صحت

شوگر کیسے جنسی کارکردگی اور انسانی جسم پر اثر انداز ہوتا ہے؟

ویسے تو شوگر انسان کے کئی اعضاء کو بری طرح متاثر کرتا ہے جن میں آنکھیں گردے جگر وغیرہ شامل ہیں لیکن سب سے اہم مسلہ تب پیدا ہوتا ہے

جب خون میں شوگر کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے انسانی شریانیں /نسیں تنگ پڑ جاتی ہیں جیسا کہ میں اپنی بہت ساری پوسٹوں میں بیان کر چکا ہوں کہ جب دماغ ایریکشن کا پیغام جاری کرتا ہے تو مردانہ عضو خاص کی باریک وینز کی طرف خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایریکشن ہو جاتی ہے لیکن خون میں شوگر کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث انسانی شریانیں تنگ پڑ جاتی ہیں یا دوسرے الفاظ میں کہیں کہ پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں تنگ نسوں کی وجہ سے خون اس اعضاء پر نہیں پہنچ پاتا جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے جس وجہ سے ایریکشن ہونا بھی بند ہو جاتی ہے اور شوگر براہ راست انسانی دماغ /نروس سسٹم کی کارکردگی متاثر کر دیتا ہے فیلنگز آنا یا احساس ختم ہو جاتا ہے یوں جنسی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے اسی طرح تمام افراد کو علم ہے کہ انسان کی بہترین جنسی کارکردگی میں دماغ کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ دماغ کی طرف سے کوئی بھی پیغام دیے بغیر انسانی جسم کا کوئی بھی اعضاء کام نہیں کر سکتا لیکن شوگر کے باعث گلو کوز لیول میں تبدیلیوں کی وجہ سے دماغ کے مخصوص حصے متاثر ہوتے ہیں وہ حصہ بھی متاثر ہوتا ہے جس میں جنسی فیلنگز محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اسے اسٹریٹم بولتے ہیں یوں دماغ کے حصوں میں تناؤ کا سبب بننے والے ہارمونز کی سطح بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ڈپریشن بھی بڑھ جاتا ہے اور ڈپریشن میں جنسی کارکردگی صفر ہو جاتی ہے۔

شوگر ہوتا کیسے ہے؟

جب ہم کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے کو شوگر میں تبدیل کر دیتا ہے اس کے بعد انسانی لبلبے میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین انسانی جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ جسمانی توانائی کے لیے اس شوگر کو جذب کرے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتا تو اس کی وجہ سے شوگر انسانی خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جو کہ شوگر کا باعث بنتا ہے ہمارے ہاں عام طور پر جب کوئی بھی شخص شوگر /کا شکار ہوتا ہے تو وہ اپنا شوگر لیول کنٹرول کرنے کی بجائے شروع میں کئی کئی سال اس سوچ میں ضائع کر دیتا ہے کہ نسخوں جڑی بوٹیوں یا مختلف طریقوں سے وہ شوگر سے چھٹکارا حاصل کر پائے گا اس کوشش میں اسے کئی سال بیت جاتے ہیں اور تب اسے علم ہوتا ہے کہ شوگر کا علاج ممکن نہیں تب تک تمام بیماریوں کی جڑ شوگر انسانی جسم کے اعضاء کو بری طرح متاثر کر چکی ہوتی ہے نوٹ فرمالیں کہ شوگر اور انسان کا زندگی بھر کا ساتھ رہتا ہے یہ بات زہن نشین کریں اگر آپ شگر کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی بھی دوائی جیسے دیسی ادویات ایلوپیتھی یا ہومیوپیتھی استعمال میں لا رہے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ واک بہت ضروری ہے اگر آپ محنت اور واک چھوڑ کر صرف دوائیوں پر شوگر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو آپ گھاٹے میں ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button