بلاگز

اسرائیلی "این ایس او ” کا پیگاسس کے ذریعے عالمی سطح پر ہیکنگ

پیگاسس ایک سوفٹ ویئر ہے جو کہ اسرائیلی "این ایس او گروپ "دنیا بھر کی حکومتوں کو نگرانی اور جاسوسی کرنے کے لیے فروخت کرتی ہے۔

"این ایس او گروپ” کے تین بانی رکن جن کے نام” نیو، شالیو اور اومری "تھے۔ ان کے نام کے پہلے حرف ترتیب دے کر "این ایس او” گروپ کمپنی بنائی گئی۔ ایسن ایس او گروپ نے ایک سپائی ویئر سافٹ ویئر بنایا جس کا کام موبائل فون کی جاسوس کرنا تھا۔ یہ کمپنی 2010 ءمیں نائیو سامی، اومری لیوی اور شالیو ہولیو نے بنائی تھی۔ اس کمپنی نے 2017 میں پانچ سو کے قریب لوگوں کو ملازمت پر رکھا۔ اور اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر تل ابیب کے قریب ہارزیلیا میں ہے۔
این ایس او گروپ کے بانی رکن اسرائیلی انٹیلیجنس کے "یونٹ 8200″ کے سابقہ ممبران ہے۔ یادرہے” یونٹ 8200 "اسرائیلی انٹیلیجنس ادارے کے لیے سگنلز انٹیلیجنس کا کام سرانجام دیتے ہے۔ یہ یونٹ 18 سے 21 سال کے عمر کے نوجوانوں کو صرف ملازمت پر رکھتی ہے۔ جن کہ ذمداری صارفین کے مابین ترسیلات کا کام کرنا ہوتا ہے۔ نوجوان چار سے پانچ سال کمپنی میں گزار کر دنیا کی محروف کمپنیوں میں خدمات سرانجام دیتے ہے۔ یاد رہے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ بھی اس کمپنی میں رہ چکے ہے اور وہ پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہے جو کہ سائبر سیکیورٹی پر عبور رکھتے ہیں۔ اب آتےہے پیگاسس کیا ہے اور اس نے اب تک کتنے ممالک اور لوگوں کو اپنا نشانہ بنایا۔

پیگاسس کی تاریخ سے اب تک:
پیگاسس ایک سوفٹ ویئر ہے جو کہ اسرائیلی "این ایس او گروپ "دنیا بھر کی حکومتوں کو نگرانی اور جاسوسی کرنے کے لیے فروخت کرتی ہے۔
پیگاسس کو پہلی بار میکسیکو کے منشیات فروش "ایل چاپو” کے موبائل فون کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا تھا ۔ جس کا بعد میں میکسیکو کی حکومت نے پیگاسس اور این ایس او گروپ کا شکریہ ادا کیا۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے پیگاسس کا لائسنس کو دیگر ممالک کے لیے بھی جاری کیا تاکہ دوسرے ممالک بھی اس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لوگوں کی نگرانی کرسکے گی۔ پیگاسس ایک وائرس زدپہ سافٹ ویئر ٹول ہے اور 2016 ء میں آمریکی آئی ٹی کمپنی "لوک آؤٹ” نے پہلی بار پیگاسس کی جاسوس کو بےنقاب کیا اور ساتھ یہ انکشاف کیا کہ پیگاسس عرب امارات کے انسانی حقوق کے سرگرم رکن احمد منصور کی جاسوس کرتا ہے۔ احمد منصور نے” سیٹیزن لیب "سے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھے میسج میں مشکوک ویب لینکس موصول ہوئے تھے۔ کمپنی کے ریسرچ اور تجربات کے بعد پتہ چلا کہ پیگاسس آئی فون کو "جیل بریک” کرلیتا ہے جب آپ کسی یوآرایل پر کلک کرتے ہے۔ یہ” سپیئر فشنگ آٹیک "کہلاتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر خود کو موبائل میں انسٹال کرتا ہے، موبائل میں موجود تمام ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتا ہے، لوکیشن کو ٹریس کرتا ہے، مختلف سماجی ویب سائٹ پر ترسیلات کو اپنے ساتھ محفوظ کرتا ہے۔ سیٹیزن لیب اور لوک آؤٹ نامی کمپنیوں نے ایپل کمپنی کو آئی او ایس کی ضرب پذیری کے بارے میں مطلع کیا جس کو بعد میں نئے آپڈیٹ کے ساتھ فکس کیا۔
اسی طرح 2017 کو لوک آؤٹ کی رپورٹ کے بعد گوگل کے ریسرچرز نے انڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم میں مالویئر دریافت کیے جو کہ پیگاسس نما تھے۔ دسمبر 2020 کو ” دی سیٹیزن لیب” نے ایک رپورٹ شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ این ایس او گروپ اب "زیرہ –کلک اٹیک ” کی جانب بڑھ گئی ۔ زیرو کلک اٹیک کا مطلب ہے کہ جدید وائرس زدہ سافٹ وئر ز انسانی عمل دخل کے بغیر موبائل فون کو اپنے قابو میں لے لیتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر حکومتی اعلیٰ حکام کو یہ اجازت دیتا ہے کہ کسی بھی فون کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے بغیر کسی صارف کے عمل دخل کے اور بغیر کسی مرئی نشانات کے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پیگاسس کے "زیرہ –کلک ” جیسے ٹولز کو لندن میں 2 نامہ نگاروں (رپورٹرز) اور قطر میں مقیم الجزیراء کے 36 صحافیوں کو نشانہ بنا چکے ہے۔ اس سال یعنی جولائی 2021 کو سترہ (17) میڈیا ہاوسسز نے رپورٹ کیا کہ این ایس او گروپ نے پیگاسس اسپائی ویئر کو استعمال کرتے ہوئے ریاستی سربراہان، انسانی حقوق کے کارکن اور صحافیوں کو نہ صرف نشانہ بنایا بلکہ ان کی جاسوس ونگرانی کی گئی۔ اس کے علاوہ تفتیش سے یہ ثابت ہوا کہ 50،000 سے زائد صحافیوں کےفون نمبرز منظر عام پر آئے جن کا تعلق الجزیراء، بلومبرگ، سی این این، دی فائنانشل ٹائمز، نیویارٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل وغیرہ شامل ہے۔
آج یعنی 19 جولائی کو بھارتی وزارت ِ ایلیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پارلیمنٹ میں پیگاسس پر بات رکھی لیکن اس کے استعمال کی تردید بلکل نہیں کی۔ اور کہا کہ ماضی میں بھی پیگاسس کو واٹس ایپ کے ساتھ استعمال کرنے کے جھوٹے داعوئے کیئے گئے جن کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

بھارت میں پیگاسس کے نتائج:
بھارت میں 2019 میں واٹس ایپ کے چند ضرب پذیر کمزوریوں کی وجہ سے 22 افراد جن میں وکلا، سیاسی سماجی سرگرم رکن پیگاسس کا شکار ہوئے۔ ان میں سے 19 افراد نے حکومت کو خط لکھا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پیگاسس یا دیگر عوامی سطح پر جاسوسی کی تفصیلی جواب دے لیکن بھارتی حکومت کی خاموشی کے بعد واٹس ایپ نے بھارت میں 121 افراد کے شکار کی تصدیق کی۔ اس سال 2021 کو بھارت میں 300 افراد سے زائد پیگاسس کا شکار ہوئے جن میں سیاسی رہنما، اپوزیشن لیڈرز، صحافی، وکلاء اور سپریم کورٹ کے ججز، کاروباری شخصیات، حکومتی عہدداران، سیاسی سماجی سرگرم کارکن وغیرہ۔

پاکستان میں پیگاسس کے نتائج:
آج سے ایک سال قبل 2020 میں آمریکی صحافی اسٹیفینی نے دی گارڈین میں لکھا تھا کہ "این ایس او "کے میلویئر پاکستانی اعلیٰ حکام کے واٹس ایپ پیغامات تک رسائی حاصل کرچکے ہے۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک درجن سے زائد پاکستانی حکام کے موبائل فونز کو واٹس ایپ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
اس سال جولائی 2021 کو اسپائی ویئر کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں لیک ڈیٹا جو منظر عام پر آیا اس سے یہ پتہ چلا کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا بھی ایک نمبر زیر استعمال ہوا کرتا تھا۔ جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان بھی اس سپائی ویئر کا شکار ہوئے تاہم دیگر پاکستانیوں کے نام اب تک نہیں آئے۔ دی گارڈین کی خبر کے مطابق پاکستانی سفارتکار عملہ، کشمیری علیحدگی پسند رہنما، چینی صحافیم سکھ سیاسی سماجی سرگرم کارکن اور دیگر کاروباری شخصیت کےنام شامل ہے۔

پیگاسس سے کیسے بچا جاسکے؟
سائبرسیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق اسپائی ویئر مکمل طور پر موبائل فون سے ختم نہیں ہوسکتا، یہ پھر بھی آپ کے فون میں رہے گا جب تک آپ موبائل کو مکمل ریسیٹ نہ کریں۔ صارفین ایمنسٹی انٹرنیشنل کے گیٹ ہب پروفائل میں موجودہ ڈیٹا کے ذریعے شناخت کرسکتے ہے۔

حماد علی شاہ

بلاگر کمپیوٹر سائنس اور مصنوئی ذہانت کے طالبعلم ہے۔ وہ دیگر جدید ٹیکنالوجیز پڑھنےکے ساتھ ان پر لکھنے کےلیے بھی شغف رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button