پاکستان

کراچی پولیس کے ہاتھوں شارٹ ٹرم اغوا، مغوی بازیاب

کراچی: پولیس کے ہاتھوں شارٹ ٹرم اغواکی ایک اور واردات سامنے آگئی۔

نیوکراچی سے اغواکیے جانے والے نوجوان کو سرجانی ٹاؤن تھانے کی پہلی منزل سے بازیاب کرالیاگیا، سرجانی ٹاؤن پولیس نے انویسٹی گیشن کے سب انسپکٹر اوراس کے 3کارندوں کو گرفتار کر کے حبس بیجا اور غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کامقدمہ درج کرلیا، نیوکراچی پولیس نے پہلے ہی نوجوان کے اغوا برائے تاوان اورڈکیتی کا مقدمہ مغوی نوجوان کی والدہ کی مدعیت میں درج کرلیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق نیو کراچی پولیس نے شمع ناز نامی خاتون کی مدعیت میں اس کے بیٹے کے اغوا برائے تاوان اور گھر سے موٹر سائیکل کے پارٹس اٹھا کر لیے جانے کا مقدمہ نمبر 879 سال 2021 بجرم دفعات 365 اے اور 392 کے تحت درج کیا تھا جس میں مدعیہ نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ وہ نیوکراچی سیکٹر الیون جے میں رہائش پذیر ہے۔
30 ستمبر جمعرات کی رات 10بجے کے قریب گلی میں شور شرابہ سن کر باہر باہر جا کر دیکھا تو میرے محلے کے رہائشی رفیق اور ابراہیم میرے بیٹے 19 سالہ اسد عرف راجہ ولد محمد اشرف کو زبردستی موٹر سائیکل پر بیٹھا رہے تھے جبکہ رفیق کے ہاتھ میں پستول بھی تھا۔

میں نے پوچھا کہ میرے بیٹے کو کہاں لے جا رہے ہو تو رفیق نے کہا کہ افضل ملک کا حکم ہے جبکہ رفیق نے کامران عرف بھینگا نامی شخص کو بلایا اور میرے گھر میں اوپر چلے گئے اور میرے بیٹے کی کھلی ہوئی موٹر سائیکل کا سامان بھی نیچے لے آئے اورتینوں افراد نے آگے کھڑی ہوئی پولیس موبائل میں میرے بیٹے کی کھلی ہوئی موٹر سائیکل کا سامان رکھا جبکہ پولیس موبائل میں سادہ لباس افراد بھی سوار تھے جو میرے بیٹے کو لیکر چلے گئے اور میں اپنے بیٹے کو تلاش کرتی رہی۔

یکم اکتوبربروز جمعہ شام 4 بجے میرے موبائل فون پر کال آئی کالر رفیق نے کہا کہ ایک لاکھ روپے دے دو اور اپنا بیٹا لے جاؤ جس پر میں نے کہا کہ رقم لیکر کہاں آنا ہے جبکہ وہ مختلف جگہ بتاتا رہا ، رات 11بجے دوبارہ رفیق نے میرے موبائل فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ رقم لیکر سرجانی ٹاؤن تھانے آجاؤ اوراپنا بیٹا لے جاؤ، مدعیہ کے مطابق اب میں تھانے رپورٹ درج کرانے آئی ہوں اور بیان دیتی ہوں کہ میرا دعویٰ رفیق ، ابراہیم ، کامران بھینگا اور افضل ملک پر میرے بیٹے اسد عرف راجہ کو اسلحے کے زور پر اغوا کرنے ، میرے گھر میں زبردستی گھس کر موٹر سائیکل کا کھلا ہوا سامان اٹھا کر لیجانے اور تاوان طلب کرنے کا ہے۔

لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے ،ایس ایچ او نیو کراچی انسپکٹر ندیم احمد سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ اغوا برائے تاوان کی تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے لہذا درج کیے جانے والا مقدمے مزید تفتیش کے لیے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل منتقل کر دی ہے۔

اغوا برائے تاوان کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب مغوی کی والدہ سرجانی ٹاؤن تھانے پہنچی اور لاک اپ میں جا کر دیکھا تو وہاں پر اسے اپنا بیٹا دکھائی نہیں دیا اسی دوران ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن اسدالنبی کی موجودگی میں مغوی نوجوان کی والدہ کے موبائل فون پر اغوا کاروں کا فون آگیا جس پر ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن نے ان سے رکشا ڈرائیور بن کر بات کی جس پر انھیں سرجانی ٹاؤن تھانے کی پہلی منزل پر آنے کے لیے کہا گیا جس پر ایس ایچ او سرجانی تھانے کی پہلی منزل احاطہ انویسٹی گیشن کے ایک کمرے میں پہنچے تو مغوی اسد کو انویسٹی گیشن افسرکے کمرے میں موجود پایا جس پر انھوں نے مغوی نوجوان کو بازیاب کر کے شعبہ تفتیش کے سب انسپکٹر افضل سمیت دیگر 3 کارندوں رفیق ، ابراہیم اور کامران عرف بھینگا کو گرفتار کر کے حیرت انگیز طور پر مقدمہ نمبر 1596 سال 2021 زیر دفعہ حبس بیجا کی دفعہ 342 کے تحت درج کرلیا ،سرجانی ٹاؤن نے دوسرا مقدمہ نمبر 1597 گرفتار ملزم رفیق کے خلاف غیر قانونی اسلحہ برآمد کا بھی درج کرلیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مغوی اسد عرف راجہ اپنی موٹر سائیکل کھول کر اس کی مرمت کر رہا تھا کسی نے مخبری کر دی اور گرفتار ملزمان کو شبہ ہوا کہ وہ چوری کی موٹر سائیکل گھر میں کھول کر اس کے پارٹس فروخت کرتا ہے جبکہ گرفتار پولیس افسر کے علاوہ دیگر 3 ملزمان پولیس اہلکار نہیں ہیں وہ سب انسپکٹر افضل ملک کے لیے کام کرتے تھے ،ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل معروف عثمان نے بتایا کہ اغوا برائے تاوان کے الزام میں گرفتار پولیس افسر سمیت 4 ملزمان اے وی سی سی منتقل کر دیے گئے ہیں اور پولیس ان سے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button