بلاگز

ہسڑیا اور مرگی۔ دو خطرناک امراض ۔

ہسٹیریا کا دورہ۔ اور مرگی کے دورے میں۔ ہم نے کیسے فرق دیکھنا ہے۔

دیکھیں جو مرگی کا دورہ ہوتا ہے۔ اس کے اندر چیز جیسے کھڑی ہے۔ ویسے ہی گزر جائے گی ۔ ہمیں یہ نہیں پتا ھوتا ۔ کہ اس نے دائیں طرف کرنا ہے ۔ یا بائیں طرف کرنا ہے ۔ مرگی میں یہ ھوگا ۔ کہ ایک دم سے مریض گرجائے گا۔ اب وہ آگ میں گر بھی کر سکتا ہے۔ پانی میں گر سکتا ھے۔ چھت یا دیوار سے بھی گر سکتا ھے۔ اور اسے چوٹ لگ سکتی ھے۔

اس کے بعد اس کے جھٹکے ہوتے ہیں۔ جسم ایک دفعہ سخت ہوگا۔ اور پھر جسم ایک مرتبہ اکھٹا ھوگا۔ اب جو ہسڑیا میں جب مریض گرے گا۔ ایک جگہ پر گرے گا ۔ سہارا لے کر کرے گا۔ آہستہ آہستہ چکر آ رہے ہیں۔ اور اس کے جسم کو جھٹکے بھی لگیں گے۔ یا تو ایک طرف لگ رہے ہوں گے۔ یا دوسری طرف۔ کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف جھٹکے ۔ یا رک رک کر لگے گے۔ یا زیادہ ھوں گے۔

مرگی کا جودورہ ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دو منٹ چلے گا۔ اس کے بعد مریض اٹھےگا۔ دیکھے گا۔ اور پھر تھوڑا سا کلیر ہوگا۔ ہسٹریا والا مریض جب اسے جھٹکے لگے گے۔ تو وہ پندرہ منٹ ۔ سے 20 منٹ۔ ایک گھنٹہ بھی لگ سکتا ہے۔

بے ہوش ہونے لگے گا۔ تو ایک گھنٹہ بھی بے ہوش ہو سکتا ہے۔ اب جب ہم بے ہوش مریض کی آنکھ کھولے گے۔ تو اس آنکھ گھوم رہی ھوگی۔
مرگی کے بعد یا ویسے بھی بے ھوش ھو ۔تو اس مریض کی آنکھیں کھلیں گے۔ تو جوآنکھیں ہیں۔ اگر وہ سامنے دیکھ رہا ہے۔ تو آنکھوں کی پتلی سامنٕے ہی ہوگی ۔ اسی طرح سے جب آپ مریض کے بازوں کو اوپر اٹھاکر چھوڑیں گے ۔ تو ایک دم سے نیچے نہیں گرے گا۔ ایک دفعہ بازو وہاں پر رک جائے گا ۔ اور اگر مریض لیٹا ہوا ہے۔ تو اس کی ٹانگوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔تو وہیں پر رک جائیں گے۔

تو اس طرح سے ہسٹریا اور مرگی ۔ کے جو ہمارے ڈاکٹرز ہیں۔ ان سے گزارش ہے ۔ کہ مرگی کی دوائی شروع کرنے سے پہلے۔ اس چیز کو کنفرم کر لیں ۔ اور کسی سپیشلسٹ۔ یا سائیکیٹرسٹ۔ کوبھجوا دیں ۔ ایک دفعہ کنفرم کر لیں۔ پھر مرگی کے دورے میں جو باقی علامات ہوتی ہیں ۔ کہ زبان کاٹ جاتی ہے ۔ مریض کا پیشاب نکل جائے گا ۔

رات کو سوتے وقت جو ہسڑیا کے دورے ہیں ۔ یہ ایک مخصوص وقت ہوگا ۔تین بجے ۔ڈیڑھ بجے۔ جیسے عصر کا وقت ہوتا ہے ۔ دورہ پڑ جاے۔ صبح آٹھ بجے دورہ پڑ جاتا ہے۔ تو مرگی کے دور کی ٹائمنگ نہیں ہوتی۔ یہ جو مخصوص ٹائم والے دورے رہے ہیں۔ یہ بھی ہسٹریا کی طرف علامت ظاہر کرتے ہیں۔

ایسے ہی سوتے میں جو دورہ پڑتا ہے۔ کہ مریض سو ہو رہا ہے ۔ رات ڈیڑھ بجے۔ دورہ پڑ گیا ۔ وہ چیز مرگی میں ہوتی ہے۔ اور سوتے میں جو جھٹکے لگتے ہیں۔ ان کو ۔مایو کروبین جزر۔ ہم بولتے ہیں۔ اکثر بندہ نیند میں جا رہا ہوتا ہے۔ جھٹکا سا لگتا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے۔ کہ آپ ایک دم سے خواب میں چلے گئے ہیں۔ پاؤں آپ کا سڑھیوں سے نیچے چلا گیا ہے۔ کسی نے دھکا دے دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ۔ یا پھر صبح جب نیند سے اٹھ رہے ہوتے ہیں ۔ ایسے جھٹکے لگتے ہیں ۔زیادہ تر یہ نیند میں ہوتے ہیں۔

تو ہمیں یہ دیکھنا ھوتا ھے۔ ہسڑیا اور مرگی کے اندر یہ چیزیں دیکھنا ہوتی ہے۔ کہ مریض اس وقت کیسا ہے۔ اس لیے ہسڑیا میں جو دورہ ھے۔وہ فرمائشیں ہوتے ہیں۔ مریض آ کر بیٹھے گا۔ اس کے گھر والے بتا رہے ہوں گے ۔ کہ اس میں ایسے ہوتا ہے۔ تو ایک دم سے مریض پیچھے کی جانب سے گر جائے گا ۔ اور ہلنا شروع ہو جائے گا۔ تو یہ مخصوص وقت اور فرمائشیں دور ہوتے ہیں۔ یہ ہسڑیا کے دورے ہوتے ہیں۔ یہ مرگی کے نہیں ہوتے۔ دوسرا مرگی کا دورہ یہ نہیں دیکھتا۔ کہ مریض کس حالت میں ہے ۔اور اس طرح ہم مرگی اور ہسڑیا کے دورے میں فرق کرتے ھے۔

اور پھر ایک ساہکا ٹرسیٹ کا یہ کام ہوتا ہے ۔ کہ ہم اس کی تہہ میں پہنچتے ہیں۔ کہ مریض کو کیا مسئلہ ہے۔ اگر ایک بچی ہے۔ اسے صبح آٹھ بجے دورہ پڑھ رہا ہے ۔ تو اسکول جانے کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے ۔ کہ وہ سکول نہیں جانا چاہتی۔ اس طرح سے ایک بندے کو کام کی جگہ پر دورہ پڑ رہا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے۔ کہ وہ کام نہیں کرنا چاہتا۔
پھر جو لوگ لڑکیاں گھروں میں ہوتی ہیں ان کو دورے جو پڑھتے ہیں تو ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی سٹریس ہوتا ہے کوئی چیز ایسی نہیں جو انکی مرضی کے خلاف ہو رہی ہوتی ہے اس سے کچھ ایسا کروایا جارہا ہوتا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتیں اور پھر وہ ساری ہسٹری لے کر جب مریض سے ہم بات کریں گے تو اس چیز تک پہنچنا ہوتا ہے کہ اصل وجہ کیا ہے مسئلہ کیا ہے تو جو ہسٹریا ہوتا ہے وہ اچھا خاصہ چیلنج ہوتا ہے پھر ہمارے ہاں اس کو بنا دیتے ہیں یہ ان کا سر ہے اس پر سایہ ہے جب یہ بول دیا جاتا ہے کہ جنات کا دورہ ہو گیا ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button