بلاگز

موجودہ دور میں انسان کے بڑھتے نفسیاتی مساہل

وہم جو انسان کی زندگی سے اس خوشیاں چھین لیتا ھے اور انسان زندگی کی کامیابی سے مرحوم ھوجاتا ھے

وہم کے امراض کا۔ اسے ہم کہتے ہیں ۔ OBSESSIVE COMPULSIVE DISORDE. اب اس میں بنیادی چیز یہ تھی۔ کہ جو ذہن میں جب ہم نفسیات کی بات کرتے ہیں۔ ذہن کی بات کرتے ہیں ۔ تو بنیادی چیز ذہن میں کیا ہوتی ہے۔ سوچ۔ اب سوچو کا ہمارا پوری طرح سے ہماری سوچوں پر قابو نہیں ہے۔ ہمارا تو خیال پر ۔ اور جو ہمارے خواب ھے۔ وہ پوری طرح سے ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ کسی بھی قسم کا خیال آ سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کا خواب آ سکتا ہے۔ تو اس طرح سے جب وہ چیز نارمل سے ہٹ کر۔

ایک خدشات تو ہر بندے کو ہوتے ہیں۔ ہر بندے کو اونچای سے ڈر لگتا ہے۔ ہر بندے کو پانی سے۔ اندھیرے سے۔ بند جگہوں سے ۔کسی جانور سے ۔ کسی پرندے سے ۔ انسان ڈر سکتا ہے۔ لیکن یہ خیال آتے ھے۔ اب کسی کو برے خیال آتے ہیں۔ کسی کو اچھے خیال آتے ھے۔ تو جب وہ چیز ایک نارمل سے بڑھ جاتی ہے ۔ وہ چیز انسان کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے ۔ ایک تو ہر بندے کو خیال آ سکتا ہے۔ کہ دروازہ رات کو بند کیا ہے۔ یا نہیں کیا۔ وہ جا کے چیک کرے گا۔ دروازے پر ایک دفعہ دیکھے گا۔ تالا لگا ھے۔ اسی طرع سے اسے خیال آسکتا ھے کہ ۔ میرے ہاتھ ناپاک ھے۔ وہ جا کر دھو لے گا۔ ٹھیک ھے یہ نارمل ھے۔

لیکن جب یہ چیز نارمل سے بڑھ جاتی ہے۔ کہ انسان کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے ۔ اور خود انسان کو پتہ بھی ہوتا ہے۔ کہ یہ جو مجھے سوچ آ رہی ہے۔ یہ بے بنیاد ہے ۔یہ سوچ نہیں آنی چاہیے۔ لیکن وہ ایسے اس کے اندر جکڑاS جاتا ہے۔ کہ ذہنی طور پر وہ اس سوچ سے نکل نہیں سکتا۔ شدید گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ پھر وہ انسان عمل کرتا ہے۔ اس چیز کو OBSESSIVE COMPULSIVIS DISORDEکہتے ہیں۔

اب اگر ہم اس کی وجوہات پر جائیں ۔تو جس طرح سے کسی بھی نفسیاتی۔ جو ہماری امراض ہیں ۔ جو انسان کو لاحق ہوتی ہیں۔ ان کا ایک Pin پوائنٹ۔ یعنی ایک وجہ۔ ایک نقطہ ہے ۔ دماغ میں۔ جسم میں جس کی وجہ سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ تو پھر اس کے نقصانات ہوتے ہیں ۔ یہ اس بیماری کی وجہ سے ہے۔ ایسا کچھ بھی ابھی تک سائنس یہاں نہیں پہنچ سکی۔ ظاہر ہے جب تک ساہیکی ہی پوری طرح سے سمجھ نہیں آئے گی ۔ روح پوری طرح سے سمجھ نہیں آئے گی۔

تو آپ اس کی بنیاد اور لیول تک نہیں پہنچ سکتے۔ اور نہ ہی یہ چیز ایسی ہے کہ۔ انسان مسلسل سرکردہ رہے۔ اور وہ مسلسل اس چیز پر سوچتا رہے ۔ تو اس لیے ہمیں دونوں ہی قسم کو جسمانی وجوہات بھی۔ اور ذہنی وجوہات بھی۔ یہ ساری ذہن میں رکھنی ہوتی ہیں ۔ تو اس میں نے گزشتہ گفتگو کی تھی۔ ہسڑیا۔

بعض اوقات ہمارے اندر کی۔ جو خفکی کی ہوتی ہے ۔ گھبراہٹ ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن خلفشار کا شکار ہوتا ہے۔ ذہنی طور پر ہم کسی انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ ذہنی اختلافات کا شکار ہوتے ہیں ۔ وہ چیز جب ہم زبان پر نہیں لاتے۔ تو وہ جسمانی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ اور پھرجو obseessive compulsive disorde. کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس ڈس آڈر میں بھی یہ چیز ہو جاتی ہے۔

کہ بعض اوقات ہمارے اندر کا جو ڈپریشن ہے ۔ جس کو ہم نہیں حل کر پا رہے۔ اس ڈپریشن کو اس مسئلے کو ۔ جو ڈپریشن کی وجہ ہے نہیں حل کر پاتے۔ تو وہ چیز جو ہے ۔ وہ بھی جسمانی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ہوتا ہے۔ کہ جی۔ بار بار یہ کہنا ۔ کہ میں ناپاک ہوں ۔ صاف نہیں ہوں۔ اور مجھے صاف ہونا چاہیے۔ اس کے پیچھے بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ مثال یہ چیز جو بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ وہ خواتین کے اندر ہوتی ہے۔

اور زیادہ تر ایسی خواتین میں ہوتی ہیں۔ جو غیر شادی شدہ ہو ۔ تو ان میں بھی ایک ذہنی خلفشار جو ہوتا ہے۔ وہ اس کی وجہ بنتا ہے ۔ جو کہ وہ اس کیفیت سے نہیں نکل رہی ہوتی ۔ اور وہی جو ان کی خواہش ہوتی ہے۔ ڈپرشین ہوتا ہے بن کر سامنے آجاتا ہے۔ اس طرح سے اگر آپ ایک صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ اور اس صورتحال میں آپ نہیں رہنا چاہتے۔ اور آپ اس سے نکلنا چاہتے ہیں ۔ تو اس وقت بھی بعض اوقات ایک ایسی کیفیت بن جاتی ہے۔ کہ بار بار خیال آتا ہے۔ کہ میں نکل جاؤں۔ میں شدید پریشانی میں ھوں ۔جس کی وجہ سے وجہ پھر اٹھ کر گھر سے باھر نکل جاتا ھے۔

تو یہ جب ہم کہتے ہیں۔ کہ سائیکو این اے ٹیک۔ یعنی نفسیات میں ہم اس کا تجزیہ کریں ۔ اور اس تجزیہ میں۔ اس بیماری کی تہہ تک پہنچیں ۔ یہ جو ڈس آڈر ھے۔ اس میں ایک ایسی چیز ہے۔ جو ماہر نفسیات۔ تھراپسٹ ان کو وہاں تہہ تک جانا ھوتاھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button