بلاگزپاکستان

بچوں کی نشورنما کے لیے کیا چیز ضروری ھے

ذہنی امراض کیوں لاحق ھوتے ھے۔
سلسلہ بچوں کے بلوغت کے نفسیاتی مساہل۔

ہماری گفتگو کا سلسلہ چل رہا ہے ذہنی صحت کے حوالے سے اور پچھلی ہماری گفتگو کا موضوع تھا بلوغت کے نفسیاتی مسائل پہلے ہم نے بات کی تھی۔کہ بچوںکہ بچوں کو آگاہی بہت ضروری ہے جب وہ بلوغت میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں ان کی رہنمائی ان کو واضح علم ہونا بہت ضروری ہے بلوغت کے بارے میں اور یہ والدین اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے۔ابھی ہم جسمانی اور بلوغت کے جو اثرات نفسیاتی ہوتے ہیں اس پر بات کرتے ہیں توبچہ جب بالغ ہو جاتا ہے تو اس میں ایک تبدیلی پیدا ھوتی ھے۔

اسے سوچ میں تبدیلی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور گائیڈ بھی کیا جاتا ہے مثال کے طور پر لڑکی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اب اسے پردہ کرنا ہے بڑوں کی طرع ۔ پانچ کلاس میں بھی یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مطابق جس میں آپ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں لیکن واضح تبدیلی کیا ھے۔ لڑکے جب بالغ ہو جاتے ہیں تو ان پر بڑے ہونے کے ساتھ پابندیاں کم ہو جاتی ہیں وہ باہر زیادہ وقت گزر سکتے ہیں دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں اکیلے باہر آ جا سکتے ہیں ان کے اوپر پابندیاں کم ہوتی چلی جاتی ہیں اور ہمارے معاشرے کے بڑے حصے میں لوگ کیونکہ مسلمان ہیں اسلام پر ہیں تو لوگ اس بات کو نہیں مانتے .

اب جب وہ دور کی تبدیلی آتی ہے اب اس بچی کا ذہن جو ہے وہ بچوں والا ہوتا ہے اور اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ بڑوں کی طرح رویہ اختیار کریں لیکن لڑکا ہے جو جب بالغ ہوتا ہے بڑھتا ہے اس کا قد بڑھ جاتا ہے لیکن وہ اعتماد بعض اوقات ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں بڑا ہو گیا ہوں اور مجھے ساری باتوں کا پتہ چل گیا ہے اب میں مکمل خود مختار ہو اور یہ چیز آتی ہے مغربی معاشرے سے کہ وہاں پر اس طرح کا جو سسٹم ہے وہ ہوتا ہے۔
مغربی معاشرہ ایک آزاد معاشرہ ہے وہاں بچوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔یا ان کو کہا جائے یہ کہ آپ بالغ ہو گئے ہیں تو اب بھی والدین کی رہنمائی پر چلنا ہے وہاں پر ایسا نہٕں ہے اب وہ چیز ہمارے معاشرے میں نہیں ہے لیکن کچھ اسکول ایسے ہیں جو اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ فارن تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں جہاں پر ماحول بھی وہ مغربی معاشرے کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں وہاں پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ تمھاری ذات بہت اہم ہیں اور تم نے اپنی مرضی سے جو تم چاہو کرو تم نے کرنا ہے یہ تمہارا حق ہے یہ اس طرح کی سوچ دی جاتی ہے ان سکولوں میں ۔ لیکن یہ چیز ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں ھے۔

یہ اچھی بات ہے لڑکوں میں خود اعتمادی بہت ضروری ہے کہ اکیلے بازار چلے جائیں چیز لے آئیں اور اکیلے کام کرے جہاں بچوں کو بہت زیادہ وہ کیا جاتا ہے کہ باہر نہیں جانا سڑک پر نہیں جانا یہ نہیں کرنا وہ نہیں کرنا وہ چیز بھی بچوں کے لئے اتنا فائدہ مند نہیں ہے تو والدین کو میانہ روی کا راستہ اختیار کرنا چاہیےکہ بچے کو اعتماد بھی دیا جائےگائیڈ بھی کیا جائے اپنی نگرانی میں بھی رکھا جائے خاص طور پر لڑکوں کے لئے لڑکوں کے لئے یہ چیز بہت ضروری ہو جاتی ہے کہ ان کے دوستوں سے والدین ضرور ملے دوستوں کے ساتھ تعارف ہوں دوستوں کے والدین سے بھی ملیں گے تاکہ پتہ چلے جو بچے ہمارے بچوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کا بیک گراؤنڈ کیا ہے والدین کو خاص طور پر بچوں کے معاملات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ بچہ گیم کے لیے کہا جاتا ہے کس سے ملتا ہے۔

والد کو چاہیے کہ اس پر ضرور نظر رکھے دوسراجو اکیلے سیر کرنے جو 14 سے 15 سال کے بچے چلے جاتے ہیں مل کر یا ڈرائیونگ بچے کرنے لگ جاتے ہیں تو اس پر والدین کو بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بچے والدین سے چھپ کر دوستوں کے ساتھ مل کر سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں تو والدین کا یہ کام ہے کہ وہ بچوں کی باہر کے معاملات پر نظر رکھے اور دیکھیں گے ان کے بچے کس طرح کئی معاملات میں ملوث ہیں

ان شاء اللہ اسی سلسلے پر آگے بات ھوگی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button