کاروبار

ٹیکس گوشواروں کی تاریخ میں توسیع نہ ہونے سے لاکھوں ٹیکس دہندگان متاثرہوں گے

ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع سے انکار کردیا ہے، جس کے سبب لاکھوں ٹیکس دہندگان کے گوشوارے جمع ہونے سے رہ سکتے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی طرف سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع نہ ہونے باعث لاکھوں ٹیکس دہندگان کا انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے سے محروم رہنے کا خدشہ ہ

ایف بی آر کو بدھ کی رات گئے تک کے مجموعی طور پر 16لاکھ ٹیکس دہندگان کی جانب سےانکم ٹیکس گوشوار ے موصول ہوئے ہیں جب کہ گذشتہ مالی سال 31 لاکھ لوگوں کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے تھے۔
ایف بی آر کو رواں ماہ 29 ستمبر کی رات تک 496 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ہوئی ہے جب کہ رواں ماہ کے لیے مقرر کردہ 520 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے ایف بی آر کو آج(30 ستمبر) تک 24 ارب روپے کا مزید ریونیو اکٹھا کرنا ہوگا۔
اس بارے میں ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی 2021 سے 29 ستمبر 2021 کی رات تک مجموعی طور پر 1353 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا ہے جو کہ 1211 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلہ میں 132 ارب روپے زیادہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے دوماہ کے دوران نہ صرف ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل ہوئے بلکہ اہداف سے کہیں زیادہ وصولیاں کی گئی ہیں اور توقع ہے کہ رواں ماہ(ستمبر) کا ہدف بھی نہ صرف حاصل ہوجائے گا، بلکہ وصولیاں ہدف سے تجاوز کرجائیں گی کیونکہ ٹیکس دہندگان کی بڑی تعداد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروارہی ہے۔

جب کہ آج ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں ریٹرنز کے ساتھ بھاری ریونیو بھی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے سال انکم ٹیکس ریٹرن فارم دیر سے جاری ہونے کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کے لیے گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں بار بار توسیع کی جاتی رہی تھی مگر اس بار ریٹرن فارم بروقت جاری کردیا گیا تھا اس لیے 30 ستمبر کی مقررہ آخری تاریخ میں توسیع نہیں کی جارہی، البتہ ہارڈ شپ کیسوں میں ٹیکس دہندگان متعلقہ کمشنرز ان لینڈریونیو سے تاریخ میں توسیع کرواسکیں گے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تاریخ میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں ایف بی آر کوامسال پچھلے سال کے مقابلے میں بہت کم تعداد میں انکم ٹیکس گوشوارے وصول ہوں گے اورٹیکس دہندگان کو دیر سے ریٹرن جمع کرانے پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

جو لوگ ریٹرن جمع نہیں کروائیں گے وہ ایکٹو ٹیکس پیئرلسٹ سے نکل جائیں گے جس پر انہیں نان فائلر کے طور پر نہ صرف زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا بلکہ وہ نان فائلر کی طرح دیگر سہولیات سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button