بلاگز

برکات درود شریف‏ دُرودِ پاک

‏جب کبھی آ پ خود کا موازنہ کرنا چاہو کہ اللہ پاک آپ سے راضی بھی ہے کہ نہیں۔ تو رات کی تنہائی میں دھیان لڑایا کرو کہ کتنی دفعہ نامِ محمد صلی الله عليه وآلہ وسلم
‏آپ کی زبان پر آیا ۔۔کتنی دفعہ درود پاک پڑھوایا گیا آپ سے دن بھر میں۔ وہ جو۔۔ ربّ العزت۔۔ ہے نا؟
‏کبھی کسی غیر یا ایسے انسان کی زبان پر اپنے محبوب کا نام آنے ہی نہیں دیتا جس سے وہ ناراض ہو ۔
‏دنیا داری میں الجھائے رکھتا ہے انہیں ہر وقت ۔
‏اور یہ بات تو آپ دل سے نکال ہی دو کہ درود شریف آپ خود پڑھتے ہو.. ربّ العزت آپ کو یاد دلاتا ہے کہ پڑھو
‏آپ کا دھیان اس طرف لاتا ہے کہ پڑھو درود شریف ۔
‏یاد کرو کہ اچانک آپ کے دل کو اداس اور بھاری کر دیا جاتا ہے ۔

‏تو آپ فوراً درود شریف پڑھنا شروع کر دیتے ہو ۔

‏یہ بھی عنایت ہی عنایت ہے میرے ربّ کی.

‏اللَّهُمَّ صَل عَلٰی سَيِد ِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَلِمُ

‏ حضرت سید محمد بن سلیمان جزولی ایک بزرگ گزرے هیں وه ایک مرتبہ کہیں تشریف لے گئے اور وہاں نماز کا وقت هو گیا . آپ نے دیکھا که وہاں کنواں تو موجود هے لیکن کوئی ڈول یا رسی وغیرہ موجود نہیں . فرماتے هیں میں اسی فکر میں تھا که ساتھ والے مکان سے ایک بچی نے باهر جهانکا اور پوچھا که آپ کیا تلاش کر رهے هیں ؟ میں نے کہا بیٹی میں نے وضو کرنا هے لیکن پانی نکالنے کا کوئی ذریعہ نہیں . اسنے پوچھا آپکا نام کیا هے ؟ میں نے کہا مجھے محمد بن سلیمان جزولی کہتے هیں.
‏بچی بولی اچھا آپ وه سلیمان هیں جن کو سب جانتے هیں اور آپ هیں که کنوئیں سے پانی نہیں نکال سکتے ؟
‏یه کہ کر اس بچی نے اپنا لعاب دھن پانی میں ڈال دیا تو آنا فانا پانی کناروں تک آ گیا . میں نے اس بچی سے قسم دیکر پوچھا که تجھے یه مرتبہ کیسے ملا ؟ تو اس نے کہا که یه سب جو آپ نے دیکھا یه درود پاک پڑھنے کی وجه سے هے. یه سن کر میں نے عہد کیا که درود پاک کے متعلق کتاب لکھوں گا۔
‏ پھر حضرت محمد بن سلیمان نے درود پاک کے متعلق کتاب لکھی جو دلائل الخیرات کے نام سے مشہور هے .
‏اور اسکے بعد آپ نے درود پاک کو اپنا ورد بنا لیا اور آپ کے متعلق مشہور هے که آپکی قبر سے کستوری کی خوشبو آیا کرتی تھی .
‏آپ کے وصال کے ستتر سال بعد آپکے جسد خاکی کو سوس سے مراکش منتقل کیا گیا تو آپکا جسم ویسے هی تروتازه پایا گیا حتی که آپکا کفن بھی بوسیدہ نہیں هوا تها . وصال سے قبل آپ نے خط بنوایا تھا جو تروتازه تھا . حتی که کسی نے آزمائش کیلئے آپکے رخسار پر انگلی رکھ کر دبایا تو وه جگه سفید هو گئی اور تھوڑی دیر بعد پھر سرخ هو گئی جیسے زندوں کے جسم میں خون کی روانی کے باعث هوتا هے . یه سب درود پاک کے سبب هے۔
عمار احمد عباسی ‏⁦‪‬⁩

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button