بلاگز

تاریخ کیا ارض مقدس کی۔ اور راز کیا ھے

شہنشاہ ایران خسرو ثانیہ نے چھے سو چودہ میں یوروشلم پر قبضہ کرلیا لیکن اس کا قبضہ چودہ سال سے زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہ سکا اور پھر چھ سو اٹھائیس میں باز نطینی شہنشاہ ہر قلیس نےقبضہ کر لیا

صرف 9 سال تک یہ شہر بازطینی علمداری میں رہا اور 637 میں خلیفہ اسلام عمر نے اسے فتح کر لیا 685 سے 691 کے دوران اموی خلیفہ عبد المالک نے یہاں ایک مقدس عمارت تعمیر کرائی جس کا نام بیت المقدس سے جانا جاتا ہے ۔
یوروشلم اہل کتاب یعنی تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے ہمیشہ سے ایک مقدس شہر رہا ہے مسلمان سبھی انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں چنانچہ کوئی بھی ایسا مقام کسی نبی سے تعلق رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے عہد نامہ عتیق کے مطابق اسے حضرت سلیمان سے ہے چنانچہ اس کی مذہبی حیثیت ہر طرح کے شک و شبے سے بالا تر ہے عیسائی بھی حضرت سلیمان پر ایمان رکھتے ہیں چنانچہ حضرت عیسی کی طرح حضرت سلیمان کا احترام کرتے ہیں لیکن یوروشلم کے تقدس میں اس لیے اہم تر ہےحضرت عیسی یہاں پیدا ہوئے تھے۔
مسلمانوں نے یورشلم میں اپنا اقتدار قائم کرنے کے بعد تینوں مذاہب کے لئے اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی مذہب کے زائرین کی یہاں آمد پر پابندی عائد نہ کی اورجا رہی یوں یہ سلسلہ صدیوں رہا اور عیسای۔یہودی زائرین کی آمد و رفت کا آزادی سے جاری رہییہ معمول صدیوں تک برقرار رہا یہاں تک کہ دس سو اکتر میں ترک سلجوقوں نے یوروشلم کا منصب سنبھال لیا ۔
سوال یہ نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دس سو پچانوے میں پوپ اربن دوئم نے عیسائی یورپ پر زور دیا تھا کہ ارض مقدس کو کافر مسلمانوں سے چھین لیا جائے پوپ اربن کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے ہزاروں مسیحی بہن بھائیوں کا قتل کر دیا ہے دنیا کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور یورپیوں کے لئے رہنے اور حکومت کرنے کی جگہ تنگ کردی ہے انقلابی مسیحی مورخین کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کے قتل کے بارے میں پوپ اربن کا دعوی جھوٹ کا پلندہ تھا۔

مسلمان ناقابل تسخیر اور اپنے خدا کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار کیوں رہتے ہیں یہ سوال پوپ اربن اور اس کے ہم عصر عماہدین کے لیے اہم تھا۔ عیسای اس طرح کیوں نہیں ہیں یہ بہت بڑا سوال اربن اور اس کے ہم عصر دیگر مغربی ممالک تین کے سامنے جواب طلب تھا اور اس سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان تھا مسلمان لڑائی میں اپنی جانیں دینے کے لیے اس لیے تیار رہتے ہیں کہ انہیں موت کے بعد جنت کی زندگی کا وعدہ دیا گیا ہے عیسائیوں کے لیے ایسی کونسی بشارت ہو کہ وہ بھی صلیب کے لیے جانے دینے پر تیار ہو سکیں۔

چنانچہ ایک جزا کا وعدہ واضح کیا گیا جو لوگ صلیب کے کاز کے لئے لڑیں گے انکے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور ان کے لیے نجات یقینی ہوگئی پوپ اربن نے یہ وعدہ اپنی مذہبی حیثیت کی بنیاد پر کیا جو بنیادی طور پر بائبل کی تعلیمات کے منافی تھا بائبل کے مطابق ایسے آدم کے بیٹوں کے گناہوں کے کفارے میں اپنا خون حضرت عیسی پہلے سے بہا چکے ہیں یہ وعدہ اعتراف گناہ کے تصور کو بھی ختم کرتا تھا۔

بہرحال اس وعدے نے اپنا اثر دکھایا اور سب سے پہلے پوپ کی دعوت پر لبیک کہنے والا ایک جنونی گروں غریب مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھا جو ہنگری سے قسطنطینہ اور ایشیائے کوچک میں اتر آیا یہ جنگجو دراصل غیر منظم شہری تھے جنہوں نے ہنگری کے سپاہیوں کو ختم کیا اور باقی کا صفایا ترکوں نے کیا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button