پاکستان

ملک کا نظام بدلنے کےلیے کیا ضروری ھے

یہاں لوگ نظام کو بدلنا چاہتے ھے۔ مگر خود کو نہیں بدلنا چاہتے۔

موجودہ ہر بندہ یہ چاہتا ھے کہ نظام کو بدلا جاے ۔ اور ہر دور کے وزیراعظم کو برا کہاجاتا ھے۔ ۔ اب وہ دور چاہیے نواز شریف کا ھو زرادری کا ھو یا عمران خان کا ھو۔ پہلے اس کو لے کر آتے ھے۔ پھر اس کی برای کے پل باندھنتے ھے۔ ایسا کیوں ھے۔مسلہ یہ ھے کہ لوگ اپنے آپ کو بدلنا نہیں چاہتے۔ جسطرع کےلوگ ھو گے اللہ ان پر ویسا ہی حکمران مسلط کردے گا۔ اس لیے کوی بھی اپنے آپ کو ٹھیک کرنا نہیں چاہتا عام عوام میں سے۔

تاجر برادری میں کتنے لوگ ایمان دار ھے۔ جومکمل اسلام پر چل کر چیز فروخت کررہے ھے۔ کتنے لوگ ھے جو ملاوٹ دھوکا فراڈ ٢ نمبری نہیں کرتے۔ کتنے افراد ھے عام عوام میں سے جومکمل اسلامی طریقعے سے اشیا کو فروخت کرتے ھے۔ عام عوام میں کتنے افراد ھے جن کے اعمال اچھے ھے۔ ہر بندہ یہاں پر دھوکا فراڈ میں لگا ھوا ھے۔ اور بات کرتے ھے۔ کہ مہنگای ھے یہ نہیں ھے وہ نہیں۔ عمران غلط ھے۔

پہلےاپنے آپ کو دیکھے کہ ہم خود کیا ھے۔ ہم خود اپنے ملک کے ساتھ کتنے مخلص ھے۔ پہلے دیکھے ایک عام بندہ اپنے کاروبار میں کتنی ایمانداری دکھا رہا ھے۔ ہم دیکھے کہ ہم کتنا رولز کو قانون کو مانتے ھے۔ عام عوام میں سے کتنے لوگ ھے جو دودھ کے دلھے ھے۔ بتاے۔

پھر جناب رونے روتے ھے مر گےلٹ گے۔ پہلے اپنے گربیانوں میں ہم سب کو دیکھنا چاہے کہ ہم خود کیا ھے۔ ہم جب اپنے آپ کونہیں بدلنا چاہتے تو نظام کو کیسے بدلے گے۔ نا ہمارے اندر احساس ھے۔ نا انسانیت ھے۔ اور ہم ہر دوسرے کو دھوکا دینے میں پہل کہتے ھے۔ اور کہتے ھے کہ وزیراعظم برا ھے۔

آج مہنگای کا رونا رونے والے یہ بتاے عام عوام کتنے لوگ بھوک سے مر گے یا پٹرول مہنگا ھوا کتنے لوگوں نے سڑکوں پر گاڑیاں چلانا چھوڑ دٕی۔ بتاے۔

نظام چل رہا ھے کیونکہ اللہ نے چلانا ھے۔ عام عوام کو دیکھنا چاہیے کہ اگر ایسا سسٹم ھے کہ گزراہ مشکل ھے تو اپنے عمال درست کرے۔ اپنے آپ کو ٹھیک کرے۔ ہم جب تک اپنے اندر چھپی برای کو نہیں ختم کرے گے ۔ تب تک کچھ ٹھیک نہیں ھوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button