بلاگز

کامیاب زندگی کیا ھے

کیا آپ نے کبھی کسی سیانے یا بزرگ کو نوجوانوں کو اچھی باتیں اور نصیحتیں کرتے سنا ہے؟ کیا آپ نے ان نصیحتوں کا اثر ہوتے دیکھا ہے؟

میں نے بھی نہیں دیکھا)۔ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے نوجوان اٹھتے ہیں اور پھر واپس ویسے ہی زندگی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ نوجوان سننا نہیں چاہتے یا ان کو باتیں پسند نہیں آتیں۔ مسئلہ اس سے زیادہ گہرا ہے۔ سننے سے لے کر عمل میں بڑا فاصلہ ہے۔ عمل کے لئے خود کو تربیت دینا پڑتی ہے۔ جدید زندگی اس فاصلے کو پار کرنا مزید مشکل بنا رہی ہے۔

مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیسی زندگی گزارنی چاہیے؟ کیسا بننا چاہیے؟ ہم میں سے کئی لوگ یہ سوال کرتے ہیں اور ہمیں ان کے جواب کے لئے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔ دانائی اب اس قدر سستی ہو گئی ہے کہ یہ ہر طرف موجود ہے۔ کیلنڈر پر لکھے اقوال، دانشوروں کی تحریریں، فارورڈ کی گئی اچھی چیزیں، روزانہ کی بنیاد پر ہمیں درجنوں ایسی باتیں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ یہ ایک سیلاب ہے۔ ہمارے پاس دانائی کی باتیں سننے کو تیزی بڑھ رہی ہیں، البتہ وقت اتنا ہی ہے۔

اس کا مطلب یہ کہ ہمارے پاس وہ موقع ہی نہیں کہ کسی ایک بات کو اتنا وقت دے سکیں کہ اس کو واقعی سجھ لیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم نے زندگی بدل دینے والا عظیم آئیڈیا آج پڑھا ہو۔ ایسی بصیرت بھری بات پڑھی ہو کہ اگر توقف کرتے اور اس کو ایک بار سمجھ جاتے تو یہ ہم کو بدل کر رکھ دیتی۔ لیکن اس سے پہلے ہی اگلی بہت ہی اچھی بات سامنے آ گئی تھی۔ ہم آگے بڑھ گئے تھے۔

یہ سوچ ابھارنے والے چند خیالات ہیں جن کو پڑھنے کے لئے کچھ وقت دیا جا سکتا ہے۔ اگر اس میں سے کچھ ذہن کے کسی گوشے میں کسی نئی سوچ کو بیدار کرے تو سوال کئے جا سکتے ہیں، اپنے آپ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور خود اپنا رشتہ اپنی زندگی سے جوڑا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button