صحت

ہسڑیا کیا ھوتا ھے اس نفیساتی مرض کے کیا نقصانات ھے

کیا ہسڑیا کا مریض مکر کرتاھے۔ اس کی کیا علامات ھے

انزائٹی اور اس کے حوالے سے۔ ان کی اہمیت اور اقسام میں آتی ہے ۔ اس میں ہم بات کر رہے ہیں۔ ہسٹیریا کے حوالے سے گزشتہ ہم نے بات کی تھی۔ ہسٹیریا اور کو جوجنات بنا دیتے ہیں۔ تو صرف ایک کم عقلی ہے ۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ اس میں اصل مسئلہ جو ہے ۔ وہ اس سے نظر انداز ہو جاتا ہے۔ تو ایک تو ہسٹریا کا فائدہ یہ ہوتا ہے۔

مریض کو اصل جو مسئلہ ہے ۔ اس سے نجات مل جاتی ہے۔ دوسرا اس کو یہ فائدہ ہوتا ہے۔ کہ sick roll کی وجہ سے جو اسے فائدے ہوتے ہیں۔ اسے اہمیت دی جاتی ہے۔ اسے vip بنا دیا جاتا ہے۔ ہر بندہ اس کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے۔ تو وہ اس کے فائدے ہوتے ہیں۔ وہ اس کو لاشعوری طور پر یہ بتاتا ہے۔ کہ دیکھو اگر تم نے اس کے فائدے حاصل کرنے ہیں۔ تو پھر تم کو بیمار ہی رہنا ہے۔ اچھا اب جو ہسٹریا جوھے۔ وہ مکر نہیں ہے۔ کہ ہم کہے یہ مریض کو ڈرامہ کر رہا ہے۔ مکر کر رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔

جو مکر ہے۔ جہاں انسان بن رہا ہوتا ہے۔ کہ میں بیمار ہوں۔ اس میں اور اس چیز میں فرق ہوتا ہے ۔ جو مقر ہوتا ہے۔ وہ انسان شعوری طور پر کرتا ہے ۔اسے پورا ہوش ھوتا ہے ۔ کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اور سامنے والا فورا اس کے مکر کو جان جاتا ہے۔ جیسے ایک بچہ۔ صبح اٹھ کر بولے میرے پیٹ میں درد ہے ۔اور اسکول جانے کے لئے کر رہا ہے۔ اب جو مکر کرنے والا بندہ ہوتا ہے۔ اس کے اندر آپ کو انزائٹی بھی نظر آتی ہے ۔ کہ وہ شعوری طور پر کر رہا ہوتا ہے۔

اس لیے وہ اپنے آپ کو شدید بیمار ظاہر کرنے کے لیے پیٹ پکڑا ہوا ہے۔ بازو۔ ٹانگ۔ سر پکڑا ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر بھی ایک انزاٹی ہوتی ہے۔ کہ جی میں بہت تکلیف میں ہوں۔ لیکن ہسٹریکل جو ہوتا ہے۔ وہ یہ چیزیں لاشعوری طور پر کر رہا ہوتا ہے۔ وہ مکر نہیں کر رہا ہوتا ۔ اب اس کے چہرے پر انزاٹی نہیں ہوتی۔ اب وہ ہے تو بیمار۔ اس کی۔ زبان۔ کان ۔نظر ۔بازوں۔ ٹانگیں ۔کام کرنا بند کر دیں۔ یا کبھی کبھی رک جائیں ۔ یا اس کا بازو مسلسل کانپ رہا ہے۔ لیکن اس کے چہرے پر انزاٹی نہیں ھے۔

مریض بلکہ اس سے الگ ہوگا۔ اور وہ کہے گا ۔ کہ جی اگر بازو میں ٹھیک ہوجائے ۔ تو میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ مسکرا کر بات کرے گا ۔ آپ کے ساتھ ۔ جب آپ اسے D.convert کرتے ہیں۔ اس کے ہسڑیکل کوconvert جو ری ایکشن ہوتا ہے۔ تو اس کی الگ الگ مہارتیں ہیں۔ اس پر بھی بات کریں گے۔ تو جب اسے D.convert کریں گے۔ وہ ہسٹیریا میں نکلتا ھے۔ تو اس کے چہرے کے اوپر دکھ اور تکلیف کےآثار نظر آے گے۔

اور اکثر مریض اور رونا شروع کر دیتے ہیں۔ آتے ہیں وہ اپنے مسائل کے ساتھ مسکرا رہے ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ چیز بڑی ضروری ہے سمجھنے کے لئے۔ کہ ہسٹیریا جو ہے وہ ڈرامہ نہیں ہے ۔ وہ لاشعوری طور پر مریض سے ہو رہا ہے۔ شعور مریض کی پرابلم کو نہیں سمجھ رہا۔ یا اس کا اظہار کرنے سے روک رہا ہے۔ تو مریض جو ہے۔ لاشعوری طور پر۔ اس کا جسم بات کرتا ہے۔ سناتا ہے ۔ کہ میںرے ساتھ یہ مسئلہ ہے۔ اس کو وہ ظاہر کرتا ہے۔

یہ چیز بڑی اہم ہیں سمجھنے کے لئے۔ کہ یہ مقرر نہیں ہے۔ اسی طرح سے جب ہم یہ کہتے ہیں۔ convert ہو جاتی ہے۔ یعنی کہ کسی جسمانی علامت میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح سے ہسٹریا کی دوسری قسم کیا ہوتی ہے۔ کہ جہاں مریض اس صورتحال سے اپنے آپ کو کاٹ لیتا ہے۔ یاداشت ختم ہو جاتی ہے۔ عام مثال اس کی کیا ہوتی ہے۔ کہ جو کوئی قریبی رشتہ دار ہو۔ خدانخواستہ ان کا انتقال ہو جائے۔ تو ہسٹریکل مریض کہے گا ۔ کچھ بھی نہیں ہوا ۔

ویسے ہی بیمار تھے ۔ چادر لیٹے ہوئے تھے۔ ہسپتال لے کر گئے ہیں۔ ویسے کچھ بھی نہیں ہوا ۔ سارے رو رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ کہتا ہے۔ کہ کچھ نہیں ہوا۔ تو اکثر ایسے مریض کو لایا جاتا ہے۔ کہ جیسے یہ اکسپٹ نہیں کر رہی۔ رو نہیں رہی ۔ سکتے میں ہے ۔ کہ یہ ایک طرح سے۔ نیچرل ڈیفنس میکانیزم ہے۔ قدرت نے انسان کو شدید ڈپریشن سے بچانے کے لیے یہ فلو مینا دماغ ایکٹ ہو جاتا ہے۔ کہ کسی اور علامت میں اس کی تکلیف ظاہر ہوجاتی ہے ۔ یا وہ اپنے آپ کو لاتعلق کر لیتا ہے۔

اس سے یہ ہوتا ہے ۔ کہ جو صدمہ اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ اس صدمے میں سے وہ آسانی سے گزر جاتا ہے۔ تو اس کو ہم کہتے ہیں ۔ ڈی آئی سی یو ویڈڈ ایکشن ۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں ۔ کہ نفسیاتی طور پر ذہنی طور پر ہسٹیریا کے جو مریض ہے۔ کہے گامیری یاداشت ختم ہوگی۔ مجھے یاد نہیں۔ یہ میری ماں نہیں۔ یہ باپ نہیں۔ پتا نہیں۔ کون لوگ ہے۔ اگر اس کے باپ کا نام فضل ہے۔ تو کہے گا۔ میرے باپ کا نام کریم ہے۔ اور بعض اوقات جو مریض ہوتے ہیں۔ وہ اور زبانوں میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ اگر وہ پٹھان ہیں ۔ اردو بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ آوازے بدلیں گے۔ جیسے یہ ظاہر کریں گے۔ کہ کوئی اور چیز ھے۔ کوی جن کے اندر ہے۔ تو یہ چزیں عقل کے ساتھ سمجھنا لازمی ھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button