بلاگز

انسان کا سب سے بہترین دوست اور ساتھی کتاب ھے

جس قوم کو برباد کرنا ھو اسے مارو نہیں ۔ اس کےہاتھ سے بس کتاب چھین لو۔ وہ قوم خود بخود برباد ھوجاے گی۔

آجکل کتاب سے محبت اور دوستی تھوڑا کم ہوگئی ہے پر جو کتاب دوست ہیں وہ جانتے ہیں کتاب کی اہمیت اور افادیت کیا ہے ۔ اگر ہم اکیلے ہیں تنہا ہیں تو یقین جانیے کتاب سب سے بہترین تنہائی دور کرنے والی ہے۔
چلیں اک بات بتائیں آپ کتاب کہاں سے شروع کرتے ہیں؟
مطلب کچھ لوگ کتاب کے اول لفظ ابتدا سے لیکر آخر ختم شد تک پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ ابتدائی الفاظ چھوڑ کے پڑھتے ہیں۔
آپ نے کبھی سوچا ہے کتاب کے شروع میں انتساب اور پیش لفظ کیوں لکھے ہوتے؟
تاکہ پڑھنے والے کو پتہ چلے کہ لکھنے والا اس کتاب کو کیوں لکھ رہا ہے اور کتاب لکھنے کے پیچھے کیا سوچ تھی جس نے اسے یہ سب لکھنے پہ آمادہ کیا اور کیا وجوہات درپیش ہوئی۔۔۔۔ یہ سب اس نے ابتدائی الفاظ میں تحریر کیا ہوتا ہے جسے سب نہیں بس کوئی کوئی پڑھتا ہے۔
بلکل اسی طرح انسان بھی ایک کتاب کی مانند ہے جسے یہ تو پتہ ہے کہ اسے تخلیق کیا گیا ہے پر کس لئیے کیا گیا یہ وہ جانتا نہیں ہے۔
انسان جب عالم ارواح میں تھا تو اسے اپنے مقصد تخلیق کا علم تھا لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا سے اس فانی دنیا میں آیا اسے اپنے اس دنیا سے اس دنیا میں انتقال کا مقصد بھول گیا۔ اور جیسے ہم میں سے اکثر کرتے کہ ابتدا کے الفاظ نہیں پڑھتے بلکل ویسے ہی انسان نے بھی اپنے انتساب کو نہیں پڑھا اپنے پیش لفظ چھوڑ دئیے حالانکہ ابتدا میں ہی اسے اپنی تخلیق کی وجہ سمجھ میں آنی تھی۔
ہمارا اختتام واپس اسی جگہ پہ ہے جہاں سے ہم اس دنیا میں آئے یا لائے گے تو جیسے ہمیں اس دنیا میں آنے کا پتہ تو ویسے ہی آنے کا مقصد کا علم بھی ہونا چاہیے کیونکہ قبر تک یہی ابتدائی علم جانا باقی سب کچھ فانی رہ جانا۔۔۔۔۔
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے، مگر صاحب کتاب نہیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button