بلاگزپاکستان

ریاستی رٹ چیلنج کرنے والے عناصرتحریر: احسان الحق

چند ہفتے قبل لال مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے طالبان کے جھنڈے لہرانے کی خبر زد عام ہوئی. تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ لال مسجد پر نہیں بلکہ طالبات کے مدرسے جامعہ حفصہ پر طالبان کے سفید جھنڈے لہرائے گئے. انتظامیہ نے کاروائی کرتے ہوئے جھنڈے اتارنے کے لئے مدرسہ انتظامیہ سے مذاکرات شروع کر دئیے. پولیس اور مدرسہ انتظامیہ کے درمیان کافی دیر تک بحث چلتی رہی، آخر کار جھنڈے اتروا لئے گئے. سننے میں آیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز غازی کی جانب سے شدید زبانی مزاحمت کی گئی اور پولیس والوں کے خلاف شدید الفاظ کا استعمال بھی کیا گیا. مولانا عبدالعزیز نے پولیس اور انتظامیہ کو نصیحت کرتے ہوئے یا تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نوکری چھوڑ دو، عنقریب یہاں بھی طالبان کی حکومت آنے والی ہے اور حالات یکسر تبدیل ہونے والے ہیں. مولانا نے ایک طرف جھنڈے لہرا غلط کام کیا اور دوسرے طرف ریاست کے خلاف بات کرکے غداری کے مرتکب بھی ہوئے. خیر، پولیس اور انتظامیہ کا کام تھا جھنڈے اتروانا، وہ اتروا دیئے گئے. مولانا غازی اور جامعہ حفصہ حسب معمول مزے میں ہیں، اگر چاہیں تو دوبارہ جھنڈے لہرا دیں کیوں کہ ان کو سزا جو نہیں ملی. کسی بھی مجرم کو سزا نہ دینے کے بہت سے نقصانات میں سے ایک یہ بھی نقصان ہے کہ مجرم کو دوبارہ جرم کرنے کی حوصلہ افزائی ملتی ہے، وہ دوبارہ جرم ضرور کرتا ہے اور بعض اوقات وہ پہلے سے بھی بڑا اور سنگین جرم کر گزرتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے سزا نہیں ملے گی.
غازی برادران اور ادارے کی انتظامیہ کے متعلق کچھ سمجھ میں نہیں آتا. مشرف دور کے شروعات میں غازی برادران نے غازی فورس بنائی. ادارے کے اندر بے تحاشا اور جدید اسلحہ ذخیرہ کرنے کا بھی الزام تھا. یہ بھی الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ غازی برادران کا تعلق تحریک نفاذ شریعت سے ہے. اگر میں غلط نہیں ہوں تو لال مسجد یا جامعہ حفصہ اور غازی برادران کی صوفی محمد کے ساتھ دہشت گردانہ وابستگی تھی. جب تحریک اور صوفی محمد کے خلاف اداروں نے کامیاب کارروائیاں کیں اور تحریک کی کمر ٹوٹ چکی تھی تو غازی برادران نے مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان کے لئے کام کرنا شروع کر دیا. کالعدم تحریک تحریک طالبان بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے فوج اور اداروں کی ان تھک محنت سے صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی. تو مولانا اور جامعہ حفصہ نے داعش کے لئے کام کرنا شروع کر دیا. جس کے ویڈیو بیانات ہم سنتے اور دیکھتے رہتے تھے جس کی وضاحت پیش کرنے کی قطعی ضرورت نہیں. داعش کا دہشتگردانہ عروج ختم ہوا تو انتظامیہ کچھ عرصے کے لئے منظر نامے سے غائب ہو گئی. پچھلے ماہ افغانستان میں طالبان نے اشرف غنی حکومت کا تختہ الٹ کر افغانستان فتح کر لیا تھا. طالبان کی فتح کے ساتھ ہی مولانا غازی اور انتظامیہ طالبان کے جھنڈے لہرانے پر مصروف ہو گئی. غازی فورس کی حقیقت اور اس کی نوعیت کے متعلق باوثوق الفاظ میں نہیں کہا جا سکتا اور نہ یہ پتہ ہے کہ وہ آزادانہ کارروائیاں کرتی تھی یا کسی کالعدم تحریک یا تنظیم کے ساتھ الحاق تھا. مگر یہ حقیقت ہے کہ داعش، کالعدم تحریک طالبان اور طالبان مختلف بلکہ ایک دوسرے کی شدید مخالف تنظیمیں ہیں. اس سب کے باوجود مسجد ومدرسہ انتظامیہ اور غازی ان تینوں کے ساتھ الحاق کا عملی ثبوت پیش کر چکے ہیں. المیہ یہ ہے بلکہ افسوسناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ مولانا غازی، ادارے کی انتظامیہ ابھی بھی ریاست، قوم اور اداروں سے شرمسار ہوئے بغیر معمولاتِ زندگی میں مزے سے جی رہے ہیں. میرا سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی رٹ کب قائم کرے گی؟
معاملہ صرف لال مسجد، جامعہ حفصہ اور غازی برادران کا نہیں، مسئلہ تو پورے پاکستان کا ہے. پچھلے سال اسلام آباد کی یونیورسٹی میں اسرائیل کا جھنڈا لہراتا رہا. جھنڈے کو اترنا تھا سو اتار دیا گیا. صرف جھنڈے کو اتار لینا کافی تو نہیں تھا. وہ یونیورسٹی اور انتظامیہ آج بھی اسی طرح رواں دواں ہیں. سزا کیوں نہیں دی گئی، آخر ریاست اپنے وجود کا احساس کب کروائے گی. رواں سال اسلام آباد میں بدنام زمانہ عورت مارچ میں ہم جنس پرستی کی عالمی تنظیم کا جھنڈا لہراتے ہوئے ہم سب نے دیکھا. اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اور وہ بھی دارالحکومت میں ہم جنسی پرستی کا جھنڈا لہرانا غیر معمولی بات اور انتہائی قابل شرم بات اور افسوسناک امر ہے. عورت مارچ کی آنٹیاں اور انتظامیہ بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ اگلے سال کے عورت مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہو نگی. بات یہیں ختم نہیں ہوئی، اسی سال کراچی کے ڈیفنس فیز ۷ میں ہم جنسی پرستی کی تنظیم کا جھنڈا لہراتا رہا. یہ تو بھلا ہو کسی بھلے آدمی کا جس نے ویڈیو بنائی اور ڈال دی سوشل میڈیا پر، پھر جا کر کسی کو خیال آیا اور جھنڈے کو اتار دیا گیا.
دنیا میں اسلام کا سب بڑا دشمن بیت المقدس کا قابض اسرائیل ہے. 2018 کے عام انتخابات میں پشتون تحفظ موومنٹ کے لوگ پاکستان، پاک فوج، عدلیہ اور ریاست کے خلاف غداری پر مبنی نعرے لگاتے رہے. اسرائیل اور اسرائیل فوج کے حق میں نعرے لگاتے رہے. پشتونوں کو پاکستان، ریاست اور فوج کے خلاف اکساتے رہے اور ہمارے ادارے دیکھتے رہے. میرا سوال یہ کہ ریاست کی رٹ قائم کب ہو گی؟ علی وزیر کے خلاف مقدمات درج ہوئے مگر اس وقت وہ قانون ساز اسمبلی کا رکن منتخب ہو چکا تھا. علی وزیر اور ہمنواؤں نے جو ریاست دشمنی کا مظاہرہ کیا، یہ اگر پاکستان کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک میں ہوتا تو شاید موت کے گھاٹ اتار دئیے جا چکے ہوتے. علی وزیر اور پی ٹی ایم کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے عملی، تحریری اور زبانی طور پر ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف دشمنی اور نفرت کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہونے کے باوجود پی ٹی ایم کے دو امیدوار قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہو گئے اور بدقسمتی سے آج بھی رکنیت کے مزے لے رہے ہیں.
ویسے تو جب اور جس کا دل کرتا ہے وہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیتا ہے. سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور پولیس والوں کی طرف سے اس نوعیت کے واقعات وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں. یہ کالم لکھنے سے پہلے کراچی سے ایک ویڈیو دیکھی، بڑی اور مہنگی گاڑی پر سوار اور اسلحے سے لیس ایک بدمعاش آدمی ایف بی آر کے دفتر میں آتے ہی تمام قواعد وضوابط اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہو جاتا ہے. سیکورٹی اہلکاروں اور پولیس والوں کو گالم گلوچ اور دھمکاتا ہے. ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح وہ خود کو ایس پی کہتے ہوئے بدمعاشی کر رہا ہے. آج تک حب الوطنی، آئین اور قومی غیرت کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی گئی. اکا دکا واقعات ایسے ہیں جن میں کچھ سیاستدانوں پر مقدمات درج ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو عدالتوں اور تھانوں کے چکر بھی لگانے پڑے. کچھ ماہ پہلے ن لیگ کے جاوید لطیف نے پاکستان کے وجود اور وحدانیت کے منافی کچھ دھمکی آمیز بیانات دیئے تھے. جاوید لطیف کے بیانات انتہائی سنگین، قابل مذمت اور قابل سزا تھے. مقدمہ درج کیا گیا اور موصوف کو نظام سے گزرنا پڑا. جاوید لطیف جو کہ سخت سزا بلکہ عبرت ناک سزا کے مستحق تھے مگر کچھ ماہ تھانوں اور کچہریوں کے چکر لگوانے کے بعد اب موصوف کا معاملہ تقریباً اختتام کی طرف گامزن ہے.
سیاست دانوں کی طرف سے ریاست مخالف واقعات اور مظاہرے دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں. اپنا غصہ نکالنے کے لئے، مخالفین کی مخالفت میں حد سے نکل جاتے ہیں، یا اپنے خلاف مقدمات کا دفاع کرنے یا صفائی پیش کرتے ہوئے، یا سیاست چمکانے کے لئے ریاست کو ہمیشہ پس پشت ڈالا جاتا ہے.کچھ سال قبل ایک سیاسی جماعت کی طرف سے آئی ایس آئی، پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف شرمناک اور افسوسناک مظاہرہ کیا گیا اور اس نوعیت کا مظاہرہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا تھا. یہ واقعہ اس قدر شرمناک تھا کہ پڑوسی ملک کا میڈیا کئی دنوں تک اس سے لطف اندوز ہوتا رہا. پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے بھی عام انتخابات میں شکست کے بعد اور احتساب کے خلاف ملک عزیز کو کئی لخت کرنے کی دھمکی دی تھی. اس واقعہ پر کچھ بھی نہیں کیا جا سکا.
خیبر پختونخوا کی کچھ سیاسی جماعتیں کھلم کھلا پاکستان کے خلاف، پاکستان کی حدود اور سرحدوں کی مخالفت میں ملک دشمنی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں. محمود اچکزئی اور اس کی جماعت ہمیشہ سابقہ افغان حکومت اور اشرف غنی کے زیر اثر رہی ہیں. کچھ سال پہلے محمود اچکزئی نے کابل کا دورہ کیا اور وہاں جا کر بیان دیا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ افغانستان کا حصہ ہے. یہ ایسا سنگین بیان تھا جس کی کم سے کم سزا سزائے موت تھی مگر آج بھی موصوف اپنی جماعت کے لئے مسیحا ہیں اور پاکستان پر حکمرانی کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں. اسی طرح کچھ دوسری جماعتیں ڈیورنڈ لائن کے خلاف ہے. ایسی جماعتیں افغانستان کے دعوے کی وکالت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں. اس سلسلے کا سب سے آخری اور بڑا فتنہ پی ٹی ایم ہے. جو زبانی اور عملی طور پر ریاست دشمنی میں سب پر سبقت لئے ہوئے ہے. سقوط کابل کے بعد، حال ہی میں پی ٹی ایم نے خود کو قوم پرست جماعت سے تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنا نام تبدیل کر دیا. نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نام رکھ دیا ہے.
جب ہمارے ادارے اور حکومتیں ریاست اور اداروں کی قدر اور غیرت کے منافی کام کرنے والے عناصر کو سزا نہیں دیں گے تب تک پاکستان سے باہر باقی دنیا بھی ہمیں قدر ومنزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی. اسلام اور ریاست کے خلاف چھوٹے سے چھوٹے کام اور معمولی سے معمولی بات پر بھی نرمی نہیں برتنی چاہیے. بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ریاست اور اسلام کے خلاف کام کرنے والوں کو سزا تقریباً نہیں دی جاتی اور اگر دی جاتی ہے تو جرم کے مقابلے میں انتہائی ہلکی اور قلیل سزا. اسلام اور ریاست کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں. حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ ریاست اور اسلام کے منافی کام کرنے والوں کو نشان عبرت بنائیں.

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button