صحت

اکثر لوگ سنی سنائی باتوں پہ یقین کر لیتے ہیں اور اپنے رشتے خراب کر لیتے ہیں

حالانکہ کہ کہا جاتا ہے کہ کبھی کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا بھی غلط ہو سکتا ھے

حیرت ہوتی ایسے لوگوں پہ جو اپنے ان رشتوں کو سنی سنائی باتوں کی نظر چڑھا دیتے جو یا تو ہوئی ہی نہیں ہوتی یا پھر ان باتوں میں مزید اشتعال انگیزی کا تڑکہ لگا کہ ان کو بیان کیا جاتا۔۔
کیا مل جاتا ہے ایسا کر کہ۔۔۔؟
کیا کسی کو لڑتا دیکھ کر یا کسی کا گھر ٹوٹتا دیکھ کر کوئی پرسکون ہو سکتا ہے؟
میرا تو یہ ماننا ہے کہ جو کسی کا سکون غارت کرتے وہ خود بےسکون ہو جاتے ۔ انسان کو اللہ سوہنے نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کیوں دی؟ تاکہ وہ مساوی رویہ رکھے اور دیکھے کہ آیا جو مجھ تک آیا کیا مجھے وہ کسی بھی قسم کا فائدہ دے سکتا؟ اور اگر میں اس سنی سنائی پہ یقین کر لو تو میرا نقصان ہوتا دیکھ کر کس کو خوشی مل سکتی؟ کیا یہ میرے مقصد کی بات ہے جو مجھ تک پہنچائی جا رہی یا پھر اس بات میں کسی اور کا مقصد پوشیدہ ہے؟
ایسے بہت سے سوال جن کا جواب اپنی ذات کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔۔۔
ہم اپنی زندگیوں میں جو جو جستجو کرتے جو حاصل کرتے جو حاصل کرنا چاہتے اس کا آخری ہدف سکون ہی تو ہوتا ہے
پتہ ہے گھروں میں ایسی بہت سی باتیں ہوتی ہیں ساس بہو کے جھگڑے نند بھابھی کا فساد بہن بھائیوں کی چپقلش۔۔ ایک اچھا انسان وہ ہے جو رشتوں میں توازن برقرار رکھے کہی کوئی کوتاہی کر رہا ہو تو اس کو سمجھائے اور اپنے گھر کا سکون کسی کے لئیے بھی خراب نا کرے کیونکہ گھر کا سکون ہی ذہنی سکون دیتا ہے اور اگر گھر میں سکون نا ہو تو باہر سکون کی تلاش ہمیشہ برباد کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button