پاکستان

زندگی کے جواز تلاش نہیں کئے جاتے ‘ صرف زندہ رہا جاتا ھے

زندگی گُزارتے چلے جاؤ ، جواز مِل جائے گا ۔

اگر آپ کو کسی طرف سے کوئی مُحبت نہ مِلے تو مایوس نہ ھو ، آپ خود ھی کسی سے محبت کرو، کوئی باوفا نہ مِلے تو کسی بے وفا سے ہی سہی ۔

ّمُحبت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ھے ، زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا , بلکہ آپ نے زندگی کو ، زندہ رہنے کے لئے جواز دینا ھے ۔

آپ کو کوئی انسان نظر نہ آئے، تو کِسی پودے سے پیار کرؤ ، اس کی پرورش کو ،اسے آندھیوں سے بچاؤ ، طُوفانوں سے بچاؤ ، وحوش و طیور سے بچاؤ ، تیز دھوپ سے بچاؤ ، زیادہ بارشوں سے بچاؤ ، اس کو پالو ، پروان چڑھاؤ ۔

پھل کھانے والے کوئی اور ھوں ، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں ۔ کُچھ نہیں تو یہی درخت کسی مُسافر کو دو گھڑی سایہ ہی عطا کرئے گا ۔ کُچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گُذارنے کے کام آئے گی ۔

آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی، آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مِل جائے گا ۔

اگر آپ کی نگاہ بُلند ھونے سے قاصر ھے ، تو اپنے پاؤں کے پاس دیکھو ،
کوئی نہ کوئی چیز آپ کی توجہ کی مُحتاج ھو گی ۔ کُچھ نہیں تو مُحبت کی مَاری ھوئ بِلی ، کُتا ھی آپ کے لیئے زندہ رہنے کا جواز مہیا کرئے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button