بلاگز

کامیاب زندگی کا معیار تحریر نجیب اللہ

‏معیارزندگی (standard of life) کیا ہے اس کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے جس پہ تمام لوگوں کو جمع کیا جاسکے۔ ہر جگہ ہرسماج اور ہربرادری میں اس تعریف الگ الگ ہے۔
‏ انسان اپنے معیار پہ زندہ رہنے کی کوشش کرے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر جب انسان اپنے قائم کردہ معیار کو اپنے لئے لازم اور فرض ٹھہرالیتا ہے یا پھر دوسروں کے معیار زندگی کو اپنانے میں سماجی براربری یا برتری سمجھنے لگتا ہے تو یہ چیز کبھی کبھی جان لیوا بھی ہوجاتی ہے۔
‏سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی اس مسئلہ کا شافی حل رکھتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے، اپنے احباب اور دوستوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھا کرتے تھے کہ آنے والا شخص کنفیوژ ہوکر پوچھتا تھا کہ تم میں محمد کون ہے؟ کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اٹھنا بیٹھنا ،سونا جاگنا سارا کچھ سادگی سے بھرا تھا اور بے جا تکلف سے پاک و صاف تھا۔آپ ص کی پسند بھی ایسی نہ تھی کہ جسے عام آدمی اگر اپنانا چاہے تو نہ اپنا سکے۔
‏اہل مدینہ کو گوہ یعنی سانڈا پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان کھایا بھی گیا مگر آپ کو پسند نہ آیا تو آپ نے کبھی نہیں کھایا،مگر کسی کو منع بھی نہیں کیا۔
‏من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کوئی کسی قوم کی نقالی کرے وہ اسی میں سے ہے) میں ایک نحیف اشارہ یہ ہیکہ مذہبی طور پہ کوئی مسلمان کسی کی نقالی نہ کرے۔ مسلمانوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا کلچر سارے عالم میں بہترین کلچرہے۔
‏کبھی کبھار جب باہر سے کوئی امیر ملنے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یمنی جبہ زیب تن فرماتے اور ملنے جاتے اور اس کا جواب یہ دیتے کہ انہیں ایسا نہ لگے کہ مسلمانوں کا امیر بالکل ہی کنگال ہے۔
‏صحابہ کرام کوطواف کعبہ کے پہلے تین چکر میں دلکی چال چلنے کو کہا تاکہ اہل مکہ کو یہ باور کرایا جائے کہ ایمان لانے کے بعد مسلمان لاغر نہیں ہوئے۔
‏انسان اپنے لئے کوئی معیار اور اسٹنڈرڈ نہ بنائے کہ اس کے بغیر وہ جی نہیں سکتا مثلا ہفتہ میں ایک دن یا دو دن گوشت کھانا،بغیر جوتے کے باہر نہ نکلنا ،تہبند پہن کر باہر جانے کو معیوب سمجھنا،بغیر گوشت کے دعوت نہ کرنا،ادھار کی چیز پہ مہمانوں کی ضیافت کرنا،اپنے مسائل کو بلاوجہ چھپانے کی کوشش کرنا،لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ وہ بڑا امیر انسان ہے جبکہ قرضوں میں مبتلا ہونا۔بغیر تحفہ و تحائف کے کسی کے گھر ملنے نہ جانا۔لوگوں کو قیمتی گفٹ دینا۔شان وشوکت کی مہمان نوازی کرنا۔۔۔۔۔۔
‏المھم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان عیوب سے بالکل پاک تھی لہذا انہیں کوئی فکر اور ٹینشن نہیں تھا۔اپنے لئے چونکے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لہذا ہمیشہ اوروں کیلئے سوچتے تھے۔
‏آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پہ پھٹے کپڑے ہوتے تھے جسےسب دیکھتے تھے،فاقہ سے پیٹ پہ پتھر بندھے تھے اسے سبھوں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض تھے سب کو پتہ تھا،اپنی پیاری بیٹی کو باندی نہ دی اور نصیحت کی کہ بیٹا تسبیح پڑھ لیا کرو اس سے تمہاری تکان دور ہوجایا کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ کبھی زکوٰۃ ادا کرپاتے،سونے کیلئے نرم بستر بھی میسرنہ تھا پیٹھ پہ چٹائی کا نشان دیکھ کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
‏دراصل ہماری شان شوکت ہماری ایمانداری ، امانت داری اورعدہ پورا کرنے ،قرض سے دور بھاگنے اور اچھے معاملات برتنے میں ہے جسے ہم نے یکسر نظر انداز کردیا ہے اور اس کی جگہ ہم نے مصنوعی چیزوں کو اپنی پہچان بنانا شروع کر دیا ہے ۔
‏یاد رکھیں کہ پیتل پہ سونے کی پرت خواہ کتنی بھی کم کیوں نہ ہو مگر قیمتی سونا ہی ہوتا ہے پیتل نہیں ۔
‏اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر
‏آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button