بلاگز

نفسیات کے مطابق وہم کی بیماری کیا ھے۔ اور کن وجوہات کی بنا پر ھوتی ھے

ہماری انزاٹی ڈس آڈر میں کون کون سے امراض آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کے جو بیماری ہے ۔ وہ OCD. OBEESSIVE COMPULSIVE جسے ہم کہتے ہیں۔ وہم کی بیماری ۔ اور اس کی وجہ سے مریض بہت زیادہ پریشان ہوتا ہے ۔

اب یہ جو ظاہر ہے۔ کہ انسان کی جو ایک ساہیکی ہے ۔ذہن ہے بنیادی چیز ہے ۔ اس کی سوچ ھے۔

سوچ آئے گی ۔ تو سوچ پر عمل ہو گا۔ یعنی ہر ایکشن کی اس کا ایک تھیم ھوتا ہے ۔ اس میں خیال کیا ہے۔ اور اس خیال کے بعد اس پر عمل ہوتا ہے۔ اب جب انزائٹی آئے گی ۔ اس میں ڈپریشن پیدا ہوگا۔ اس کے اندر غصہ آئے گا۔ جب انسان کی نارمل کیفیت جو ذہن کی ہے۔ وہ بدلے گی۔ تو وہ ابنارمل ہو جائے گی۔
تو سب سے پہلے جس چیز اس پر اثر ہوتی ہے۔ وہ اس کے خیالات ہیں ۔اس کی سوچ ہے۔ اب اس میں ایک بندہ پریشان ہے ۔ انتہائی گھبراہٹ میں ہے ۔ تو ظاہر ہے ۔اس پریشانی اور اس کے خیالات اس مسئلے کے مطابق ہوں گے۔ کہ یہ مسئلہ کیسے دور ھونا ہے ۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے۔ کہ مسئلہ کچھ ایسا ہوتا ہے۔ جیسا ہم گزشتہ ہسٹریا پر بات کی تھی۔ کہ اس کو شعور کی سطع پر سمجھ نہیں آتا۔ وہ شعور میں داخل نہیں ھوپاتا۔ اگر وہ شعور میں آجاے۔ سمجھ میں آجاے۔ تع پھر ہی وہ بندہ۔ اپنے مسلے کو ٹھیک طور پر حل کر پاے گا۔ اور اس میں کامیاب ھوگا۔ کوی مشورہ لے گا۔ کسی سے پوچھے گا۔ مجھے کیا کرنا چاہیے۔

جب چیز شعور میں نہیں آرہی ہوتی ۔ تو وہ جو خیال ہے۔ پریشانی والا خیال ہے۔ یہ خفی والا خیال ہے۔ وہ خیال وہم کی شکل اختیار کرےگا۔ اب وہم وہ خیال ہوتا ہے۔ کہ شعور تو اسے قبول نہیں کر رہا ہوتا ۔ اور شعور کو سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا ۔ کہ آخر یہ خیال ہے کیا ۔ کہا سے آرہا ہے ۔ کیوں آ رہا ہے۔ اور جو مریض ہے۔ وہ اس خیال کو جھٹکنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ جو گھبراہٹ ہوتی ہے۔ اس گبھراہٹ ساتھ وہ کوشش کرتا ہے۔ کہ میں کوئی ایسا عمل کرو۔ کوئی ایسا ایکشن کرو کے۔ میرا یہ وہم دور ہو جائے۔

اور ایک لامتناہی سا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ وہ وہم۔ گبھراہٹ کا ۔ اور اس میں وہ ایکشن کرتا ہے۔ اور اسی ایکشن سے پھر بھی گھبراہٹ دور نہیں ہوتی ۔ پھر وہ وہم کا وہ سرکل چل پڑتا ہے ۔ جس کے اندر وہ بندہ اس چکر سے نکل نہیں سکتا ۔ جب وہ خیال آتا ہے ۔ اسے ہم کہتے ہیں۔ obsessive اس کے اوپر۔ اسے کوئی انزائٹی ہے ۔ اور وہ کوئی ایکشن کرتا ہے ۔جو بار بار ایکشن کرتا ہے۔ اسے ہم کہتے ہیں ۔compulsive ھے۔ یعنی مریض جو ھے۔ وہ روک نہیں سکتا اس چیز کو۔ جیسے ہم ہاتھ دھونے جاتے ھے۔ دو دفعہ ہاتھ دھو کر کہتے ھے ہاتھ صاف ھوگے۔ بس ٹھیک ھے۔چاہے وہ کبھی صابن سے دھوے یا پانی سے۔

لیکن اس میں مریض کیا کرے گا ۔وہ کہے گا کہ میرے ہاتھ گندھے ہیں۔ میں ناپاک ہو ۔ تو وہ بار بار ہاتھ دھوےگا۔ یا 20 سے 25 دفعہ ہاتھ دھوئے گا۔ کبھی وہ اپنا ٹارگٹ رکھ لے گا۔ کہ 70 سے 100 دفعہ کرنے سے ٹھیک ہوں ۔ اور وہ دھوتا رہتا ہے۔ یہ خیال آتا ہے ۔ کہ میں ناپاک ہو۔ تو نہا رہا ہوتا ہے مسلسل۔ ایسے مریض ہوتے ہیں۔ جو دس گھنٹے بعد روم میں بیٹھے رہتے ہیں ۔ گھر کا پانی ختم ہو جائے گا ۔ وہ کہیں گے۔ کہ پانی اور ڈال کر دو ۔اس پر وہ چیخیں گے چلائیں گے۔ گھر والے ڈر کی وجہ سے بار بار اسے پانی دینے لگ جائیں گے۔

تو یہ ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ اس میں سے ظاہر ہے۔ جو ہمارے انزائٹی ڈس آرڈر ہیں ۔ان میں سب سے یہ ایک طرح سے مشکل بیماری ہوتی ہے۔ کیونکہ انزائٹی ہے ۔ڈپریشن ہے ۔فوبیا ہے۔ ہسڑیا ہے ۔ ان میں تو چلے آپ سمجھا دیتے ہیں ۔کہ لو جی ۔تمہارا مسئلہ یہ ہے۔ اور اس طرح سے اس کا حل کرنا ہے۔ اس میں پہلی بات یہ ہوتی ہے۔ کہ مریض اس مسئلہ کو سمجھ پاے گا تو نکلے گا۔

وہ علاج کے لحاظ سے۔ اس دورانیہ کے لحاظ سے یہ بیماری لمبی ہو جاتی ہے۔ پھر یہ ایک سٹریس ایکشن ہوتا ہے۔ ایسے مریض جو ہوتے ہیں ۔ جو وہ OCD کے مریض ہوتے ہیں۔ کے مریض ھوتے ھے ۔ وہم کے مریض کے ھوتے ھے۔ وہ ہمیشہ انزاٹی ڈپرشین جب ان پر آے گٕی۔ مثال کے طور پر امتحان آگئے ہیں ۔ اس سے شروع ہو جائے گا۔ کوئی جواب نہیں مل رہی جب میں کوئی مسئلہ ہے۔ پھر وہی ۔ اور وہی سارا سلسلہ شروع ہوجاے گا۔ شادی شدہ زندگی ٹھیک نہیں ہے۔ پھر وہی چیز بچہ جب پیدا ہوتا ہے۔ عورت میں جو مسائل ہوتے ہیں۔ پھر وہی شکل اختیار کر جائے گا۔ اسی طرع جاب کا مسلہ ھے۔ یا جاب ٹھیک نہیں وغیرہ

تو اس پر ہم مزید بات کریں گے۔ کہ OCD جو ہے۔ کہ ڈس آڈر ہی کی ایک قسم ہے۔ بنیادی فیچر جو ہوتا ہے۔ جو مرکزی فیچر ہوتا ہے۔ جس کے گرد سوچ گھوم رہی ہوتی ہے ۔ جو ساری بات ہوتی ہے۔ وہ انزائٹی ھے۔ انزاٹی پیدا کہاں سے ہوتی ہے۔ وہ وہم سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کے دور کرنے کے لئے بار بار مریض کیا کرتا ہے۔ ایک ایکشن کرتا ہے۔ جو اس کے لئے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس چیز کو ہم کہتے ہیں۔ OBSESSIVE COMULSIVE DISORDER

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button