سائنس و ٹیکنالوجی

ہماری کہکشاں ملکی وے کے پیچھے کہکشانی خلا میں موجود ایک پراسرار مقام موجود ہے

اس مقام کی پر اسراریت کی وجہ یہ ہے کہ ہماری کہکشاں اور آس پاس کی کہکشائیں اس کی جانب بہت تیزی سے کھینچی چلی جا رہی ہیں
اس پرسرار مقام میں ایسی کیا چیز موجود ہے فی الحال سائنس نہیں جانتی

اس پرسرار چیز کو "دی گریٹ اٹریکٹر” کا نام دیا گیا
کائنات میں گریوٹی کا رول بہت زیادہ اہم ہے
یہ گریوٹی ہی تو ہے جو چاند کو زمین کے گرد ، زمین کو سورج کے اور سورج کو ملکی وے کے مرکز میں موجود بلیک ھول کے گرد گھما رہی ہے کچھ ایسا هی کائنات کے اس حصے میں هو رھا هے
آپ سوچیں گے سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے ہبل خلائی دوربین نے 14 ارب نوری سال تک کی کہکشائیں دیکھ لی ہیں تو وہ اس لوکیشن میں موجود اس چیز کا مشاہدہ کیوں نہیں کر سکتی
اسکی وجہ یہ ہے کہ زمین ملکی وے کی جس جگہ پر ہے گریٹ اٹریکٹر اس سے انتہائی دوسری طرف ملکی وے کے پیچھے موجود ہے
جس کا براہ راست مشاہدہ مشکل ہے
جن مقامات کا براہ ِراست دوربین سے بھی مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا اُنہیں سائنس
the zone of avoidance
کا نام دیتی ہے اور گریٹ اٹریکٹر اسی قسم کے زون میں موجود ہے اسلئے اس کو دوربین سے دیکھنا بھت مشکل هے۔ زمین سے اس زون کی جانب کے راستے میں بہت سارے ستاروں کی باقیات ، گیس اور خاک کے دیو هیکل بادل موجود ہیں ، اور یہ سارا راستہ بہت سی روشنییوں سے بھرا رهتا هے۔
اس زون کو دیکھنےکے لیے انفراڑیڈ دوربین بنائی گئی۔ اس طرح کی دوربین سے گیس اور خاک کے بادلوں کے پار تھوڑا بہت مشاہدہ کیا جا سکتا هے۔ اس دوربین کی بدولت ہمیں یہ لوکیشن دستیاب ہوئی جہاں گریٹ اٹریکٹر هے

اس کی دریافت 1970 میں اس وقت ہوئی جب سائنسدان کائنات سے آنے والی روشنیوں کی مدد سے کائنات کا نقشِہ بنانے کی کوشش میں مصروف تھے اسی دوران اُنہوں نے نوٹ کیا کہ ملکی وے کے ایک سرے کا درجہ حرات دوسرے سرے کی نسبت زیادہ ہے ، گو کہ یہ فرق بہت ہی کم تھا مگر نوٹ کر لیا گیا۔۔۔
بعد میں مزید تحقیقات ہونے پر اس فرق کی وجہ معلوم کر لی گی کہ کوئی نامعلوم چیز کہکشاں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اس کھنچاؤ کی وجہ سے اس سرے کا درجہ حرارت دوسرے سرے کی نسبت زیادہ ہے اسطرح اس نا معلوم چیز یعنی گریٹ اٹریکٹر کو باقاعدہ طور پر دریافت کر لیا گیا
انفراریڈ دوربین کی مدد سے گریٹ اٹریکٹر کی درست لوکیشن
1986 میں ملی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ ملکی وے سے تقریباً 150 سے 250 ملین نوری سال دور ہے. اور اسکی کشش لاکھوں کہکشاؤں سے زیادہ ہے۔۔
سمت کے لحاظ سے یہ کانسٹلیشن
ٹریانگولم آسٹرال (جنوبی مثلث) اور نورما ( دی کارپینٹرس اسکوائر) کی سمت میں ہے

سائنسدان حیرت زدہ ہیں کہ یہ گریٹ اٹریکٹر آخر ہے کیا چیز؟ کیا ایک بهت بڑا بلیک هول ؟ لینیاکا سپر کلسٹر کی کشش ثقل کا مرکزی نقطہ؟ یا ڈارک میٹر کی کوئی کارستانی؟ یا کچھ اور؟
بعض کا ماننا ہے کہ یہ ہماری کائنات کا مرکز ہوسکتا ہے جس کے گرد تمام سپر کلسٹرز چکر کاٹ رہے ہیں اور یہ نظریہ درست نہیں۔۔
هم سے لگ بھگ 150 سے 250 ملین نوری سال دور ی پر بھی (ہماری کہکشاں سے لاکھوں گنا زیادہ گریوٹی کا حامل ہونے کی وجہ سے) هماری کهکشاں کو 600 کلومیٹر يا 370 میل فی سیکنڈ کی طوفانی سپیڈ سے کھینچ رها هے۔محض ایک رات میں ڈھائی کروڑ کلومیٹر۔پھر بھی اس تک پہنچنے میں اربوں سال لگ جائیں گے۔
2005 میں ، ماہرین فلکیات نے آسمان کے ایک حصے کا ایکس رے سروے کیا جس کو کلسٹر ان دی زون آف ایویڈنس (CIZA) پروجیکٹ کہا جاتا ہے
اس منصوبے کے تحت ہوئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ گریٹ اٹریکٹر بھی رکا ہوا نہیں ہے یہ بھی شیپلے سپر کلسٹر کی جانب بھاگا جا رہا ہے ہماری کہکشاں اور دیگر کہکشائیں بھی جس کی طرف کھینچی جا رہی ہیں اُسکا مرکز گریٹ اٹریکٹر سے بھی آگے موجود ایک سپر کلسٹر کا مرکز ہے سائنسدانوں نے اس کشش کو "شیپلے کشش” کا نام دیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم اس کائنات کو جتنا جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ اتنی ہی پیچیدہ اور پر اسرار ہوتی جاتی ہم ایک پردہ اٹھاتے ہیں تو اس پردے کے پیچھے ایک اور پردہ ہمارا منہ چڑا رہا ہوتا ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button