بلاگز

بے حسی – (تحریر: سردار ساجد محمود خان)

کبھی کبھی مجھے شرمندگی محسوس ھوتی ھے کہ کہ میں ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں بے حسی کثرت سے پائی جاتی ہے
جہاں اشیائے خوردونوش کو میں کرنے کے لیے مصنوعی بحران پیدا کیے جاتے ہیں۔

حلقہ احباب یا عزیزواقارب میں سے اگر کوئی شخص اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے یا اپنے کاروبار میں نقصان پر بیٹھے تو بطور معاشرہ ہمیں اس شخص کو سہارا دینا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے مگر ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ھوتا ھے۔ ۔۔
اس شخص کی مدد کرنا تو دور کی بات اسے کوئی ادھار بھی نہیں دیتا ہے ۔۔۔
آئے روز روڈ ایکسیڈنٹ ھوتے ہیں تو لوگ زخمی کی طبی امداد کرنے کی بجائے زخمی شخص کی ویڈیوز بنا رہے ہوتے ہیں

اسی طرح اگر کسی شخص کی جوان بیٹیاں گھر پر شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں اور ان لڑکیوں کی عمر کچھ زیادہ ہو جائے تو بطور معاشرہ ھمیں ان لڑکیوں کا رشتہ کروانے میں ان کے والدین کی مدد کرنی چاہئے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رھا ہے کیا ہمارے معاشرے میں ایسا بھی نہیں ہوتا بلکہ ان لڑکیوں کو بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے اس معاملے میں ہمیں بطور معاشرہ اپنا دل بڑا کرنا ہوگا جو لوگ شادی شدہ ہیں ان لوگوں کو دوسری یا تیسری شادی بھی کر لینی چاہیے تاکہ مرد اور عورت دونوں ہی برائیوں سے بچ سکیں اور اس عمل کی ہمارا دین بھی ہمیں اجازت دیتا ہے

ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو میری یہ بات بری لگے مگر یہ بے حسی ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے اور جب کسی بھی معاشرے میں زمینی حقائق تلف ہو جاتے ہیں تو وہ زمینی حقائق کسی بھی صورت میں عوام کے حق میں اچھے نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ہم عوام کو حکمران بھی بے حس ھی ملتے ہیں۔۔۔
آخر میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا بے حس معاشرے سے مراد سو فیصد معاشرہ بالکل بھی نہیں ہے مقام کے حساب سے بے حسی کی شرح میں کمی بیشی ہو سکتی ہے
اگر میری بات نا مناسب لگے یا بری لگے تو براہ مہربانی کمینٹ میں میری رہنمائی فرمائیے گا
آپ کی دعاؤں کا طلبگار

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button