بلاگز

موجودہ دور میں انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کے اندر نفسیاتی امراض ھے

ذہنی دباؤ ۔ گبھراٹ پریشانی الجھن کچھ بھی نام دیا جاسکتا ہے ۔لیکن جب ہم ساہیکاٹری کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

تو ہم کہتے ہیں۔ جینس لائنز انزائٹی ڈس آرڈر۔ اس گروپ میں جتنی بھی امراض ہیں۔ جو اس زمرے میں آتی ہیں۔ وہ انزائٹی ڈس آرڈر ۔ یا ان کا ایک نام جو زیادہ استعمال ہوتا ہے وہ نیورو سک ہوتا ہے۔
اور یہ نسبت ہلکی نفسیاتی امراض کہلاتی ہیں۔ جن کے اندر انسان کے رویے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی شخصیت برقرار رہتی ہے۔ اسے چیز کا احساس ہوتا ہے کہ میں بیمار ہوں۔
اب آپ نے یہ دیکھا ہوگا۔ کہ جتنی بھی یہ امراض ہیں۔ اس میں جو بنیادی کی علامت ہو گی۔ وہ انزائٹی ہو گئی ۔ انزائٹی کی علامات اوپر ہم بیان کر چکے ہیں۔ اب انزائٹی کی وجہ سے بندے کے ذہن میں گھبراہٹ پیدا ہو رہی ہے۔ یہ کسی قسم کے خوف کی وجہ سے ہے۔ ایک لایعنی خوف۔ جیسے بند جگہوں کا خوف۔ کھلی جگہ کا خوف ۔ اونچائی کا خوف ۔ گہرائی کا خوف۔ پرندوں ۔بلیوں۔ مکڑی ۔سانپ ۔چھپکلی۔ ایکسیڈنٹ۔ اور موت کا خوف۔
اس طرح سے کوئی بھی جو خوف ہوتا ہے۔ خود بھی بندے کو پتہ ہوتا ہے ۔ کہ یہ ایک لایعنی سا خوف ہے۔ اس میں سب سے بڑھ کر جو چیز ہوتی ہے ۔ عام طور پرجو مریض ہمارے پاس آتے ہیں۔ زیادہ تر موت سے ڈر لگتا ہے۔ ظاہر ہے سب کو ڈر لگتا ہے ۔
مگرکہیں یہ ڈر مسلسل حاوی ہو جاتا ہے۔ دوسرابند جگہوں کا خوف۔ یا کھلی جگہوں کا خوف ۔ہجوم کا خوف۔ اس میں گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ جیسے ہی بس کے اندر بیٹھتے ہیں۔ ایک دم خوف ہو جاتا ہے۔ اور انسان باہر کی طرف بھاگتا ہے ۔ باتھ کا دروازہ ۔یا کمرے کا دروازہ بند نہیں کر سکتے۔

کسی بند جگہ پر بیٹھ نہیں سکتے۔ ٹریول نہیں کر سکتے۔ جہاز میں نہیں جا سکتے ۔ تو یہ ایک بہانہ ہوتا ہے۔ کہ کسی نہ کسی وجہ سے انسان کے اندر ایک پریشانی ہے۔ الجھن ہے۔ وہ ایک علامت اس میں زیادہ طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ جو اس کی بیماری کا حصہ ہوتا ہے۔ وہ مجموعی طور پر ایک علامت کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ مجھے اس چیز کا خوف ہے۔ اب یہ لایعنی خوف جسے ہم کہتے ہیں۔ فوبیا عام ایک لفظ ہے۔

اگر یہ فوبیا ہیں۔ تو ہم کہیں گے ۔ کہ یہ فوبیا ڈس آرڈر ہیں۔ اس میں اگرزیادہ تر ایک دم سے خوف آجاتا ہے۔ کہ ہائے میں مر جاؤں گا ۔ مجھے کچھ ہو جائے گا ۔ میرا سانس تیزی سے آرہا ہے۔ میرا دل بند ہو رہا ہے ۔ ہم اسے کہتے ہیں ۔ پینک اٹیک ڈس آرڈر۔ لیکن درمیان میں پھر انزائٹی ہوتی ہے۔ تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے۔

اگر ایک انسان پینک ہوتا ہے۔ اور پانچ چھ دن ٹھیک گزر جاتے ہیں۔ تو اس کے بعد ایک دم سے اس کے اوپر صورت حال ایسی نہیں ہوتی۔ کہ اس پر خوف کا دورہ پڑے۔ ایک انتہائی آرام سکون کی حالت میں ۔وہ بیٹھا ہوتا ہے۔ اور پھر ایک دم سے ہوتا ہے ۔ سانس بند ہو رہا ہے ۔دل کی دھڑکن تیز ہو رہی ہے۔ مجھے کچھ ہونے لگا ہے۔ تو وہ پینک ہو جاتا ہے۔ اسے ہم پینک کہتے ہیں۔

اگر یہ بندوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ہجوم میں ھوتا ھے۔ تو ہم کہتے ہیں ۔ سوشل انزائٹی ڈس آرڈر۔ اس میں اداس ھونا۔ GAD یعنی جینز لانیز ڈس آرڈر۔ اس طرح اگرذہن میں وہم آرہے ہیں۔ وسوسے آرہے ہیں۔ یا عام طور پر میرے ہاتھ ناپاک ہیں۔ وہ بار بار ہاتھ دھو رہا ہے ۔ دس دفعہ ۔15 دفعہ ۔ تو اگر اسے وسوسے آتے ہیں۔ اور وسوسوں سے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ تو اس گبھراہٹ کو دور کرنے کے لیے۔ مریض کچھ نہ کچھ ایکشن کرتا ہے جاکر۔ تاکہ اس کی گھبراہٹ دور ہو جائے۔

تو جب یہ چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ وسوسوں کو ہم کہتے ہیں ۔ کم پلشن انسان اپنے اوپر لازمی سمجھتا ہے ۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ تو اسے ہم کمپلیکشن کہتے ہیں۔ او سی ڈی ہو جاتا ہے۔

اوپو سینز کمپلیشن ڈس آڈر ۔ لیکن او ۔سی ڈی ۔میں بھی جو بنیادی علامات ھے۔ جس کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ وہ شدید قسم کی انزاٹی کے ساتھ آئے گی۔ تو اسے ہم ان علامات کی وجہ سے مختلف امراض میں تبدیل کر دیتے ہیں۔۔

علاج کے لحاظ سے جو اسے ocd۔ وہی فوبیا میں ملنا ہے ۔ وہی سوشل انزائٹی ڈس آرڈر میں ملنا ہے ۔ علاج ایک طرح کا ہی رہتا ہے۔ لیکن تھوڑی بہت کچھ تھراپی کرتے ہیں۔ اس میں سائکوتھراپی میں فرق ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button