بلاگز

اچھی خبریں

طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ کچھ نے چیر کے سامنے آرہے ہیں کچھ پرانے سائیڈ لائن ہورہے ہیں اور کچھ دوبارہ واپس اپنے پرانے گولوں کی طرف لوٹ رہے
ہیں ۔ ہمیشہ سب کچھ ایک جیسا نہیں رہتا وقت اور حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ جو ایک بار منظر سے غائب ہوا پھر اس کا دوبارہ منظر پر آنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ جو بھی عہد سےاور
پوزیشن میں ہو کہ صرف اسی کا چھتا ہے ۔ نئے آنے والے صاحب پر لازم نہیں ہوتا ہے کہ وہ پانے والے صاحب کی پالیسی کو آگے بڑھائے اور یہی وہ اپنے پیش رو کی ہر بات پر
کم بجالانے کا قائل ہوتا ہے۔ لیکن کچھ معاملات میں پالیسی مرف ادارے کی ہی چلتی ہے۔ پھر اصل فیصلہ سازی کا اختیار بھی کرسی پر بیٹے صاحب کے پاس ہوتا ہے۔ میاں
نوازشریف کے ایک غیر سیاسی دوست سے میری چند دن قبل ملا قات ہوئی ۔ یہ ملا قات تقریبا چھ ماہ بعد ہوئی ۔ ویسے تو وہ مجھے ہفتے میں ایک وبا کمال لازمی کرتے ہیں اور ان کا ہر
بار ایک ہی اسرار ہوتا ہے کہ سیف صاحب آپ نے اس جنت لا زمی میر سے گھر چائے پر تشریف لانا ہے۔ میں ہر بار وعدہ کر لیتا ہوں لیکن بچ نہیں پاتا لیکن گزشتہ ہفتے میں اچانک
ان کے گھر گیا وہ بھی بتائے بغیر میری قسمت اچھی تھی وہ گھر پر ہی موجود تھے۔ ہماری اکثر ملاقات ان کے گھر میں ہی قائم آفس میں ہوتی ہے جہاں وہ اکثر اپنے کاروباری
معاملات بھی مناتے ہیں لیکن اس مرتب مجھے وہ کچھ پریشان دیکھائی دیے، انہوں نے کہا سیف صاحب ہم سٹیڈی روم میں بیٹھتے ہیں کچھ سیاسی گپ شپ کرتے ہیں اگر ہم نفس
میں بیٹھےتو کوئی نہ کوئی بار بار آئے گا۔ ہم جیسے ہی سٹیڈی روم میں بیٹھ تو ساتھ ہی چائے بھی آگئی ۔ آج وہ پہلے کی نسبت کچھ پریشان او را و جن کا شکا نظر آ رہے تھے ۔ وہا جا سکتے
بولے سین صاحب میں نے میاں صاحب کو کہا بھی تھا کہ مشرف کیخلاف کیس نہ بنائیں لوگ آپ کیلئے مسئلہ کھڑا کریں گے پھر وہی ہوا ۔ یہ پایا شام ایک ڈرامہ تھا عمل وہ ہی
یہی تھی کہ نوازشریف نے مشرف کیخلاف کیس کیوں بنایا۔ پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ پہلے انہوں نے مشرف کو باہر بھیجا پھر میاں صاحب کو وزارت سے ہٹا دیا اس بات کواب
چار سال ہو گئے ہیں لیکن میرے لیے ابھی کل کی بات ہے ۔ جیسے آج بھی وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں ۔ پھر انہوں نے ایک عجیب بات بتائی جو میرے لیے بہت باعث حیرت
تھی۔ انہوں نے کہا مجھے بھی آپ کے آنے سے ویں منٹ پہلے راحیل شریف کا فون آیا تھانہوں نے تقریبا پندرہ منٹ مجھ سے بات کی ۔ راحیل صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے
کیپٹن صفدر اور خواجہ آصف سے بھی دوبار فون پر بات کی ہے۔ میں نے ان سے بات نہ پوچھا کہ راحیل شریف نے کیپٹن صفدر اور خواجہ آصف سے کیا با ت کی لیکن میں نے یہ پوچھا
راحیل صاحب نے آپ سے کیا بات کی ۔ انہوں نے کہا سیف صاحب کو کوئی خطرے والی بات یا چمکی آمیز پیغام نہیں تھا بلکہ اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی ہے۔ کوئی مثبت پیام
تھا۔ راحیل شریف ویسے بھی ایک نفیس اور خاندانی آدمی ہیں ۔ تھوڑی دیر رکے اور پھر بولے کہ میاں صاحب اور مریم بیٹی کی نا اہلی چٹکی بجانے سے بھی پہلے تم ہو سکتی ہے اگر
قانون کی نظر سے دیکھیں تو اس کیس میں رتی برای جان نہیں ہے۔ ویسے اخلاقی طور پر سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ میاں صاحب کی وہ سزا لازمی ختم کر دیتی جونج ارشد ملک نے وی
تھی اب شاید مریم بی بی کے پاس دو وید کی اور بھی ہیں وہ میڈیا ایک حج کی اور ایک کسی اور طاقو شخص کی ہوسکتی ہیں۔ مریم بی بی کے پاس کچھ ایسے دستاویزات بھی ہیں جو میاں
صاحب اور مریم بی بی کی ابی ختم کرنے کیلئےمددگارثا بت ہو سکتے ہیں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مریم بی بی اب وہ ویڈیو جاری کرنا چاہتی ہیں لیکن میاں صاحب نے ان کو توڑا انتظار
کرنے کا کہا ہے ۔ اسی دوران ان کے فون کی گھٹی پھر بھی لیکن اس بار انہوں نے فون کال کٹ کروں ۔ ہمارے نشتگو کے دوران ان کی تقریبا تین چار مرتبہ کار آ چکی تھی لیکن و فون
نہیں اٹھا رہے تھے۔ اب میں نے اخلاقی طور پر سوچا کہ مجھے اب چلنا چا ہیے ۔ میں نے ان سے سلام کیا اور لکھنے کیلئے اجازت طلب کی ۔ انہوں نے کہا سیف صاحب آنند چند
ونوں میں آپ کو اچھی خبر میں ہی دیکھنے کیلیں گئیں ۔ میں مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکالا اور ان کو الله حافظ کہا
نام تحریر حسینہ
Twitter Hand @chotibird

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button