صحت

نفساتی امراض کے دو بڑے گروپ ھے

اب ہم گفتگو کریں گے کہ مختلف قسم کے جو ذہنی مریض ہوتے ہیں وہ کیا ہیں ان کو سمجھنا کیسے ہیں اور علاج کی طرف کیسے جانا ہے

اب جو ذہنی مریض ہیں اس کے دو بڑے گروپ ہیں جن کو ہم کہہ دیتے ہیں نمبر1 نیو روسک اور نمبر2 سائیکوسس یعنی نسبت ایسی ذہنی بیماریاں جن میں شدت ہوتی ہیں عام بندہ سوچتا ہے اعام بات یہ ہوتی ہے وہ نیوروسک ھے اور سائیکوسس وہ ہیں جو زیادہ شدت والے امراض ہیں جو شدید ہیں جن میں شدت زیادہ ھوتی ھے۔
شدت نیوروسک میں بھی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائیکوسس ایک ایسی بیماری ہے جو پاگل پن کی طرف جاتی ہے اور نیوروسک نسبت ہلکی بیماری ہے اس پر اگر ہم مزید بات کریں تو نیورو سک ایسی بیماری ہے جس میں ہم بنیادی طور پر بنیادی جو علامات ہوتی ہیں وہ ذہنی پریشانی ہوتی ہے یعنی انزائٹی ہوتی ہے گھبراہٹ ہوتی ہے جب مریض کہے گا مجھے بڑی گبراھٹ ہوتی ہے ٹینشن ہے میں الجھا ہوا ہوں ٹینشن میں اور اپنے آپ کو اس طرع محسوس کرتا ہوں جب یہ بنیادی علامات اس کی بنیادی شکل جو ھے وہ انزاٹی ھوتی ھے ۔ دہنی پرشانی ھوتی ھے۔ تو ہم کہتے ھے۔ یہ نیوروسک ھے۔اس میں جب ہم کہے گے۔ کہ بنیادی طور پر چیز انزاٹی ھے تو انزاٹی disorder بھی آجاتا ھے۔

عام طور پر ۔جی۔ٹی۔اے۔ جیز لاہیز ڈس آڈر۔ یعنی مجموعی طور پر مریض میں انزاٹی زیادہ ھے۔اس طرع سے اس کی الگ الگ قسمیں ھوتی ھے۔ جو ہم اگلے سیشن میں ایک ایک کرکے ان پر گفتگو کریں گے۔

اور یہاں پر ایک بنیادی مسلہ ھوتا ھے۔ وہ پر آپ کہے گے کہ خیالات کے منتشر ھونے سے ھوتا ھے۔ اس کو ہم ساہیکوسک کی طرف لے جاتے ھے۔

یا جس میں ایک پاگل پن کی کفیت پیدا ھوجاتی ھے۔ نیوروسک میں کیا ھوتا ھے۔ مریض کے اندر ایک احساس موجودہ رہتا ھے۔ کہ میں بیمار ھوں اور میرٕی بیماری نفسیاتی اور ذہنی ھے۔ اور مجھے علاج کی ضرورت ھے۔

ہم کہتے ھے یہ مریض انزاٹی میں ھے۔ اس کی شخصیت قاہم ھے برقرار ھے۔ اس میں کچھ ایسا نیں ھے کہ اس کی شخصیت توڑ پھوڑ کا شکار ھو۔ شخصیت برقرار ھوتی ھے۔ اور اسے احساس ھوتا ھے کہ میں بیمار ھوں۔

اور مجھے علاج کی ضرورت ھے۔ لیکن جب ہم بات کریں گے ساہیکوسک کی۔تو اس کے اندر مریض کو احساس نہیں ھوگا۔ اور وہ بولے گا۔ میں بلکل ٹھیک ھوں اور یہ باقی لوگ سب بیمار ھے۔ میں نارمل ھوں ۔ مجھے کوی مسلہ نہیں ھے۔ مجھے کسی علاج کی ضرورت نہیں ھے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ کیا ھوگا ۔ اس کی شخصیت برقرار نہیں رہے گی۔وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھوجاے گی۔اور بکھر جاے گی۔ جس کی وجہ سے اس کے رویوں میں بہت زیادہ تبدیلی آجاے گی۔ اور زیادہ تبدیلی کیاھوگی۔ غصہ۔ تیزی۔ گالیاں دینا۔توڑ پھوڑ کرنا۔ مار دھاڑ کرنا۔ اپنے آپ کو نقصان دینا۔ دوسروں کو نقصان دینا۔تو یہاں ہم کہتے ھے مریض ساہیکوٹک ھے۔

جو اس میں بیماریاں آتی ہیں وہ مینیا ہے جس میں مریض بہت زیادہ تیز ہو جاتا ہے اسے ہم پاگل پن جیسے کہتے ہیں کہ وہ جو مریض ہے اس میں سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہیں اس کی سوچ بکھر چکی ہوتی ہے آپ سے کوئی بات کریں تو آپ کو سمجھ نہیں آئے گی کیا بات کر رہا ہے کیا بول رہا ہے۔

یہ بنیادی طور پر دو بڑے گروپ ہو جاتے ہیں جس میں ہم کہتے ہیں ایروزسک انزائٹی ڈس آرڈر دوسرا ہم کہتے ہیں سائیکوسک جس میں ساہیکوٹک ڈس آرڈر جس میں زیادہ تر مینیا اور شیزوفرینیا کی بات ہوتی ہے لیکن اب جو ڈپریشن ہے وہ دونوں طرف ہے ڈپریشن اگر کم ہوگا تو اسے کہیں گے یہ ایروزسک میں آ جاتا ہے یعنی ہلکی بیماریوں میں آ جاتا ہے جہاں مریض خود کہتا ہے کہ ہاں مجھے ڈپریشن ھے۔ اور مجھے علاج کی ضرورت ہے۔

اور جب ڈپریشن کی وجہ سے اس کے خیالات منتشر ہو جاتے ہیں اور اس کے رویے جو ہیں وہ منفی ہو چکے ہو تو وہاں ہم اسے کہتے ہیں اس کا جو ڈپریشن ہے وہ ساہیکوٹک ھو چکا ہے اس میں مریض جو ہے وہ کئی دفعہ اپنے آپ کو بھی نقصان دیتا ہے اور وہ اگر کسی کی طرف چلا جائے تو دوسروں کو بھی نقصان دے سکتا ہے اس میں غصہ بھی آ سکتا ہے خاص طور پر میں نے یہ بات کی تھی کہ بچے بلوغت میں جب اسے سے گزر رہے ہوتے ہیں تو اس ڈپریشن میں ایج ٹیشن بھی شامل ھوتی ھے۔

پھر یہ جو ساری امراض اور علامات ھے ان کی وجوہات جسمانی بھی ھوسکتی ھے۔ جن میں ڈپرشین۔انزاٹی ۔ ساہیکوسک بھی ھے۔ آگلے سیشن میں ان تمام امراض پر ایک ایک کر کے بات کرںں گے۔
ماہر نفسیات علی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button