بلاگز

موجودہ دور میں بڑھتے نفسیاتی مساہل انسانیت کے لیے خطرے کی علامت ھے

ہسڑیا ایک نفسیاتی امراض ھے۔ جس میں مریض شعوری طور پر نیں بلکہ لاشعوری طور پر عمل کرتا ھے

پہلی بات تو یہ ہے۔ کہ ہسڑیا جو ہے۔ وہ لاشعوری طور پر ہو جاتا ہے۔ عملی طور پر وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ کوئی نہ کوئی اس کی ذہنی پریشانی۔ ڈپریشن یا جسمانی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جس میں کوئی جسمانی علامات کے ساتھ مریض لایا جاتا ہے۔ یا وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر کسی صورت حال سے کاٹ لیتا ہے۔۔ یعنی اس کی یادداشت ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔ اور اس طرح سے یہ ایک۔ ڈیفنس میکنیزم ہے۔ قدرت کی طرف سے ایک دفاعی نظام۔

سٹریس کے اگین ۔ خاص طور پر ایسے افراد جن کولو پریشر ہوتا ہے ۔ کہ وہ اپنی بات نہیں بتا سکتے ۔ اور ہمارے معاشرے میں خاص طور پر جو خواتین ہیں ۔ اور چھوٹے بچے ہیں۔ ان میں یہ چیز پائی جاتی ہے ۔ مردوں میں جن کے اوپر پریشر ہوتا ہے۔ زندگی کا یا کام کا۔ کے ایسے ادارے جہاں بہت زیادہ ڈسپلن سخت ہو۔ تو ان میں بھی یہ چیز دیکھی جاتی ہے۔

بات کی تھی Dissociation کہ انسان اپنے آپ کو اس صورتحال سے کاٹ لیتا ہے ۔ اپنی یاداشت کو اتنا حصہ۔ اس کی یادداشت میں نکل سےجاتا ہے ۔ کہ جیسے ایک فائل اٹھا کر الماری میں سے پھینک دی جائے۔ اور پھر وہ فائل نہ ملے۔ یہ چیز کو دیکھنا ہوتا ہے۔ کہ کوئی اور وجہ تو نہیں ہے۔ کہ اس کی یادداشت پر اثر ہے ۔ یا اثرارت ھے۔

بعض اوقات جب بھی اکثر بزرگ خواتین لاہی جاتی ہیں۔ تو بطور ڈاکٹر کے ہمیں ایک چیز میں فرق واضح کرنا ہوتا ہے ۔ کہ وہ کوئی نسیان کی وجہ سے تو ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اس میں جو نسیان ہیں۔ اور جو dissociation ڈس آرڈر ہوتا ہے۔ ہسٹریا کی وجہ سے انسان کی یادداشت پر اثر ہے۔ وہ ظاہر ہے۔ ایک ٹیکنیکلی طریقے سے۔ ایک ڈاکٹر اور سائیکیٹرسٹ کو بھی اس کو دیکھنا ہوتا ہے۔

اور اس چیز میں فرق واضح کرنا ہوتا ہے۔ علاج میں ہسٹوریکل مریضوں پر مزید بات ہم کرتے رہیں گے۔ لیکن جہاں علاج ہوتا ہے۔ اس میں جو سب سے اہم کام ہے۔ وہ گھر والوں نے کرنا ہوتا ہے ۔ کہ جب ماہر نفسیات۔ ان کو یہ واضح کر دیتا ہے ۔ کہ یہ ہسڑیا ہے ۔تو پھر ان میں ہسٹریا کے جو فائدے ہوتے ہیں۔ پرائمری جو اس کا بنیادی فائدہ بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ یعنی جو ایک مسئلہ ہے ۔ اس سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ مریض کی۔

اور ثانوی فائدے اسے ہو رہے ہوتے ہیں۔ کہ sick roll کے فائدے۔ بیماری کی وجہ سے اسے بہت زیادہ توجہ مل رہی ہوتی ہے۔ اسے وی آئی پی بنا دیا جاتا ہے ۔ آرام مل رہا ہوتا ہے ۔ اچھا کھانا مل رہا ہوتا ہے۔ ہر بندہ اس کا پوچھ رہا ہوتا ہے۔ جو اس کی خواہشات ہوتی ہیں۔ وہ پوری کی جا رہی ہوتی ہیں۔

تو ہمیں اس بنیادی چیز جو گھر والے ہیں ۔ ان کابنیادی رویہ ہوتا ہے ۔ جو ماہر نفسیات کا یہ کام ہوتا ہے۔ کہ وہ اچھی طرح سے اس کے اوپر وضاحت کرے۔ ان کے مریض کا مسئلہ کیا ہے۔ اور وہ ہسڑیا کی طرف سے سمجھانے کی کوشش کرے ۔ اور جب یہ سمجھا دیا جاتا ہے ۔ تو پھر علاج یہ ہوتا ہے۔ کہ مریض کے اوپر توجہ دی جائے ۔ اس کی بیماری کے اوپر توجہ نہ دی جائے ۔ اس پر توجہ دیں ۔ مگر اس کی بیماری پر توجہ نا دے۔ کہ وہ بے ہوش ہوگیا ہے۔ اس کے منہ میں دم والا پانی ڈال رہے۔ ہاتھ پاوں مل رہے ھے۔ بھاگ دوڑ ھوگی ھے شروع۔ بھای کو بلاو ۔ خاوند کو بلاو۔ فون کرو وغیرہ۔

چیز یں نہیں کرنی ہوتی۔ مریض کو جیسے ہی ہسڑیا کا دورہ پڑے۔ اس پر کوئی عدم توجہ نہیں کرنی۔ کہ ہمیں کوئی پروا نہیں ہے۔ تم کو جو بھی ہوا ہے۔ اس میں مریض آہستہ آہستہ خود بخود باہر نکلے گا۔ اور آئندہ جو فائدے اسے نہیں ملیں گے بیماری کے ۔تو آہستہ آہستہ وہ دورہ جو ہے وہ ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اسی طرح سے جہاں یاداشت ختم ہو رہی ہوتی ہے ۔ وہاں بھی ہمیں بہت جلدی نہیں کرنی ہوتی ۔ کہ فورا اسے سب کچھ یاد دلایا جائے ۔ فوراً کچھ وہ بولنا شروع کر دے۔ اس میں ہم نے جلدی نہیں کرنی ہوتی۔ کہ میں نے پہلے بھی گزارش کی تھی۔ کہ اگر ہم۔

ایسا کریں گے ۔ کہ وہ فورا جلدی سے بولنا شروع کر دے۔ یا اسے سب کچھ جلدی سے یاد آ جائے۔ تو گزشتہ پہلے بھی میں نے گزارش کی تھی۔ کہ اس ہسٹرییکل کا ری ایکشن ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے شدید قسم کے انزاٹی اور ڈپریشن ہے ۔ اور وہ شدید قسم کی انزاٹی اور ڈپریشن وہی پر موجود ہوگا۔ ہم نے صرف جب علامات ختم کر دیں۔ تو وہ چیز یں جب پیچھے سے اٹھ کر اوپر آئے گی۔ جو مریض کے لیے نقصان دے ہوگی یا ہو سکتی ہے۔

کہ وہ شدید ڈپریشن میں ہے۔ اور نقصان کی طرف چلا جائے گا ۔ اس میں بہت زیادہ تیزی آ جائے گی۔ وہ اپنے آپ کو بھی نقصان دے سکتا ہے۔ دوسروں کو بھی نقصان دے سکتا ہے۔ تو اس کے اندر ہمیں بہت جلدی نہیں ہوتی۔ کہ فوری طور پر اسے D convert کریں۔ اور ہم نے اس چیز میں جلدی نہیں کرنی ہوتی ۔ ماہر نفسیات کو اپنے تجربے سے اس کی ساری پروبلم کا پتا چل جاتا ھے۔

کے اس مریض کا مسئلہ کیا ہے۔ اور اسے کیا وجہ ہے ۔ تو اس لیے ہمیں ہسٹیریا کے علاج کے لئے۔ سب سے اہم چیز یہ سمجھنا ہے۔ اور گھر والوں کو سمجھانا ہے۔ اور پھرمریض کا جو بھی مسئلہ ہے۔ اور یہ بتانا ہے۔ اس کے گھر والوں کو۔ کہ یہ کوئی بہت تشویشناک بیماری نہیں ہے ۔ کہ اس کا بہت زیادہ مریض کو نقصان نہیں ہوگا۔ اگر مکمل نفسیاتی علاج کیا جائے۔ یا اس کی طرف آیا جائے ۔ تو مریض کو یہ پتا چل جائے گا۔ کہ اس کے مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button