بلاگز

فری میسنز خفیہ تینظم

ایک خفیہ تینظیم جو پوری دینا کے نظام کو قابو میں کرنا چاہتی ھے

اس نام کی تنظیم کا قیام اس وقت جرمنی میں عمل میں آیا . جب1393 کے لگ بھگ روزن کروز نامی ایک عیسائی۔ یا یہودی نے بائبل کی داستان میں جمع کرنے کے لئے عرض مقدس کا سفر کیا ۔ وہ 1402 میں واپس جرمنی آیا ۔ جہاں اس کے گرد بہت سے پیروکار جمع ہوگئے۔ یہ پیروکار اس کی مذہبی تحقیقات سے استفادہ کرنا چاہتے تھے۔ روزن کروز نے 1484 میں ایک سو گیارہ سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

ایک روایت کے مطابق ۔اس کی لاش ایک خفیہ مقبرے میں محفوظ کر دی گئی۔ جس کے ساتھ کبھی نہ بجھنے والا ایک چراغ تھا ۔ روسنز کے افسانوں میں۔ اس کا ذکر اس طرح کیا جاتا ہے۔ وہ جو ایک خفیہ مقبرہ میں لے جایا گیا ۔ کچھ محققین کا کہنا ہے۔ کہ یہ برادری1615 میں درج ذیل کتاب کی اشاعت کی اشاعت کے بعد پھیلی۔
Fama fraternitatis and confessios Rosea crucis.

اس جرمن کتاب کا انگریزی ترجمہ 1652 میں ہوا ۔ صلیب گل رنگ برادری کی شہرت اور اطراف کے نام سے ہوا۔ اس کتاب میں روزن کروز نے ارض مقدس کے سفر کا احوال قلم بند کیا تھا۔ امریکا میں آج بھی اس تنظیم کی دو شاخیں پائی جاتی ہیں۔ ان دو شاخوں کا دعوی ہے کہ وہ ہی اصل اور قدیم تنظیم ہے۔

ایک شاخ کا نام روزی قوسین برادری ہے۔ جس کا ہیڈکوارٹر سان جوزے کیلیفورنیا میں ہے۔ دوسری کا نام۔
Ancient mystical order rosae crucis.
جس کا مخف AMORC ہی استمال ھوتا ھے۔ ان کا بظاہر ہیڈ کواٹر کیکر ٹاون پنسلوینیا میں ھے۔

ان دو گروہوں کا دعوی ہے ۔کہ یہ تنظیم قدیم مصر میں عمل میں آئی تھی ۔ اور مختلف ادوار میں پردہ اخفا میں رہتے ہوئے۔ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ روزی کرو سنز عقائد مصری رہبانیت اور یہودی قبائلیت کے علاوہ کئی اور مسالک مذاہب کے عقائد اور رسوم ہیں۔
روزی کروسنز تینظیم کا نشان گلاب اور صلیب کا امتیزاج ہے۔ اسی نشان کی نسبت سے تنظیم کا نام رکھا گیا ۔ یہ تنظیم دھات کی سونے میں تبدیل کے عمل قدیم کیمیائی گری پر بھی یقین رکھتی ہے۔ اس گرو کو مسلمان عالم ابن کثیر ایسے یہودیوں کا گروہ کہتے ہیں۔ جو یقین رکھتا ہے ۔ کہ عام دھات سونے میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔کہا جاتا ہے۔ کہ اس تنظیم نے خود کو سچائی کی تلاش کے لیے وقف کر رکھا ہے ۔اس کے ارکان میں۔ فلاسفر۔ آرٹسٹ۔ بالخصوص کیمیادان ہے۔ یہ کیما دان وہی ہیں۔ جنہیں تاریخ میں الکمسٹ کہا جاتا ہے۔
اس موضوع پر اگلی گفتگو میں مزید بات کریں
اللہ نگہبان

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button