بلاگز

نوجوانوں کے بڑھتے نفسیاتی مساہل

موجودہ سوشل میڈیا کے زیادہ استمال سے نوجوان نسل میں نفسیاتی مساہل بڑھنے لگے۔ جن سے نوجوان نسل کی ذہنی نشورنما تباہ ھونے کا خطرہ

بلوغت کے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے خاص طور پر یہ موجودہ دور جو انٹرنیٹ کا دور ہے سوشل میڈیا کا بہت استعمال ہے اس میں اکثر سب سے زیادہ جو اثر انداز ہورہے ہیں وہ نوجوان طبقہ اور بچے ہیں 13 سے 18 سال کی عمر کے بچے بہت حساس عمر ہوتی ہے اس عمر میں بچے اپنے مستقبل کی بنیادیں رکھنا ہوتی ہیں ۔کہ اس نے کس پروفیشن میں جانا ہے اس نے کس طرح زندگی گزارنی ہے اس کی شخصیت بن رہی ھوتی ھے۔ اس وقت کے اندر دیکھنا ہوتا ہے پچھلی گفتگو میں یہی بتایا تھا کہ اس سٹیج کے اوپر صحیح معلومات اور گائیڈ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے پھر اس بچے کی نگرانی بہت ضروری ہوتی ہے اور دیکھا جائے کہ اس کا کہا میل جول ہے اور اس کی جو سرگرمیاں ہے اس میں حصہ لیا جائے تاکہ پوری طرح شخصیت آپ کے سامنے ہو تو اس سے آگے گفتگو کرتے ہیں تو اس میں جو ہارمونز ہیں دونوں لڑکے اور لڑکیوں میں وہاں دیکھا جائے گا۔انزائٹی پیدا ہوجاتی ہے تو وہاں دیکھا جائے گا کہ جو نوجوان ہیں لڑکے ہیں تو ان میں غصہ آجاتا ہے وہ ایگ ریشن کی وجہ یہ ہے کہ قد بڑھ جاتا ہے چہرے پر ہلکی سی مونچھیں آ گئی ہر بندہ کہنے لگ جاتا ہے بڑے ہو گئے ہو قد بھی بڑھ گیا ہے تو بچے جو ہیں کچھ زیادہ ہی پراعتماد ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو زیادہ بڑا اور طاقتور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر ایک ایگ رشین آ جاتی ہے وہ جو بنیادی اصول ہے کہ بیٹا جب باپ کے برابر ہو جاتا ہے تو پھر اس کے اوپر ہاتھ نہ اٹھایا جائے وہ اسی لیے ہے کہ بچوں میں ایک ایگ ریشن ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو چھوٹا نہیں بڑا سمجھتے ہیں اور ہم اسے بولیں گے اگر کہ تم چھوٹٕے ہو ابھی اور وہ چیز کا ٹکراؤ ہو جائے گا اور وہ سمجھے گا نہیں میرے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور مجھے نہیں سمجھا جا رہا۔

ان کے پاس تجربہ نہیں ہوتا صرف ان کے پاس جذبات کا بہاؤ ایک انرجی ہوتی ہے اس کی اصلاح بہت ضروری ہوتی ہے اگر ہم اس کو صحیح طرف گائیڈ نہیں کریں گے تو اس کے مسائل پیدا ہوں گے اور بچے کی شخصیت اور خاندان اور باہر کے تعلقات بھی خراب ہو جائیں گے تو بچے میں اور نوجوانوں میں انرجی ہوتی ہے ہارمونس کی وجہ سے مسلز بن رہے ہوتے ہیں اس انرجی کو ضرورت ہوتی ہے کہ بچے کو گیمز کی طرف لایا جائے بچوں میں نوجوانوں میں جو مسائل ہوتے ہیں پچاس فصید اس کا حل گیمز میں ہوتا ہے گیمز جو ہے وہ انرجی جو ھے وہ بدل جائے گی اِس کی وجہ سے خرکات و سکنات میں تبدیل ہو جائے گی۔

دماغ اس سے پر سکون ہوجاتا ہے کہ جب آپ گیم کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کا صرف ایک چیز پر فوکس ہوتا ہے کہ میں نے یہاں گیند کرنی ہے تمام باقی چیزیں دماغ سے ہٹ جاتی ھے اور پرسکون ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ کی توجہ صرف ایک چیز کے اوپر ہوتی ہے پھر اس کا اثر مثبت جسم پر ہوتا ہے ایسے کیمیکلز افیکٹ ہوتے ہیں اور وہ بچے کو دماغی طور پر پرسکون کرتے ہیں اور ساتھ ہی بچے کی تربیت بھی ہو رہی ہوتی ہے ٹیم ورک اس میں پیدا ہوتا ہے جیت کو کیسے سنبھالنا ہے ہار کو کیسے سنبھالنا ہے۔

برداشت کیسے کرنا ہے کیونکہ زندگی میں مسلسل ہار جیت ہوتی رہتی ہے بہت سی چیزیں آپ کے مترادف اور مخالف ہوتی ہیں تو یہ چیز بہت ضروری ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے ہمارے ہاں صرف ایک ہی چیز پر زور دیا ہوتا ہے بچہ اسکول گیا واپس آیا کھانا کھایا آدھے گھنٹے کے بعد وہ ٹیوشن کے لئے چل پڑا وہاں سے واپس آیا تھکا ہوا پھر ہوم ورک کیا پھر سو گیا اور پھر امتحان آگئے ٹیسٹ آ گئے ۔ بچے کے اوپر اتنا سٹریس پیدا کر دیتی ہیں۔ یہ چزیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکوں میں خاص طور پر وہ چیز صرف ایگ ریشن میں ہی نکلے گی۔
اس لیے ضروری ہے کہ اسکولوں کے حوالے سے بھی والدین جو ہیں وہ ویسے ہی کھیل کو ڈس کرج کر رہے ہوتے ہیں کہ کھیلنا نہیں ہےبہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں جو پڑھائی میں اتنے اچھے نہیں ہوتے لیکن ان کا گیم میں اچھا مستقبل بن سکتا ہے لیکن جو ہو رہا ہے وہ بچوں کی شخصیت پر برا اثر پڑتا ہے جس نے نمبر لینے ہیں اس نے گھر پر بھی نمبر لینے ھے۔اور جس نے نہیں لینے اس نے کیڈمی جا کر بھی نمبر نہیں لینے بلوغت کے مسائل کا حل یہ ہے کہ جو بچے کی گمیز کریں ان میں یہ مسائل کم ہوتے ہیں اس لیے بچوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کی گیمز پر توجہ والدین کو دینی چاہیے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button