بلاگز

حالات حاضرہ اور ڈاکٹر ساجد رحیم صاحب کی شاعری

پچھلے کچھ دنوں سے قومی اور بین الاقوامی منظر نامے پہ بہت ساری سنسنی خیز خبریں گردش کر رہی ہیں ان میں سے چند کا ذکر کرنا چاہوں گا پھر اس پہ کچھ تجزیہ بھی۔ میرے تجزیے سے اختلاف کرنے کا حق قارئین محفوظ رکھتے ہیں۔
چلتے ہیں بین الاقوامی خبروں کی جانب۔

خبر: اقوام متحدہ میں خطاب، عمران خان سب پہ بازی لے گئے۔ ہم نیوز
تجزیہ: بلا شبہ عمران خان کو بین الاقوامی پزیرائی حاصل ہے جو بنا کسی ڈھکی چھپی کے اپنی بات دنیا کے سامنے رکھنے کے قائل ہیں۔ انہیں ایسا کرنے پہ بعض اوقات تنقید بھی سہنی پڑتی ہے لیکن وہ ہمیشہ اپنا مؤقف ڈنکے کی چوٹ پہ رکھنا پسند کرتے ہیں۔ 
چند دن پہلے جب عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، اسلامو فوبیا، مسئلہ کشمیر و فلسطین، افغانستان اور دیگر اہم امور پہ بہترین گفتگو فرما رہے تھے تو اسی دوران پاکستان میں موجود کچھ عناصر عمران خان کی تقریر میں سے کچھ باتیں چن کر انہیں تاریخی حقائق کے خلاف پیش کرتے ہوئے حسب ماضی تنقید کرتے رہے جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ریگن کا حوالہ دیا گیا جس میں اس نے افغان مجاہدین کو اپنے بانیان آزادی کے مترادف گردانہ۔ اس بے جا تنقید نے کئی دن تک سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی لیکن ہمارے نام نہاد لبرل آج بھی، سچ سامنے آنے کے بعد بھی، میں نہ مانوں کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ اس میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بات مسئلہ کشمیر، ناموس رسالت، ماحولیات، غربت اور کاروبار سے زیادہ اہم تھی؟ اگر نہیں تو عمران خان کی وہ ساری باتیں نظر انداز کر کے صرف ایک مدعا زیر بحث لا کر کچھ لوگ دنیا کو کیا بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا کسی مسئلے پہ اتفاق نہیں؟ جناب! عرض یہ ہے کہ اگر آپ کو عمران خان نہیں پسند تو آپ کی اپنی مرضی لیکن خدارا پاکستان کی عزت کا کچھ خیال فرمائیں، وہ ہمارے لئے، ہمارے مستقبل کی وہ جنگ لڑ رہا ہے جس کا جذبہ آج سے پہلے کسی حکمران میں پیدا نہ ہو سکا۔

خبر: نیوزی لینڈ اور انگلستان نے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے معذرت کر لی۔
تجزیہ: نہایت ہی افسوسناک خبریں ہیں۔ پاکستان نے پچھلے کئی سالوں میں بے پناہ مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں تبھی جا کے پاکستان میں امن بحال ہوا ہے۔ اس دوران نیوزی لینڈ کا یوں چھوڑ کے چلے جانا وہ بھی مبینہ طور پر ہندوستان کے کسی شخص کی افواہ کی بنیاد پر، نہایت غیر ذمہ دارانہ ‏اور ان پروفیشنل طریقہ کار ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی قریب میں جب نیوزیلینڈ میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے تو پاکستان کرکٹ ٹیم وہاں پہنچی اور وعدہ پورا کیا لیکن نیوزی لینڈ کو وہ دن بھی یاد نہ رہے۔ اسی طرح جب انگلستان نے اپنا دورہ منسوخ کیا تو نا صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی کرکٹرز نے، بھی جن میں انگلستان کے سابق کھلاڑی بھی شامل ہیں، انگلستان کرکٹ بورڈ کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور انگلستان کرکٹ بورڈ کو احسان فراموش بھی کہا۔ دوسری طرف پاکستان میں موجود کچھ سیاسی عناصر جن کی سیاست صرف عمران خان کی ذاتیات تک محدود رہ گئی ہے انہوں نے اس بات کو موقع غنیمت جانتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دیتے رہے۔ اور ان کی باتیں دشمن ملک کی میڈیا کی زینت بنی رہیں۔

خبر: نازیبا ویڈیو کا معاملہ، ن لیگ کے سابق گورنر سندھ اور مریم صفدر، نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر کے خلاف مقدمہ کی درخواست دائر۔ ایکسپریس نیوز
تجزیہ: کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ن لیگ کے سابق گورنر سندھ اور موجودہ ترجمان مریم صفد و نواز شریف، محمد زبیر کی ایک نازیبا ویڈیو منظر عام پہ آئی جس میں موصوف کراچی کے اواری ہوٹل اور گورنر ہاؤس میں کم و بیش دس خواتین کے ساتھ فحش حرکات کرتے ہوئے دکھائے گئے۔ ویڈیو میں کہا گیا کہ زیر عمر نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر انکی عزتیں لوٹیں۔ ایک طرف موصوف نے ایک ٹویٹ میں ان ویڈیوز کو جعلی قرار دے کے اپنے خلاف پراپیگنڈا قرار دے دیا تو دوسری طرف مریم صفدر صاحبہ نے کہا کہ فحش ویڈیوز زبیر عمر کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ اب تک میرے ترجمان ہیں۔ قارئین اس تناظر میں صحافی برادری کے کئی نام جو مبینہ طور پہ ن لیگ کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ان ویڈیوز کو جعلی قرار دے چکے ہیں۔
اس ضمن میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہی ن لیگ اور صحافی کچھ عرصہ پہلے عائشہ گلالائی کی طرف سے وزیراعظم پر لگائے گئے فحش میسجز کے الزامات کی بنیاد پر عمران خان سے معافیوں کا مطالبہ کرتے رہے اور ان سے استعفی تک لینے کے لئے بضد تھے۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس معاملے کی چھان بین ہونی چاہیئے۔ اس کے بعد ایک امریکی خاتون نے بھی جب پی پی پی کے سابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ پر زیادتی کے الزامات لگائے تو بجائے وزراء سے پوچھنے کے، یہی میڈیا کے لوگ اس خاتون پر الزامات لگانا شروع ہو گئے تھے۔

خبریں اور بھی بہت ہیں لیکن گفتگو طویل ہو جائے گی۔ ان کا ذکر پھر سہی۔ جیسے ہمارے ہائی سکول کے ایک استاد جن کا نام "بقا محمد” ہے کہا کرتے تھے "بقا باقی تو وفا باقی”

اب آخر میں ہمارے بہت ہی پیارے دوست ڈاکٹر ساجد رحیم صاحب کی ایک غزل پیش خدمت ہے 

یہ ڈر ہے رو نہ پڑیں اپنا دکھ چھپاتے ہوئے 
زمین ہنستے ہوئے ،آسماں ہنساتے ہوئے 

تمام عمر وہ دل کے قریب رہتا ہے 
جو مڑ کے دیکھ لے اک بار دور جاتے ہوئے 

یہ ہونٹ اب بھی ترا نام لینے لگتے ہیں 
کبھی کبھار کسی اور کو بلاتے ہوئے 

کہانی کار بھی آخر کو داستان ہوا 
‘کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے’ 

میں ظلم سہتے ہوئے بھی حواس و ہوش میں تھا 
مگر جو حال ہوا ہے تجھے بتاتے ہوئے 

یہ لگ رہا ہے تری سمت بھول بیٹھیں گے 
ہم ایک ساتھ کئی راستے بناتے ہوئے 

اب آخر میں مطلع اور ایک شعر۔
‏دیکھنے  وہ  بھی  سرِ  بام   تو   آ   جائے  گا
یہ  مرا  خبط   کسی  کام    تو   آ   جائے  گا

دل بھی اک صبح کا بھولا ہوا بچہ ہی تو ہے
ہو گئی راہ میں جب شام تو آ جا ئے گا
اللہ نگہبان۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button