بلاگزپاکستان

کچھ روگ بس لگ جاتے ہیں اور ان سے جان چھڑوائی نہیں جا سکتی۔ کیونکہ روگ تو جان لیوا ہوتے ہیں

آپ کو جن لوگوں کو دل کا روگ لگتا ہے ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ہارٹ اٹیک میں اک مریض کا ہوتا ہے

کسی کو غربت کا روگ ھے کسی کو مہبت کا روگ ھے۔ اور یہ روگ جان لیوا بھی بن سکتےھے

آپ کو جن لوگوں کو دل کا روگ لگتا ہے ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ہارٹ اٹیک میں اک مریض کا ہوتا ہے کیونکہ دل کو کو اتنا ہی جھٹکا لگتا ہے جتنا ایک دل کے دورے میں دل کو لگتا ہے۔ ہارٹ اٹیک تو ایک وقت کے لیے ہوتا ہے نا پھر علاج کروایا اور مرض ٹھیک مگر یہ دل کا روگ ساری زندگی ساتھ دیتا ہے اور جب جب بھی اس روگ سے وابستہ لوگوں یا ان یادوں کو دہرایا جاتا ہے نا تو دل کو وہی تکلیف اتنی ہی مقدار میں ہوتی ہے جتنی پہلے ہوئی ہوتی ہے۔
جوانی میں لگنے والے روگ کم عمری میں انسان کو کھا جاتے ہیں اور انسان یادوں کے سمندر میں بس غوطہ زن ہوتا رہتا اور اپنا روگ تازہ رکھتا ہے۔ انسان بچنے کے لیے خود کو مزید نقصان پہنچانے لگتا ہے کیونکہ اس عمر میں اکثر جوش سے کام لیتے ہیں ہوش سے کام لینے کا بھلا کس کو ہوش ہوتا ہے اور یہ جوش ہمارے اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کیونکہ اکثر نوجوان نسل ان حالات میں خودکشی کی راستہ چنتی ہے آس پاس رہنے والے لوگ اس کی اندر کی حالت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہوتے اور بجائے اس کو سمجھنے کے اس کو یا تو برا بھلا کہا جاتا یا پھر اس کے حال پہ چھوڑ دیا جاتا ہے اس اکیلے پن کی وجہ سے ہی یہ روگ لاعلاج ہوتے جاتے اور اک ایسا وقت آتا کہ سوائے خود کو اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا دینے کے لیے سوائے موت کے حل نہیں ملتا ۔ لوگ ڈرگ لینا شروع کر دیتے کہ دماغ سے دل سے رابطہ ختم ہوجائے اور کچھ دیر کے لیے ہی سہی اس اذیت سے چھٹکارا ملے لیکن جیسے ہی نشہ ختم ہوتا یہ یادوں کے جان لیوا روگ پھر سے آ جاتے۔
ایسے لوگ اگر آس پاس موجود ہوں تو طعنے دینے مذاق اڑانے اور جھوٹی ہمدردی جتانے کی بجائے ان کا علاج کروایا جائے ورنہ آپ کسی اپنے کو کھو دے گے ۔ آپ کا اپنا آپ کے چند الفاظ کی مار ہے کیونکہ یہ لفظوں کے روگ بہت جان لیوا ہوتے ہیں۔ اور روگ اندر سے ایسے کھاتے ہیں کہ جیسے اندر سے کوئی کیڑا پھل کھا جاتا اور ظاہری شکل و صورت ویسے ہی رہتی پر پھل کے اندر کچھ نہیں رہتا۔۔۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button