بلاگز

تربیت کیا ھے ۔ کیسے کہتے ھے

تربیت اسے کہتے ہیں جس میں ہماری زبان ، ہاتھ ، اخلاق ، رہن سہن ، جذبات ، رویے، سننے سمجھنے کی صلاحیت ، اور عقل فہم کو عملی طور پر ایک خوبصورت معتبر تصور مل جائے یہ تصور ہر عمل کی ترتیب سکھاتا ہے انسان کا کردار خوبصورت بناتا ہے سوچ کو خوبصورت اور سولڈ بناتا ہے ۔

جس سوچ کے پاس صرف تعلیم موجود ہے مگر وہ تربیت یعنی کہ خوبصورت ترتیب کے پیٹرن سے ناواقف ہے تو اسکی اعلٰی تعلیم اسکی ذات کیلئے ایک کچرے کے ڈھیر پہ پڑا صرف ایک خوبصورت ڈرس ہے کچرا تو اس خوبصورت لباس کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر تعلیم جیسا قیمتی لباس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچرے کی بدبو اور گندگی کا شکار ضرور ہوتا جاتا ہے ۔

تربیت کے ساتھ اگر تعلیم بھی چلتی رہے تو تعلیم تربیت کو چمکا دیتی ہے مگر بغیر تربیت کے حاصل کی گئ تعلیم سوچ میں تکبر ، غرور ، انا اور دیکھاوا پیدا کرتی ہے ۔

ہر سوچ کے مختلف معیار ہیں اور یہ معیار ہمیں ملنے والی تربیت اور ہمارا ایمان طے کرتا ہے ترتیب ہماری سوچ اور کردار کو نفاست بخشتی ہے ۔
زندگی گزارنے کے پیٹرن جسے تربیت کہتے ہیں جتنے اچھے ہوں گے کردار میں اتنی نفاست ، پاکیزگی اور مخلصی پائی جائے گی جو عمل جس ترتیب سے کیا جائے گا وہ عمل اسکے مطابق ہی رنگ دے گا ۔ تربیت ہمیں سکھاتی ہے پاجامہ ٹانگوں میں پہنا جاتا ہے قمیض جسم کے اوپری حصہ کو کور کرتی ہے پاجامہ قمیض استری شدہ ہوں ، صاف ستھرے ہوں تو انسان خود اعتمادی اور سکون محسوس کرتا ہے اس خود اعتمادی کے ساتھ جب تعلیم حاصل کی جاتی ہے تو تعلیم اس خود اعتمادی اور ترتیب دئیے گئے پیٹرن کو پہلے سے زیادہ چمکا دیتی ہے یہی اصول انسان کو اعلی ظرف بناتا ہے انسان چمکنے دمکنے اور مہکنے لگتا ہے مگر جس ذات میں تربیت کی جگہ صرف انگریزی اور دوسروں کی نقل بغیر عقل کے ملتی ہو وہاں ڈگریاں ردی کے بوجھ سے زیادہ وزن نہیں رکھتیں کچرے کو جتنا مرضی سجایا جائے تب بھی وہ کچرا ہی رہے گا سجنے کے بعد بھی گندی سی بو دے گا کم ظرفی اسی بدبو کا دوسرا نام ہے ۔ انہی طور طریقوں سے گھر کا ماحول بنتا ہے زندگی کے دوسرے معاملات اور رشتے ناتے انہیں اچھے برے طور طریقوں کے گرد گھومتے ہیں جہاں والدین لبرل یا بلکل جاہل ہوتے ہیں بچے بھی اسی کھلی یا تنگ ذہنیت کے ساتھ ہی پروان چڑہتے ہیں اور اسی ماحول میں پھلتی پھولتی سوچ ادب و آداب اور شعور سے خالی مگر اپنی اپنی مرضیوں کی مالک گہری پیچیدگیوں اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار نظر آتی ہے ۔ آج تعلیم پہ زور ہے مگر تربیت کہیں نہیں ، انگریزی کو اہمیت حاصل ہے مگر ایمان گم کر دیا گیا ہے جو سوچ ایمان سے خالی ہوتی ہے وہ شکر گزاری ، ذہانت اور دور اندیشی سے بھی خالی ملتی ہے اس خالی جگہ پر روحانی بیماریاں فورا قبضہ کر لیتی ہیں ۔ جن میں حسد ، بغض ، چغلی ، غیبت ، جھوٹ ،فراڈ ، تکبر وغیرہ شامل ہیں ایسی روحانی بیمار تعلیم یافتہ سوچ ہمیشہ شر کا شکار رہتی ہے ! یقین نہ آئے تو اپنے ارد گرد غور کیجئے لیکن اس سے پہلے خود پہ نظر ڈالئے آپ خود کس کی سنتے ہیں آپکے بچپن کے Believe قدرت کی پیروی کرتے ہیں یا نفس کو مہاراج مان کر اسکے ہر حکم کو بجا لاتے ہیں ۔

مان لیجیے آپکی اپنی ذات پر تحقیق کے بعد اگر آپکی تربیت میں واقع کچھ کمی محسوس ہو تو خدارا اپنے بچوں کو ترتیب سیکھائیں انکی تربیت ایمان کی روشنی میں کریں ناکہ اپنے ادھورے سلیبس کے مطابق تاکہ انکا کردار تعریف کے قابل ہو ناکہ دوسروں کی طرف سے آنے والی تنقید اور شر کا شکار ہوتا رہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button