بلاگز

‏مہنگائی – کیا اکیلا عمران خان ذمہ دار ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں حالیہ مہنگائی نے عوام کی پریشانیوں میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے سفید پوش افراد کا روز مرہ خورد و نوش کی ضروریات کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے قوم ایک بے چینی کی حالت سے دو چار ہے۔اگرچہ ہر نئی آنے والی حکومت کو یہ مسئلہ در پیش رہا ہے لیکن اس بار مہنگائی میں حکومتی انتظامات میں کمی کی وجہ سے جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، وہاں کرونا جیسی موذی وبا نے حالات اور بھی پیچیدہ کر دیئے ہیں۔ جہاں  لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں وہیں معمولات زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس سارے معاملے کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن پر ہم یکے بعد دیگرے روشنی ڈالیں گے۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں سپلائی اور ڈیمانڈ کی۔ جب بھی کسی چیز کی ڈیمانڈ اس کی سپلائی سے بڑھ جاتی ہے تو اس قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ جب ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو اس کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ہو مہنگائی کے بڑھے کی بنیادی وجہ ہے۔دوسری اہم وجہ حکومتی اخراجات کا بڑھنا بھی یے۔ جب حکومتی اخراجات موصول ہونے والے ٹیکس سے زیادہ ہو جائیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لئے چیزوں کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں جو مہنگائی کا سبب بنتی ہیں۔ اس میں ایک جزو یہ بھی شامل ہے کہ حکومتی اداروں جیسے سٹیل مل، پی آئی اے وغیرہ اتنی آمدن نہیں بنا رہے جتنی رقم ان کی تنخواہوں اور قرضہ جات کو اتارنے کے لئے حکومت کو ہر سال مالی معاونت کرنی پڑتی ہے۔ حکومتی خزانے پر یہ ضرورت سے زیادہ بوجھ بالآخر مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔آبادی میں غیر معمولی اضافہ بھی سپلائی اور ڈیمانڈ میں فرق کی وجہ بنتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ایک اور وجہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ بڑے بڑے تاجران کئی طرح کی ضروری اشیا اپنے گوداموں میں بھر لیتے ہیں اور مارکیٹ میں ان کی کمی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی مارکیٹ میں چیزیں شارک ہوتی ہیں وہ زیادہ قیمت پہ لوگوں کو وہ خریدنے پہ مجبور کرتے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی میں بے انتہا اضافہ ہوتا ہے۔مہنگائی میں اضافے کی ایک وجہ اشیاء کی حقیقی کمی بھی ہے جب ملک میں کسی قدرتی آفت کی وجہ سے ملکی پیداوار متاثر ہو اور مارکیٹ میں اشیاء دستیاب نہ ہوں تو مجبوراً اشیاء مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہیں جو بلآخر مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ایک اور بنیادی وجہ درآمدات اور برآمدات میں فرق ہونا ہے۔ کسی بھی ملک کی پیداوار ملکی اور غیر ملکی طلب کو پورا کرنے کے قابل ہونی چاہیئے۔ لیکن اگر درآمدات اور بر آمدات میں غیر معمولی فرق پیدا ہو جائے تو وہ ملکی معیشت میں افراط زر پیدا کرتی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔مہنگائی کی ایک وجہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں کا اضافہ بھی ہے۔ کچھ ایسی اشیاء ہیں جنہیں مقامی پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً بین الاقوامی منڈیوں سے خریدنا پڑتا ہے جیسے تیل وغیرہ۔ اگر بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی قیمتیں بڑھ جائیں تو مقامی منڈی کو مجبوراً قیمتیں بڑھانی پڑتی ہیں جو براہ راست مہنگائی کا سبب بنتی ہیں۔درج بالا چند وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے میں کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ اور خواہش ہے کہ ہر شخص انہیں کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر سمجھے اور پھر سوچ سمجھ کر جواب دے۔کیا ملکی آبادی میں غیر معمولی اضافے کی وجہ عمران خان ہے جس کی وجہ سے طلب اور رسد میں بہت بڑا فرق پیدا ہوا ہے؟کیا حکومتی ادارے جو عرصہ دراز سے مسلسل نقصان میں چل رہے ہیں ان کا ذمہ دار بھی عمران خان ہے؟منافع خوروں کو منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرنے کے لئے عمران خان نے کہا ہے؟کیا پوری دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے پھیلی تباہ اور اس کی وجہ سے طلب و رسد میں فرق کے باعث مہنگائی کا ذمہ دار بھی عمران خان ہے؟کیا بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں کے بڑھنے کا ذمہ دار عمران خان ہے؟ ملکی درآمدات جو عرصہ دراز سے برآمدات سے زیادہ چلی آ رہی تھیں انہیں سرپلس کرنے والا عمران خان ہی ہے۔میں مانتا ہوں کہ انتظامی امور پر کچھ خرابیاں موجود ہیں لیکن امید کرتا ہوں اگلے دو برسوں میں عمران خان ان کمیوں اور کوتاہیوں پہ ضرور قابو پا لے گا اور پاکستان حقیقی معنوں میں ایک فلاحی ریاست بن جائے گا۔بقول اقبال ؒ 
ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ! 
بقلم مجاہد حسین‎@Being_Faani

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button