بلاگز

نفسیاتی امراض میں ہسڑیا کے دوران یاداشت کا کھو دینا

ہسڑیا ایک جسمانی شکل اختیار کرتا ہے ۔ اور دوسرا ذہنی شکل اختیار کرتا ہے ۔ ۔مریض اپنے آپ کو اس صورتحال سے کاٹ لیتا ہے۔ یعنی جو اپنی شناخت میں تکلیف ہوتی ہے ۔ تو وہ سمجھتا ہے ۔ کہ اس تکلیف کا حل یہ ہے ۔کہ میں اپنی شناخت کو بدل دو۔

میں اس گھر کی بچی نہیں ہو ں۔ یہ میرے والدین نہیں ہے۔ بہن بھائی نہیں ہے ۔ میں یہاں رہتی نہیں ہوں ۔ میں تو کچھ اور ہی ہوں۔ کسی اور جگہ سے ہوں ۔ اور اکثر یہ ہوتا ہے۔ کہ وہ بچی جو اس طرح سے Dissociation میں ہوتی ہے ۔وہ یہ کرے گی۔ جو اس کے آئیڈیاز میں چیزیں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر۔ کوئی couple ھے۔ وہ اس کو بہت اچھا لگ رہا ہے۔ وہ بہت kind ہے ۔وہ بولے گی وہ میرے والدین ہیں۔

یا اس کے ذہن میں ہوگا ۔کہ میں بہت کھاتے پیتے آدمی کی بیٹی ہوں۔ یا کسی ڈاکٹر کی بیٹی ہوتی ۔ تو وہ کہے گی۔ کہ میرے والد ڈاکٹر ہیں ۔ افسر ہے ۔ وہ جو اس کی فینٹسی ہوتی ہے ۔ تو اس کے لیے Dissociation کا سہارا لیتی ہے۔ لیکن پھر یہ بات یاد رہے۔ کہ وہ ڈرامہ نہیں ہوتا ۔ وہ مکر کی بات بنانا نہیں ہوتا۔

بلکہ وہ لاشعوری وہ چیز اپنے آپ ہو رہی ہوتی ہے ۔ تاکہ میں نے گزارش کی تھی۔ کہ یہ قدرت کے ڈفینس میٹر ہیں۔ انسان کو بچانے کے لیے ۔ جو انسان ہے۔ وہ شدید تکلیف میں جانے سے پہلے رک جائے۔ اور وقتی طور پر اس سے الگ ہوکر اس کے ذہن میں نہ ہو۔

وہ ان چیزوں سے نکل جائے گا ۔ جیسا ہم درد کا ٹیکا لگا دیتے ہیں۔ تو بیماری تو ختم نہیں ہوتی ۔ کہ جو بیماری تھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن اس کے درد کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ اس طرح سے جو مریض ہسڑیا میں جاتا ہے ۔ اور کن ورجن میں یا dissociation میں اسے بیماری کا حل تو نہیں ہوتا ۔ لیکن وہ وقتی طور پر سے باہر چلا جاتا ہے۔ احساس اس کا نہیں رہتا۔ وہ comft میں ھوجاتا ھے۔

اس لئے علاج کے لحاظ سے۔ مریض کو ہمیں بطور ماہر نفسیات ۔ جو اس کے گھر والے ہوتے ہیں۔ ان کو ہم بریفنگ کرتے ہیں۔ اور بتاتے ھےتکلیف ہے کیا ھے ۔ اگر فوری طور پر D convert کیا جاے گا۔ تو ایک دم سے ڈپریشن اور اینگزائٹی پر آئے گی ۔ اور پھر اس کا کچھ بھی ری ایکشن ہو سکتا ہے۔ اس کا وہ اپنے آپ کو نقصان دے سکتا ہے۔ کچھ اور کر سکتا ہے۔

تو اس لیے ہمیں ڈی کن ورجن کی بھی تیزی نہیں ہوتی ۔ بہت جلدی نہیں ہوتی۔ آہستہ آہستہ ریلیکس کرتے ہیں ۔ اسے باہر لایا جاتا ہے۔ میڈیسن دے دی ۔ گولیاں دے دی۔ انجیکشن دے دیا ۔کہ یہ تین چار دن میں واپس اپنی اسی حقیقی دنیا میں آ جائے گا ۔ ہمیں وہ فوری جلدی نہیں ہوتی اس میں۔

لیکن بطور ماہر نفسیات۔ آ پ کی ذمہ داری ہے۔ کہ جو گھر والے ہیں۔ ان کو آپ یہ مکمل طور پر سمجھاے۔ کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ اور اس کی طرف ہم نے کیسے جانا ہے۔ اب یہ جو چیز ہو رہی ہے اسی سے اس کی جان کو کوی خطرہ نہیں ھے۔

آج کل یہ عام بات ہے۔ کہ والدین کہتے ہیں ۔ کہ جی دماغ میں کچھ ہوگیا ہے۔ فوری طور پر وہ کمپیوٹر لگائیں گے ۔ اور جو اس میں جو ہمارے دوست احباب ہیں مختلف باتیں بتانا شروع کر دیں گے۔ اور آن لائن ڈاکٹرز نے۔ ایسی ویڈیوز اپلوڈ کی ہوتی ہیں۔ کہ ہر مریض کو لٹا کر چار سے پانچ ہزار کی ایجی لی جاتی ہے ۔ یا دکھائی جاتی ہے ۔ اس طرح سے بعض لوگ جو ہیں۔ جو اس کی۔ ایم ۔آئی ۔آر جو 5 سے 6 ہزار کا ٹیسٹ کروائیں۔ اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اگر ڈاکٹر کو بیماری کنفرم ہے۔ تو پھر اس کی وجہ نہیں بنتی۔ کہ وہ اس کے ٹیسٹ کرائے۔ بلکہ اس کو صرف یہ کرنا ہوتا ہے ۔ کہ تھوڑی سی محنت کرکے ۔ جو گھر والے ھے۔ ان کو سمجھانا ہوتا ہے۔ کہ یہ مسئلہ ہے ۔ میں سمجھ گیا ہوں ۔مجھے ضرورت نہیں ہے۔ ٹیسٹ کی اس لیے آپ بھی اس چیز سے اس بات کو سمجھ جائیں۔ اس طرح سے ہسٹریا جو ہوتا ہے ۔ پہلا مرحلہ۔ اسے ڈی کنورٹ کرنا۔ dissociation یا کن ورجن میں ہے۔

تو پھر اس مریض کی انزائٹی جو ہے۔ وہ سامنے آ جاتی ہے۔ آپ تجربے سے بھی سمجھ جاتے ہیں ۔ تو آپ والدین کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں ۔ایشو کلیئر ہوجائیں گے ۔اس ٹیم ورک میں۔ میرا خیال ہے۔ کہ اگر ڈاکٹرز ۔ والدین کو سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ڈی کنورٹ میں کامیاب ہوجائیں۔ تو یہ ہسٹیریا کاسیشن لمبا نہیں چلتا۔ دو یا تین سیشن میں مسئلہ حل ہو جاتا ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button