بلاگز

والدین بچوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ دیں

تاریخ انسانی میں ہر اس انسان کو اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا رہا ہے جس نے انسانیت کی فلاح کو فروغ دیا ۔ چاہے وہ عملی طور پر ہو یا قولی ۔ دنیا نے ہمیشہ نیک بات کرنے والوں کو رول ماڈل بنایا۔
جن کے عمل اور زبان سے اچھائی پھیلی آج ان لوگوں کے اقوال اور کہانیاں بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کی زینت بنیں۔ انسانیت کے سب سے بڑے محسن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسلام کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا کے انسانوں کو فلاح انسانیت کا درس دیا۔ اسی لیے آج غیر مسلم قومیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فلاح انسانیت کے تصور کو مانتی ہیں اور نا صرف مانتی ہیں بلکہ بہت سی سنتوں کو انہوں نے مینرز اور پرسنالٹی ڈویلپمنٹ کے اصولوں کے طور پر بھی اپنا لیا ہے ۔

ہم جو کے پیدائشی مسلمان ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا بیج سینے پر سجا کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔ افسوس کے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دیے گئے پرسنالٹی گرومنگ کے تصور کو بھلا بیٹھے ہیں۔ اخلاق و کردار کے حسن کو بڑھانے کے لیے آپ کی دی ہوئی تعلیمات اتنی وسیع ہیں کے کسی محدود وقت اور آرٹیکل میں مکمل لکھنا ممکن نہیں۔ یہاں ہم چند پہلؤں پر بات کرینگے جو دور حاضر میں فقدان کا شکار ہیں۔

مصیبت میں دوسروں کی مدد کرنا ایک بہترین نیکی ہے مگر اس جدید دور میں نیکی گلے پڑ گئی کی گردان سننے کے بعد آج مسلمان جب دوسرے مسلمان بھائی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو مدد کرنے کی بجائے موبائل فون سے ویڈیو بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ ہم بچوں کو بچپن سے یہ سکھاتے ہیں کہ اپنا لنچ پورا خود ختم کرنا اور امتحان میں اپنے پیپر پر توجہ دینا کسی کو کچھ مت بتانا کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کے ایک ننھے ذہن میں ہم کتنا خطرناک سوفٹویئر انسٹال کر رہے ہیں ؟ اپنی بات بڑی رکھنے کے لیے ہم دوسروں کو نیچا دیکھانے کی کوشش میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارا یہ رویہ ہمیں کتنا بدصورت بنا دیتا ہے۔ اس پر فتن دور کا ایک اور عظیم فتنہ ۔۔۔ جھوٹ اور دھوکا ، کسی سے جھوٹا وعدہ کرنا، کوئی کمنٹمنٹ کر کے عین موقع پر منع کر دینا یا فون نا اٹھانا یہ کام ہم بہت دیدہ دلیری سے کرتے ہیں اور شرم سار بھی نہیں ہوتے ۔ اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لیے کسی اور کو برا بنا دینا ہمارے لیے ایک تفریح بن گیا ہے ۔ گھر ، محلہ یا کام اکثر لوگ ہر جگہ اپنی بد تہذیبی اور بد تمیزی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کا سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم بہت اسٹریٹ فارورڈ ہیں ۔۔۔ تو بھئی اسٹریٹ فارورڈ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے منہ سے راکٹ لانچرز فائر کرنا شروع کر دیں چھوٹا بڑا ۔۔ اپنا پرایا دیکھے بغیر دوسروں کو اپنی زبان سے تکلیف پہنچائیں۔۔۔ یونیورسٹی کے زمانے میں میری ایک بہت اچھی دوست ہوا کرتی تھی اس کا مزاج اکثر بہت گرم رہتا تھا اور بڑے چھوٹے کی تمیز کیے بغیر وہ اکثر بدزبانی کر جایا کرتی تھی، کہیں کا غصہ کہیں اور نکالنا اس کی ہابی تھی ۔۔ ایک دفعہ میں ، میری وہ دوست اور اس کی والدہ محترمہ ایک ساتھ رکشہ میں سفر کر رہے تھے ۔۔۔ رکشہ والا ہماری بتائی ہوئی جگہ پر لا کر کہنے لگا کہ کرایا کم ہے آپ کچھ پیسے زیادہ دیں ۔۔میری دوست کی والدہ کچھ پیسے بڑھا کر دینے لگیں تو میری دوست کو غصہ آگیا اور اس نے رکشے والے کی عمر کا لحاظ کیے بغیر اسے اتنی باتیں سنائی کے وہ غریب چپ چاپ آنکھوں میں نمی لئے وہاں سے چلا گیا۔۔۔ گھر واپس آکر میرے دوست کی والدہ نے اس سے کہا کہ بیٹا میں نے تمہیں یہ سب نہیں سکھایا تھا ، تم نے نہ جانے ایسا رویہ کہاں سے سیکھا ۔۔اگر تم اس رویے پر قابو نہیں پا سکتی تو میرے اوپر اپنا غصہ نکال لیا کرو کیوں کہ میں تمہاری ماں ہوں تمہیں بددعا نہیں دونگی لیکن اگر تمہاری اس بد زبانی پر کسی باہر والے کے دل سے آہ نکل گئی تو ۔۔ پھر شاید میں بھی اللہ کے غصے سے تمہیں نہیں بچا سکوں گی ۔۔۔۔ یہاں مجھے لوگوں کی دل عذاری کرنے والوں کے لیے وہ احادیث اور آیات یاد آگئیں جن میں سخت زبان اور سخت دل لوگوں کے لئے عذاب کی وئیدیں سنائی گئی ہیں ۔۔
ہم مسلمان ہمارے ماں باپ مسلمان ۔۔۔ پھر بھی ہمارا رویہ اتنا بدصورت ۔۔۔۔ کیوں کہ ہم ساری زندگی بس خود کو صحیح سمجھتے ہیں۔ نرمی ، ہمدردی ، وعدہ پورا کرنا ، لوگوں کی مدد کرنا ،جھوٹ نا بولنا ۔۔ کسی کو نیچا نا دیکھانا یہ سب ایک مسلمان کی شخصیت میں چار چاند لگانے والے اخلاقی اصول ہیں۔۔ جنہیں آج ہم فراموش کر چکے ہیں ۔ ہماری نئی نسل نے سوشل میڈیا سے کچھ سیکھا ہو یا نہیں لیکن اپنی آئی ڈی میں اباؤٹ کے آپشن میں مائی لائف مائی رولز لکھنا ضرور سیکھ لیا ہے ۔۔۔ ہم خاص باقی سب بکواس جیسے۔۔۔ جملے لکھ کر ہمارے بچے خود کو بہت براڈ مائنڈڈ اور کول سمجھتے ہیں۔۔۔ انہیں کوئی بتانے والا نہیں ہے کہ بیٹا جی ہم ملحد نہیں ہیں دین اسلام ہمارا دین ہے ہماری زندگی میں صرف اللہ کی مرضی چلے گی ۔۔ خاص صرف وہ ہیں جو اللہ کے ہاں خاص ہیں اور اللہ کے ہاں خاص وہ ہے جو ہم سب میں بہترین ہو ۔۔۔ اور حدیث کے مطابق تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں ۔۔۔ اور اچھے اخلاق کا مکمل سیٹ آف رولز ہمارے پیارے مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں دے چکے ہیں۔ اہل ایمان اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت پر توجہ کیجیے۔۔۔۔ کیسے کمانا ہے کتنا کمانا ہے ۔۔ کون سی ڈگری حاصل کرنی ہے ۔۔ یہ سب سیکھانے سے پہلے ان کے اخلاق کو بہتر بناہے کیوں کہ جب بغیر اخلاق والوں کے پاس پیسے یا ڈگری آتی ہو تو وہ اپنی اخلاقی جہالت کا نشانہ سب سے پہلے اپنے بوڑھے ماں باپ کو بناتے ہی، اپنا بوڑھاپا اور اسلامی معاشرہ محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی اخلاقیات کو پروموٹ کریں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button