بلاگز

میت والا گھر اور ہمارا رویہ

دین اسلام کے دیگر عقائد کی طرح یہ بھی عقیدہ اٹل ہے کہ جو کوئی بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے آخری سفر پر ہر حال میں روانہ ہونا ہے۔ کب اور کیسے یہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر منحصر ہے اور ہر باایمان مسلمان پر یہ ماننا فرض ہے ۔ انسانی موت اور اس سے جڑے دینی رسومات اور معاشرتی رواج ہر دین میں الگ تصور کے حامل ہیں مگر دین اسلام وہ واحد دین ہے جس میں مرنے اور اس کے بعد اپنائی جانے والی رسومات جامع اور بہترین ہیں۔ میت کی خبر سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا مرنے کے فوراً بعد میت کا چہرہ ڈھانپ دینا، غسل کا احتمام ، کفن کے لیے سفید کپڑے کا حکم ، میت کے ادب و احترام کا حکم ، خواتین کی میت کے لیے پردے کے خصوصی احکامات ، منہ پر یا سر و سینے پر ہاتھ مار مار کر رونے کی ممانعت ، قبر کا انتظام ، نماز جنازہ ، پھر انتہائی احتیاط و احترام سے قبر میں اتارنے کا عمل ، میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا اور ایصال ثواب کا احتمام وغیرہ یہ وہ بہترین معمالات ہیں جو ایک مسلمان مرنے والے شخص کے لیے کیے جاتے ہیں مگر دین سے دوری اور جہالت کے باعث آج مسلمانوں نے میت والے گھر میں جا کر جو خرافات پھیلانا شروع کی ہیں وہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں زیب نہیں دیتیں ۔کسی بھی فوتگی والے گھر کا حال ملاحظہ فرما لیں کم و بیش ایک جیسا ہی ہے۔ وہاں جا کر دوست و احباب اور رشتے دار جو دینی اور اخلاقی حدود پھلانگتے ہیں اس کا نقشہ کھنچنا میرے بس کی بات نہیں ۔۔۔ ہم بطور مسلمان کس طرف جا رہے ہیں ؟ ہمارے لیے ہماری سوچ، زات برادری اور آباؤ اجداد کے طریقے دین اسلام کے حکم سے زیادہ ضروری ہیں۔یہ تو زمانہ جہالت والا حال ہوا نہ کہ جب ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کا دین نہیں چھوڑنگے ۔۔۔

اہل ایمان اور با شعور دین کو سمجھنے والے ان باتوں کو سمجھیں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی سمجھائیں ۔۔۔ آپ کسی کی میت میں شرکت کرنے آئے ہیں اپنے مسلمان بھائی کا غم ہلکا کرنے ۔۔۔ میت میں شریک ہونے کے لیے بہت زیادہ پر تکلف کپڑے نہ پہنیں ، یہاں کچھ گذارشات خواتین کے لیے ، بار بار یہ نہ کہیے کہ ہائے بیچارے نے ابھی دیکھا کیا تھا، بچوں کی شادی تک نہ دیکھ سکے ، ہائے بلکل جوان تھا ابھی تو شادی بھی نہیں ہوئی تھی، بیوہ کے کان میں سرگوشیاں نہ کریں کہ حق مہر ادا تو کر دیا تھا نا انہوں نے ؟ بہن اب یہ زیور وغیرہ اتار دو۔۔۔ بیوہ کو چالیس قدم میت کے پیچھے جا کر عدت سے نجات پر نہ اکسائیں شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، لواحقین کو رونے سے یہ کہہ کر منع نہ کریں کے مردے کو تکلیف ہوگی اپنا خود ساختہ بنایا ہوا رواج لاگو نہ کریں۔رونا فطرت انسانی ہے اور کسی اپنے کے جانے پر رویا جاسکتا ہے بس کلمہ کفر اور سینہ کوبی کی ممانعت ہے۔وہ مرد حضرات جو میت اٹھتے وقت بھابھی یا خالہ زاد ، پھپو زاد کو گلے لگا کر فرماتے ہیں کہ یہ تو ہماری بہن ہے گودوں میں کھیلی ہے ہماری اس لیے ہم سے کیا پردہ تو بھائی آپ کی گود دین اسلام کے حکم سے زیادہ مقدس نہیں ہے بیوہ کو عدت کے دوران ہر نامحرم سے شرعی اجازت کے بغیر بات تک کرنا منع ہے ، فوتگی والے گھر میں ان سب باتوں کی بجائے اپنے منہ سے خیر کے کلامات ادا کریں ، اللہ کے کرم کا یقین دلائیں اور آزمائش میں ثابت قدمی پر آمادہ کریں، کھانا لگتے ہی یہ کہہ کر دستر خوان پر حملہ آور نہ ہوں کے میں تو خبر سنتے ہی کچھ کہا کر بھی نہیں آئی تھی۔۔ بلکہ فوت شدہ کے لواحقین کو کھلائیے اور اگر کوئی بہت اصرار کرے تو چند لقمے کھا کر اپنے گھر آکر پیٹ کا دوزخ بھریں۔ اگر میت کو غسل اور قبر میں اتارتے وقت کوئی ایسی بات دیکھیں جو میت اور اس کے لواحقین کے لیے شرمندگی یا تکلیف کا باعث ہو تو اسے بی بی سی خاندان بن کر نشر نہ کریں کچھ باتیں راز ہی رہنے دیں صرف خیر کی بات کریں۔ نمازے جنازہ کے وقت لواحقین کو چیخ چیخ کر معافیاں مانگنے پر مجبور نہ کریں یہ کام آپ کا نہیں ہے۔ دفنانے کے بعد لواحقین سے چائے بنانے کی فرمائش نہ کریں آپ میت میں آئے ہیں کسی ٹی پارٹی میں نہیں ، خواتین خاص طور پر زکر و آزکار کریں فوتگی والا گھر غیبت میٹنگ کا اڈا نہیں ہے۔ فرشتے اس گھر میں ہوتے ہیں اور جو کلمات آپ کہتے ہیں ان پر آمین بھی کہتے ہیں اس لیے خیر ہی خیر منہ شریف سے برآمد کریں ۔

اہل ایمان یاد رکھیں آپ اپنے کہے اور کیے ایک ایک عمل کے زمہ دار ہیں اور مرنا اپ نے بھی ہے۔ میت اور لواحقین کے لیے آسانیاں پیدا کریں یہ آپ کا دینی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ لواحقین کے لیے کھانے کا انتظام آپ خود کریں اگر کسی غریب رشتے دار کی میت ہو تو خاندان کے صاحب استطاعت افراد بڑھ چھڑ کر حصہ لیں۔ میت کے گھر والوں کے ساتھ وہ سلوک کریں جو دینی لحاظ سے آپ کے نامہ اعمال میں نیکی والے خانے میں لکھا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button