بلاگزپاکستان

ہم تو بس شرارت کر رہے تھے تحریر انس بٹ

اتوار کا دن تھا۔اتوار کا دن چونکہ چھٹی ہوتی ہے اس
‏لیے گھر پر ہی گزرتا ہے۔چھٹی کے دن میں کوشش کرتا ہوں کہ نماز مسجد میں ادا کی جاے۔عام دنوں میں بھی کوشش تو یہی ہوتی ہے لیکن کام میں مصروفیت کی وجہ سے باجماعت ادا کرنے میں مشکل ہو جاتی ہے۔مسجد گھر سے کچھ فاصلے پر ہے تو بائیک پر جانا پڑتا ہے۔۔عصر کا وقت تھا میں اپنی بائیک لے کر مسجد کے لیے نکلا نماز ادا کر کے جب واپس آ رہا تھا تو ایک عجیب منظر دیکھا ایک آدمی جو کہ جسامت سے ہٹھا کٹھا دکھای دیتا تھا کھڑا ہے اور اس کے سامنے دو بچے جو کہ گیارہ بارہ سال کی عمر کے ہوں گے وہ کان پکڑے رو رہے ہیں۔وہ آدمی انکو گالیاں نکال رہا تھا اور پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔میرے لیے یہ منظر بہت عجیب تھا میں نے کچھ فاصلے پربائیک روکی اور دیکھنے لگا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟آخر ایسا کیا جرم کر دیا ان بچوں نے؟ تھوڑی دیر بعد میری نگاہ ایک اس آدمی کے ساتھ کھڑے ایک اور آدمی پر پڑی جو کہ پھل کی ریڑی لیے کھڑا تھا۔ماجڑا تومیں سمجھ گیا لیکن میں پھر بھی وہیں کھڑا رہا اور سارا کچھ دیکھتا رہا۔وہ دونوں بچے رو رہے تھے” آیندہ نہیں کریں گے ” "ہم تو بس شرارت کر رہے تھے”۔سامنے کھڑا آدمی انکو بار بار پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔میں نے سمجھا شاید خوامخواہ ڈرا رہا ہوگا تاکہ بچے آیندہ نا کریں لیکن میں حیرت زدہ رہ گیا جب اس نے حقیقتا پولیس کو فون کر دیا کہ ہم نے دو چور پکڑے ہیں اور تھوری دیر بعد ڈقلفن فورس کے جوان وہاں پہنچ گئے۔اور جس نے پولیس کو کال کی تھی اور جو بچوں پر رعب جاڑ رہا تھا وہ غایب ہوگیا۔پولیس کے جوانوں نے جب واقعہ سنا تو وہ حد حیران ہوگئے کہ شرارت پر کیسا مقدمہ؟ بہر حال پھلوں کی ریڑی والے نے تو حد پولیس سے کہا کہ کوئی بات نہیں چھوڑ دیں بچپنہ ہے انکا۔لیکن وہ صاحب جو بظاہر پڑھے لکھے بھی لگ رہے تھے انکو یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ پھل چوڑی کرنا شرارت ہے اسکی سزا گالیاں یاں پولیس کے حوالے کرنا نہیں بلکہ پیار سے سمجھانا چاہیے کہ کسی چیز کو بغیر کسی کی اجازت کہ اٹھانا اچھی بات نہیں۔اس واقعہ سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں پاکستان میں عدم برداشت کس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ شرارت کرنے والے معصوم بچوں کو بھی پولیس کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں۔ٹی وی پر تو آے روز کوی نا کویی واقعہ سامنے آتا رہتا ہے۔یہی نہیں اکثر اوقات تو لوگ پولیس کو بلانے کی بھی زحمت نہیں کرتے سڑک پر حد ہی عدالت لگاتے ہیں اور سزا بھی سنا دیتے ہیں۔ہمیں اپنے اندر برداشت پیدا کرنی ہوگی۔صرف برداشت پیدا کرنے سے ہی معاشرے کا امن و چین لوٹ سکتا ہے. کو ختم کرنا ہوگا۔ جب ایک معاشرہ عدم برداشت کے رویے کو قبول کرنا شروع کر دیتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس معاشرے سے راواداری ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں برداشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے رویوں کو ٹھیک کریں ہم ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔معاف کرنا تو ویسے بھی بہت بڑی نیکی ہے۔بڑا انسان وہ ہے جو معاف کرنا جانتا ہے۔یہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے ہمیں۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو اپنی مبارک سنت ہے معاف کرنا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حکم دیا ہے کہ دن میں ستر مر معاف کرو۔ہمیں چاہیے کہ اپنے آقا مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات پر عمل کریں انکے فرامین پر عمل کر کے ہی ہم بہتریں قوم بن سکتے ہیں۔

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button