے جس میں سوچ کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔اڈ (Id) کے زیرِ اثر تشکیل پانے والی شخصیات جن میں اڈ (Id) زیادہ فعال اور مستعد ہوتی ہے عموماً غیر اخلاقی اور عصمت گری کے واقعات میں پیش پیش ہوتے ہیں وہ اپنے جذبہ لاشعوری کے تحت جنسی میلانات کیلئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں اسی طرح مجرموں میں اڈ (Id) کی قوت زیادہ متحرک ہوتی ھے جو ان سے مختلف غیر قانونی اور غیر اخلاقی اعمال کروا لیتی ہے۔ یا اس بات کو لکھنے کا درست طریقہ یہ ہوگا کے یہ اڈ (Id) کی ہی سرکش قوتیں ہوتی ہیں جو انسانوں کو مجرموں کے روپ میں بدل دیتی ہیں ۔

ایغو ( Ego ) :

اڈ ( Id ) کی سرکش قوتیں اگرچہ حصولِ راحت و لذت اور درد و الم سے احتراز و رفع کیلئے سرگرم عمل ہوکر عضو کو حصولِ مقاصد کیلیئے محرک کرتی رہتی ہیں لیکن یہ انسانی بقاء کی ضمانت کسی طور نہیں ہیں
فطرت نے اڈ (Id ) جیسی غیرمتغیر اور اندھی قوتوں کے سوا ایغو جیسی عرفانی قوتیں بھی مرکب ذہنِ انسانی میں مضمر رکھی ہیں ۔ ایغو حالات و واقعات اور علم و عرفان سے لیس قوت ہوتی ہے جو ہر چیز کا فیصلہ سوچ بچار اور تفکر و تعقل سے کرتی ہے جبکہ اڈ کا کام صرف حصولِ مقصد ہوتا ہے۔
ایغو ذہنِ انسانی میں قوتِ اڈ کے تحت تشکیل پانے والی خواہشات کو تھامنے اور موخر کرنے کا کام کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اڈ ( ID ) کا کام فطرتی خواہشات کا اظہار ہے جیسے کسی کو بھوک کا لگنا ہے اور وہ بھوکا شخص بھوک کو مٹانے کیلئے ہوٹل کی طرف چل پڑتا ھے جب ہوٹل پر پہنچتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہوٹل ابھی بند ہے جبکہ اسکو بھوک بھی مٹانی ہے اور حصولِ سکون کیلئے لاشعور میں چھپی اڈ ( ID ) اسکو مجبور کرے گی کے بس کھانے کا انتظام ہو اور اگر صرف یہی قوت غالب رھے تو بھوکا شخص ہوٹل توڑ کے اسکے اندر موجود کھانے سے حصولِ لذت و راحت حاصل کرے یا کسی سے خوراک چھین کر اپنی بھوک مٹآ لے یہی وہ مجرمانہ رویہ ہے جس کو تحریک اڈ ( ID ) دیتی ہے ۔ جبکہ یہاں ذہنِ انسانی میں موجود اعتدال پسند قوت اسکی بھوک کو موخر کردے گی اور خیالات کو جنم دے گی کے کچھ دیر انتظار کر لو یا کسی اور ہوٹل کا رخ کر لو۔ یعنی ایغو توقف و موخر کرکے معاملات کو پیچدہ ہونے سے بچاتی ہے ۔ ایغو منصوبہ بندی اور علم و حکمت کے ساتھ ساتھ مصلحتی رویوں کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ یہ جبلی خواہشات کو اس احسن طریقے سے ترویج و تکمیل کے ادوار سے گزارتی ہے کے اخلاقی ضابطے بھی پامال نہیں ہوتے اور خواہشات بھی مکمل ہوجاتی ہیں ۔ جنسی خواہشات کی تکمیل کیلیئے ایغو محبت کی چال چلتا ہے اور اس خوبصورتی سے نہ صرف محبوب کو دھؤکا دیتا ہے بلکہ از خود اس شخص کو بھی دھوکے میں رکھ کر جنسی خواہشات کی تکمیل کرتا ھے۔ ( محبت کے نظریے کا تفصیلی ذکر آگئے کیا جائے گا ) ۔ایغو ہمیشہ اڈ ( ID ) کے سرکش و باغی گھوڑوں پر لگام کا کام کرتی ہے اور اڈ ( ID ) کی اندھی خواہشات کا رخ متعین کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی اور معاملہ فہمی سے خواہشات کی تکمیل کا کام کرتی ہے۔ اڈ ( ID ) جنم سے لیکر موت تک غیر متبدل اور غیر متغیر رہتی ھے جبکہ ایغو میں بتدریج ارتقاء ہوتا رہتا ہے ۔

اڈ ( ID ) اور ایغو ( Ego ) جیسی قوتوں کے ساتھ ساتھ ذہنِ انسانی میں نشوونما پانے والی تیسری بڑی قوت جس کا کام اخلاقی اصولوں کو متعین کر کے اس پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو بچپن سے ذہنِ انسانی میں تشکیل پانا شروع کردیتی ہے جس کی تشکیل میں بڑا کردار اردگرد کے ماحول اور معاشرے کی روایات کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک مذہب کا ہوتا ہے۔ان دو قوتوں کی لڑائی میں ایغو ثالثی کا کردار ادا کر کے معاملات کو تعقل و تفہیم سے حل کرتی ہے۔
جزا و سزا کے معاشرتی و مذہبی تصورات اور صحیح و غلط کے نظریات سپر ایغو کی تشکیل میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔
بچپن میں والدین سے منتقل ہونے والا اچھائی و برائی کا تصور ذہنِ انسانی کا حصہ بن جاتا ھے نومولود گزرتی زندگی کے ساتھ ساتھ اچھائی برائی کے ان تصورات کو ذہن پر وارد کرلیتا ھے۔ یہ وہ تصورات و نظریات ہوتے ہیں عموماً جو برے کاموں سے منع اور اچھائی کی طرف راغب کرتے ہیں قطع نظر اسکے کے اچھائی و برائی کی تعریف ہر معاشرے اور ہر مذہب کی اپنی طے کردہ ہؤتی ہے۔ سپر ایغو اصل میں وہ آواز اور قوت ہوتی ہے جسے ضمیر کی آواز کہا جاتا ہے۔ جیسے مندرجہ بالا مثال میں بھوکے کو اپنی بھوک مٹانے کیلئے اگر کسی شخص سے روٹی چھین کر کھانی پڑ جائے تو اڈ Id کو اس سے کوئی سروکار نہیں جبکہ سپر ایغو اسکو اس مکروہ کام سے اسکو روکے گی اور کہے گی بھوک برداشت کر لو لیکن کسی سے چھیننا اچھی بات نہیں ۔ یہ قوت ہمیشہ اڈ Id کے متضاد سرگرم عمل رہتی ہے۔ اڈ Id اور سپر ایغو کے درمیان ہمیشہ ایک جنگ و جدل کا ماحول رہتا ہے۔
سپر ایغو کی تشکیل میں ہر وہ فرد جس کے زیرِ تحکم اور زیرِ اثر بچہ کسی نہ کسی دور میں رہا ہو قلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ اچھائی اور برائی کا جو تصور والدین , ماحول یا معاشرے سے ذہنِ انسانی میں راسخ ہوتا ہے ۔ اور والدین جن کاموں سے بچوں کو ٹوکتے ہیں یا عقائد سے پیوستہ تصورات جن چیزوں سے منع کرتے ہیں وہ تصورات و نظریات ذہنِ انسانی کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اب اگر والدین مختلف معاملات سے ٹوکنے کیلئے موجود ہیں یا نھیں اسکے ذہن میں موجود سپر ایغو کی قوت اسے برائی سے روکنے کیلیئے پیش پیش رہے گی۔ اور جب کبھی اڈ اسے برے کاموں کی طرف حصولِ لذت و راحت یا احتراز درد و الم کیلیئے مجبور کرے گی۔ سپر ایغو کی قوت اسے برے کام سے روکنے کیلیئے فعال ہوجائے گی۔
اڈ Id خواھشات کی فی الفور تکمیل اور اچھائی و برائی کی تمیز و تخصیص کے بغیر کرنے پر اصرار کرتی ہے جبکہ سپر ایغو ایسی جبلی خواہشات کی نفی کرتی ہے اور ایسے جذبات کو دبانے پر اکتفاء کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button