بلاگز

‏وقت گزاری ایک دھوکہ ہے

کسی کے ساتھ وقت گزاری کرناموجودہ دور میں یہ ایک اہم مسئ لہ ہے۔  ہر کوئ ٹائم پاس کے چکر میں ایک دوسرے کو دھوکا دے رہا ہے اس عمل میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ھیں۔ اول تو کسی کو موقع ہی مت دیں  کہ کوئ اپکے ساتھ ٹائم پاس کر سکے پر دلِ ناداں غلطی کر ہی جاتا ہے ، باتوں میں آہی جاتا ہے ، مٹھاس لہجے کے جال میں پھنس ہی جاتا ہے۔  انسان غلطی ایک نہیں بہت سی غلطیاں کرتا ہے پرکسی معصوم کے ساتھ ٹائم پاس کرنا اور اسکو کہیں کا نا چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ ٹائم پاس سے آپ اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔  ٹائم پاس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوسکتی ہے اور بہت سے لڑکے لڑکیاں اس وجہ سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ ٹائم پاس سے دو انسانوں کو ایک دوسرے کی عادت لگ جاتی ہے جیسے نشے کی عادت لگ جانا۔ اگر ایک کو  فرق نہیں بھی پڑتا دوسرا ضرور برباد ہوجاتا ہے۔ ٹائم پاس کرنے والے کسی ایک کی نہیں بہت سے لوگوں کی زندگیاں خراب کر دیتے ہیں۔ کاش ایسے لوگوں کے لیے بھی کوئ قانونی سزا بنی ہوتی،  دل کے مجرم قرار پاتے۔ کسی کا قتل کرنا ، گہری جسمانی چوٹ دینا یہ سب زخم وقت کے ساتھ مندمل ھو ہی جاتے ہیں لیکن کسی کو روحانی اذیت میں مبتلا کرنا،  زندہ مار دینا ہے ۔ اس کا کوئ کفارہ نہیں ہوسکتا ہے۔  معافی لفظ استعمال کرنے سے اذیت کم نہیں ہوجاتی۔ اگر ٹائم گزارنا ہے تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں ، گیمز کھیل لیں یا  کتابیں پڑھ لیں۔  اگر کسی سے بات کرتے بھی ہیں اسکو خوشی دینے کے مقصد سے کریں چونکہ ہر کوئ اپنی پریشانیاں دور کرنا چاہتا ہے تو کسی کے ذہنی سکون کا باعث بنیں ناکہ اس کو مزید پاگل کردیں۔ کسی کو اچھا وقت دینا کسی کی دلجوئ کرنا نیکی ہے مگر کسی کو ٹائم پاس بنانا کسی کو اذیتوں میں دھکیلنا درندگی ہے، مثال کے طور پہ لڑکا لڑکی کے ساتھ  بات کرنے کی کوشش کرتا ہےپھر محبت کا دعویٰ کرنے لگ جاتا ہے۔ کچھ تو ثابت کرتے ہیں  اپنی اچھی تربیت ، کچھ بس وقت گزاری کے لیے جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔  کچھ عرصہ چلتی ہے محبت کہانی پھر وہی اسکو اپنے مزاج کے خلاف لگنے لگتی ہے ، جس کو شروعات میں ذہنی سکون مان رہا ہوتا ہے ۔ جس کو کہہ رہا ہوتا ہے بس تم ہی میری کل کائنات ہو،  تمھاری خوشی چاہیے بعد میں اسی کو جان کا عذاب کہنے میں دیر نہیں لگاتا ۔ جب ایک دوسرے کو چُنا تھا اس ٹائم کیا سوچا نہیں تھا یا کوئ اور ملا نہیں تھا ؟؟ارے کیوں برباد کرتے ہو ایک دوسرے کو؟؟اس میں ناصرف لڑکے لڑکیاں بھی شامل ہیں ایک لڑکی کسی کے ساتھ ایسے کرتی ہے تو وہ لڑکا باقی لڑکیوں سے بدلہ لینے لگتا ہے یہ سوچ کہ سب ایک جیسی ہیں  کیا یہ صیح عمل ہے؟؟کچھ مہینے یا سال محبت کے نام پہ ٹائم پاس ہوتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے یا پھر دوستی کے نام پہ شروع ہوجاتا ہے۔ تم میری محبت ہو کہنے والا کہہ دیتا ہے مجھے اب تم سے محبت نہیں رہی میری زندگی میں کوئ اور آگئ یا پھر یہ کہہ دیتا ہے ساتھ چلنا ہے تو چلو مگر اب ہم دوست ہیں!! کیا محبت دوستی میں بدل سکتی ہے ؟؟؟ کیا وہ محبت بھرے جذبات اور الفاظ فریب تھے ؟؟؟ کیا وہ وقت گزاری تھی؟؟؟آپ کیا کہیں گے اسکو؟؟؟ ہمم کوئ جواب ملے ضرور بتائیے گا !! کچھ لڑکیاں لڑکے آسانی سے راستہ بدل لیتے ہیں ، مگر کچھ جو پاگل پن میں جا چکے ہوتے ہیں وہ اس سمجھوتے میں جینے لگتے ہیں کہ چلو ساتھ تو ہے کافی ہے۔ انکو کسی کو چھوڑنا موت کی مانند لگتا ہے۔ عادت کہیں  یا پاگل پن یا جنون !! کسی کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا، اسکے لیے جس کے جذبات سچے ہوں، جس کے خلوص میں ملاوٹ نا ہو اگر عادت بھی ہے تو نشائ کا نشہ نا ملے تو بھی وہ مر ہی جاتا ہے یا پھر وہ اس راہ پہ چل نکل پڑتا جس کو دلدل کہتے ہیں ۔ کسی نا کسی برائ کی طرف راغب ہوجاتا ہےیہ الفاظ تو میرے ہیں پر اس میں ہر اس انسان کی آواز شامل ہے جو اس ٹائم پاس کی زد میں آچکا ہے۔کیوں کسی سے محبت کے دعووں کے بعد اتنی آسانی سے جذبات بدل جاتے ہیں؟ ظاہر ہے سب فریب تھا اتنا گہرا تعلق رکھنے کے بعد یا تو جدائ ہوجاتی ہے یا پھر دنیا کی نظر میں "ہم دوست ہیں ” یہ کہہ کہ رشتہ چلتا رہتا ہے۔ اور ایک ایسا وقت بھی آجاتا ہے دوستی بھی اختتام پذیر ہوجاتی ہے ٹائم پاس کہا جائے؟ اسکو کیا کہا جائے ؟ کیجیے سوال خود سے کیا یہ اذیت نہیں ؟کتنی آسانی سے دوسرا انسان آجاتا ہے نا!!کیسے نئے رشتے کے لیے آپ پرانے رشتے کا لحاظ تک نہیں کرتے ۔ رنگ برنگے لوگوں میں خوش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو وہ اذیت دو جو وہ سہہ نا پا رہا ہو پھر اس کی باری پھر ناجانے کس کی باری ، کسی کو اتنی اذیت نا دیں کہ اپ کو بھی کسی اور کے ذریعے ایسی اذیت سہنی پڑے کیونکہ مکافات عمل اٹل ہے اور ہر ایک جواب دہ ہوگا اپنے اعمال کا !! اذیت یہ بھی ہے جب کوئ تیسرا جانتے بوجھتے درمیان میں آنے کی کوشش کرئے، کیوں کسی کی زندگی میں زہر بن کے آجاتے ہیں ؟پھر کہتے ہیں ہم نے تو کچھ نہیں کیا حالانکہ اپنا کام تمام کر دیتے ہیں جو وہ کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں ۔خدارا رحم کھائیں خود پہ اور دوسروں پہ کوئ رشتہ ناتہ نا سہی انسانیت باقی ہونی چاہیے ۔آگ لگے دھواں نا ہو اور محبت ہو اذیت نا ہو ، نا ممکن ۔ٹائم پاس نا کریں ،کسی سے محبت کرئے نبھائے رشتوں کو سمجھیں۔ میری گزارش ہے میری تحریر پڑھنے والوں کے لیے ایسے رنگ بدلتے انسانوں سے بچیں کسی کے ساتھ ٹائم پاس نا کریں،  اپنی حدود میں رہیں محبت کا دعویٰ کرئے تو اسکو نکاح کی صورت میں پورا کریں اگر ملنا نا مکمن ہو تو ایسے رشتے بنا کے اذیت نا دیں۔ پہلے سے سوچ کے کسی کی زندگی میں داخل ہوں  محبت محبت ہوتی ہے دوستی میں تبدیل نہیں ہو سکتی اور اتنا آسان نہیں ہوتا دنیا کے سامنے خود کو دوست ظاہر کرنا اور حقیقت کچھ اور ہونا ،اور جو محبت ہوجانے کے بعد بھی اپ کا ساتھ نہیں چھوڑتے دوستی میں رہ کے صبر کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔ دنیا کے سامنے دوست ہی بن کے آپکے ساتھ رہنے لگتے ہیں ۔ انکے جذبات سمجھیں کہ وہ آپکا ہر حکم کیوں مان رہے ہیں ، ظاہر ہے وہ مخلص ہیں ہمیشہ کا ساتھ چاہتے ہیں کیا ایسے انسان کے ساتھ بھی اپ ٹائم پاس کریں گے ؟سچے جذبات کی قدر کریں اور آخری بات کہنا چاہوں گی جو کسی ایک کو ایسی اذیت میں مبتلا کر سکتا ہے وہ کسی کے لیے سکھ نہیں بن سکتا اپنے قدم سنبھال لیں ایسی راہ کے راہ گیر نا بنیں جو کسی کو خوشی کسی کو اذیت دے رشتوں میں عزت برقرار رکھیں

تعمیر حسین

تمیر حسین صاحب فری لانس جرنلسٹ ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر دفاعی تجزیہ پیش کرنے کےساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے مہم بھی چلاتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button