کاروبار

ملین کی تعداد میں ڈالر خریدنے والوں کا سراغ ایف آئی اے نے لگا لیا

ڈالر کی ترتیب کو پینتیس ہزار ڈالر سے کم رکھا جاتا تھا ۔ یہ اس لیے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو پتہ نہ چلے ۔احکام کے کہنے کے مطابق۔

35

ہزار ڈالر سے مقدار کم کرکے ظاہر۔ ہزاروں ٹرانزکشن کی گئی۔ کچھ منی ایکسچینج کمپنیاں اس دھوکے اور فراڈ میں براہ راست منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں ۔ صرف 100 افراد کو اسٹرکچر طریقے سے 63 ملین ڈالر فروخت کئے گئے ۔ اور صرف پانچ سو افراد کو اسٹرکچر طریقے سے سو ملین ڈالر سے زیادہ فروخت کئے گئے۔ اور اسٹرکچر فروخت کی وجہ سے ڈالر فارن کرنسی کاؤنٹ میں سیدھا منتقل کرنے کی شرط سے چھٹکارا حاصل کیا گیا۔
منی لانڈرنگ کا یہ طریقہ صرف ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور منی لانڈرنگ کو خفیہ رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایف آئی اے نے ڈالر خریدنے اور فروخت کرنے والی کمپنیوں کے مالکان اور متعلقہ خریداروں طلب کر لیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button