بلاگز

قرآن کریم، حدیث نبوی اور شان بلال رضی – تحریر: محمد سمیع اللہ ملک

‏ایک مرتبہ اہل قریش نے رسولِ اکرم ص سے کہا کہ آپ ص کی محفل میں جب دیکھو حضرت صہیب رضی حضرت عمار رضی حضرت مسعود رضی اور حضرت بلال رضی جیسے نادار اور مفلس لوگ بیٹھے رہتے ہیں ان کی موجودگی میں ہمارا آپ ص کی خدمت میں آنا ذلت کا باعث ہے ہاں اگر آپ ص ہماری آمد پر ان کو مجلس سے اٹھا دیا کرے تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت منظور ہو گی
‏اس وقت ایک آیت نازل ہوئی
‏ترجمہ:
‏”اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح و شام اسکی رضا چاہتے ہیں تم پر انکے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے "
‏اس آیت مبارکہ سے حضرت بلال رضی اللہ عنہم اور انکے رفقا کی شان واضح ہوتی ہے۔
‏حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے ایک آہٹ سنی میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے انہوں نے فرمایا کہ بلال رضی اللہ عنہ ہیں
‏ایک صبح حضرت بلال رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کھانے میں شریک ہو جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آج روزہ سے ہوں یہ سن کر سرکار ص نے فرمایا کہ ہم اپنا رزق کھا رہے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ کا رزق جنت میں محفوظ ہے پھر فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ عنہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح میں مشغول رہتی ہیں اور اسکے لئے استغفار کرتی ہیں جب تک اس کے پاس کچھ کھایا جاتا ہے
‏ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نماز فجر کے وقت فرمایا کہ اے بلال رضی مجھے بتاؤ کہ تم نے اسلام قبول کرنے کے بعد کونسا ایسا عمل کیا ہے جسکی مقبولیت کے متعلق دوسرے اعمال سے زیادہ کی امید رکھتے ہو حضرت بلال رضی نے عرض کیا کہ میں نے تو کوئی کام ایسا نہیں کیا جو اور باقی تمام اعمال سے زیادہ امید دلانے والا ہو بے شک رات میں یا دن میں جب کبھی بھی میں نے وضو کیا تو اس سے اپنے مقدر کی نماز ضرور پڑھی یہ سن کر سرکار ص نے فرمایا بس اسی وجہ سے تم کو یہ رتبہ ملا یعنی جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی شب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سنی
‏آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ
‏” امام زمہ دار ہے اور مؤذن امانت دار ہے ۔

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button