صحت

خود پسندی یا نرگسیت کیا ھے

قدیم یونانی دیو مالا میں نارسی سس(Narcissus) نامی ایک کردار کا تذکرہ ملتا ہے

نارسی سس مردانہ حسن وجاہت کا نمونہ جوان رعنا تھا. نارسی سس کہیں جارہا تھا کہ راستے میں اسے شفاف پانی کا چشمہ نظر آیا. وہ جب پانی پینے جھکا تو سطح آب کے آئینے میں اسے اپنا عکس نظر آیا. یہ عکس اتنا خوبصورت اور سحر انگیز تھا کہ نارسی سس مبہوت ہوکر اسے دیکھتا رہ گیا. نہ اسے پانی پینے کا ہوش رہا نہ ہی وہاں سے ہٹنے کا اسے خیال آیا. وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ کہ چشمے میں کوئی اور شخص ہے جو اسے مسلسل دیکھ رہا ہے. نارسی سس وہیں بیٹھا رہا. اس کو اپنے ہی حسن و جمال کے سحر نے اس طرح جکڑ لیا کہ وہ آخر وہیں بیٹھے بیٹھے دم تور گیا. پھر اس کا جسم ایک نرگس کے پودے میں بدل گیا جس کا پھول سطح آب پر جھکا ہوا تھا.

فرائڈ نے اس قصہ کی مناسبت سے نرگسیت کے ذہنی مرض (Narcissism) کی تشریح کی ہے. نرگسیت کا مریض وہ ہے جو اپنی ذات کی محبت میں گرفتار ہو. اس اصطلاح کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے. جو مرد اور عورت آئینے میں اپنا عکس دیکھ دیکھ کر خوش ہو اور اپنے خدوخال کی تعریفیں کرکے جنسی آسودگی حاصل کرے، نرگسی کہلائے گا. فرائڈ کے نزدیک حب ذات اور خود ستائشی کا جذبہ بھی نرگسیت کی ہلکی شکل ہے. لیکن اپنی شدت میں یہ رحجان انشقاق ذہنی (Schizophrenia) کی صورت اختیار کر لیتا ہے. انشقاق ذہنی کا مریض دنیاوی معاملات میں دلچسپی کھو دیتا ہے. اسے نہ کسی سے لگاؤ رہتا ہے نہ ہی اردگرد کے حالات و واقعات سے اس کا کوئی ذہنی و جذباتی تعلق رہتا ہے. وہ خارجی ماحول سے کٹ کر اپنے ہی افکار و خیالات میں مگن ہو جاتا ہے. بقول فرائڈ ایسے شخص کی لبید و بیرونی دنیا سے ہٹ کر خود اپنی ذات پر مرکوز یا منتقل ہو جاتی ہے. اس کے اسباب کئی ہوسکتے ہیں. مثلاً ناکام عشق، نامساعد معاشی و سماجی حالات، کسی فرد یا افراد کی بے وفائی یا دھوکہ دہی وغیرہ. انشقاقِ ذہنی کے مرض میں نرگسیت کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اسے اختلالِ ذہنی (Psychosis) کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا سکتا ہے. اکثر لوگوں میں کسی حد تک نرگسی رحجانات ہوتے ہیں تاہم انھیں نفسیاتی مریض نہیں کہا جاتا. جیسے عاشق کی نظر میں محبوبہ میں کوئی خامی اور سقم تلاش کرنے سے قاصر رہتی ہے، ویسے ہی نرگسی رحجان رکھنے والا اپنے عیوب اور خامیوں کا صحیح طرح اندازہ نہیں لگا سکتا. فرائڈ کہتا ہے کہ کسی حد تک ہم سب میں نرگسیت موجود ہوتی ہے لیکن جب کوئی شخص ہر وقت اپنی تعریفوں کے پل باندھتا رہے، اپنی ذات کے بارے میں ڈینگیں مارتا رہے دوسروں کے جذبات و احساسات کا کوئی خیال نہ رکھے تو وہ شدید قسم کی نرگسیت میں مبتلا ہوتا ہے اور مریض کہلاتا ہے.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button