بلاگز

جہیز کا معاشرے پہ اثر – تحریر: حسن جتوئی

یے ففتھ جنریشن ہے اور دنیا ہائیبرڈ وار کی سوچ رکھتی ہے وہ دور چلا گیا جب کوئی تیر ، تلوار ، اور نیزوں کا استعمال کرتا تہا ،وہ دور بھی چلا گیا کہ جب گھوڑے ، اونٹ اور دیگر جانور سواری کے لیئے استعمال کیئے جاتے تہے ، ریڈیو فریکوئینسی کا دور بھی ختم ہوا ٹیپ ریکارڈ بھی ختم ہوگئی ، بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن کا دور بھی ختم ہوگیا ، لوگ قدیم سے جدید ہو گئے ، لوگوں نے آسمانوں پے اڑنا چاہا اور جھاز بنا دیئے ، مگر افسوس ہے کہ نہیں بدلی تو صرف ہماری سوچ  ، قدیم دور میں جہیز جیسا موذی مرض کم ہی پایا جاتا تہا مگر آہستہ آہستہ جیسے ہی دنیا ترقی کی طرف گامزن ہوی تو جہیز جیسی بیماری بڑھتی گئی اور آج ناسور بن گئی , آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پاک بیٹی کو صرف چند چیزیں جہیز میں دیں جو کہ قابل استعمال تہیں وہ اس لیئے کہ امت مسلمہ ہدایت حاصل کرسکے ، افسوس ہے کہ آج کا مسلمان جہیز کے بغیر تو اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرتا ، جہیز کہ متعلق کچھ اہم چیزیں قابل ذکر ہیں عمر کا بڑہ جانا ،ناظرین اکرام جیسا کے آپ جانتے ہیں کہ یہاں بیٹی پیدا ہوتے ہی والدین جہیز کا سوچتے ہوے پریشان ہو جاتے ہیں اور جہیز کٹہا کرنے لگ جاتے ہیں ، اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیٹیاں ماں باپ پہ بوجھ ہیں ، مگر جیسا کہ ہمارے اسلام میں بیٹیوں کی خاص عزت اور احترام کا کہا گیا ہے اور اس کی مثال اپنے نبی کریم صہ نے ہمیں دی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہیز ایک مرض اور ناسور ہے جس کی وجہ سے پریشانی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے ،ذہنی پریشانی یا دبائو جیسا کہ جن لڑکیوں کو زیادہ جہیز نہیں دیا جاتا تو ایسی بچیوں کو ہمیشہ طعنے ملتے رہتے ہیں کبہی اپنی سہیلیوں سے تو کبہی اپنے رشتیداروں سے اور کچھ ذلت والدین کی بہی ہوتی ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں کچھ زیادہ نہیں دیا جوکہ اسلامی نظام اور شریعت کہ خلاف ہے  ،کچھ لڑکیاں مایوسی کا شکار ہوجاتی ہیں کہ ان کی شادی جہیز کی وجہ سے اٹکی ہوی ہوتی ہے اور وہ خد کو ماں باپ پہ بوجھ سمجہتی ہیں یا پہر کوئی غلط قدم اٹھاتی ہیں جس میں قابل غور بات خودکشی یا گہر سے بھاگ جانا ہوتا ہے ، سامعین اکرام اگر ہم اسلامی طرز کی زندگی گذاریں تو ہمیں جہیز جیسے مرض سے چھٹکارہ مل سکتا ہے ، یعنے کہ نہ تو بیٹیاں بوجھ ہوں اور نہ ہی والدین کی رسوائی ہو ، نہ ہی خودکشیاں اور نہ ہی یوں گہر سے بھاگ جانا ، ہمیں جہیز میں صرف چند چیزیں دینی چاہئیں جو قابل استعمال ہوں جس میں کچھ برتن اور کچھ کپڑے ہوں اور جاء نماز اور قرآن شریف کی ایک کتاب جوکہ ہمیں گائیڈ کرے تاکہ ہم اسلامی زندگی سے واقف ہوسکیں ، 

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button