بلاگزپاکستان

‏یہ مقام اللہ تعالیٰ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے رکھا تھا۔

‏حضرت بلال پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتا تھا تا کہ وہ اسلام سے پھر جائیں، عرب کی تپتی دوپہر میں ان کو گرم، ریت پر لٹایا جاتا تھا اور ان کے سینے پر ایک وزنی چٹان رکھی جاتی تھی اور ان سے کہا جاتا تھا کہ اسلام چھوڑ دو لیکن ان کی زبان سے صرف احد احد نکلتا تھا
‏حضرت بلال رضی اللہ عنہ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے شروع میں اسلام قبول کیا اور جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔جن پر کفار مکہ نے مظالم ڈھائے تا کہ تنگ آکر اسلام سے پھر جائیں لیکن ان کی زبان صرف احد احد کرنا جانتی تھی۔ آپ مکہ میں پیدا ہوئے جبکہ بنیادی طور پر آپکا تعلق ابی سنیا سے تھا، جسے آجکل ایتھوپیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے تین برس بعد پیدا ہوئے اور آپکا پورا نام بلال بن ابی رباح ہے۔ان کی والدہ کا نام روایات میں حمامہ آیا ہے، صحابہ اور روایات کے مطابق ان کا رنگ سیاہ تھا، قد اونچا اور کسی قدر دبلے پتلے تھے لیکن جب صحابہ ان کی خصوصیات بتاتے تو کہتے تھے کہ وہ صادق القلب تھے، ایک ایسے انسان جنہوں نے سب کچھ محنت اور جدو جہد سے حاصل کیا اور یہ سب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا نتیجہ تھا۔ آپ ﷺ کی جانب سے حضرت بلال کو دو لقب دئے گئے یا دو طرح کی خدمات تھیں جو خود آپ ﷺ نے حضرت بلال کو سونپیں، ایک الخازن، یعنی حضرت بلال، آپ ﷺ کے ذاتی خزانچی تھے، اور دوسرا لقب جو آپکا ہے وہ مؤذن رسول ﷺ ہے جو کہ سب بخوبی جانتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال کو تمام مؤذنوں کا سردار کہا ہے تو دنیا میں قیامت تک جہاں بھی اذان دی جائے گی حضرت بلال ان تمام مؤذنوں کے سردار ہیں
‏رسول اللہ ﷺ کی ہر مہم ہر غزوہ میں حضرت بلال آپ ﷺ کے ساتھ رہے، آپ رضی اللہ ان سات صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ حضرت بلال ہمیشہ بات کرتے ہوئے یہی کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے وہ فرمایا، ان سے کوئی اور بات کی جاتی تو کچھ دیر وہ بات کرتے مگر پھر یہیں آجاتے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے وہ فرمایا۔ آپ ﷺ فرماتے تھے، بلال کوئی بھی بات مجھ سے منسوب کر کے کہیں تو اس کے بارے میں کسی شک میں مت پڑنا۔حضرت بلال ان اصحاب میں سے ہیں جن کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی اور یہ ایک وجہ ہی کافی تھی کہ لوگ ان کی بے پناہ عزت کرتے، ان کی تعریف کرتے اور جب ایسا ہوتا، حضرت بلال اپنے سر کو جھکا لیتے، جاننے والے جانتے تھے کہ ان کی تعریف کی جارہی ہے لیکن سر جھکا کر حضرت بلال کی آنکھوں سے اشک جاری ہوتے تھے۔ وہ کہتے تھے میں تمہیں بتاؤں میں کیا ہوں؟ میں ایک حبشی ہوں اور میں ایک غلام تھا اور ایک غلام ہوں، اللہ کا غلام۔ایک بار ایک قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اے اللہ کے رسول میری بیٹی کی شادی کسی سے کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا، بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ لوگ پھر آئے پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ میری بیٹی کی شادی کسی سے کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا، بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ لوگ تیسری بار پھر آئے اور پھر یہی کہا، آپ ﷺ نے پھر جواب دیا، بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جو کہ جنتی ہے۔
‏ایک بار فجر کی نماز کے بعد آپ ﷺ نے حضرت بلال سے پوچھا کہ تم ایسا کیا کرتے ہو کہ کل رات جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی۔حضرت بلال نے جواب دیا، یا رسول اللہ ﷺ جب بھی میرا وضو ٹوٹتا ہے میں دوبارہ وضو کر کے دو رکعت نفل ادا کرتا ہوں۔کون تھا ایسا جو نہ چاہتا ہو کہ موذن رسول ﷺ کا منسب اسے نصیب ہو؟ صحابہ اس بات پر جان تک دے سکتے تھے لیکن یہ مقام حضرت بلال کے حصے میں آیا تھا نہ صرف یہ بلکہ فتح مکہ کو یاد کریں جب بڑے بڑے مرتبے والے صحابہ موجود تھے اور ایک طرف خانہ کعبہ تھا جو مسلمان اور مشرکینِ مکہ دونوں کے لئے سب سے محترم تھا لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی چھت پر جا کر اذان دینے کے لئے بُلایا تو کسی اور کو نہیں بلکہ حضرت بلال کو کہا ورنہ وہاں وہ دس صحابہ موجود تھے جن کو دنیا میں جنت کی بشارت مل گئی تھی، وہ اصحاب موجود تھے جو بدر میں آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے، وہ چار خلفائے راشدین موجود تھے جن میں سے دو آپ ﷺ کے داماد اور دو کی بیٹیاں آپ ﷺ کی ازواج تھیں لیکن یہ مقام اللہ نے حضرت بلال کے لئے رکھا تھا۔
‏حضرت بلال رضی اللہ دمشق میں، 20 ہجری میں اس دنیا کوچھوڑ کر اپنے محبوب سے ملنے چلے گئے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی نہ ہی ان کی کوئی جائداد تھی، اصل میں فقر کے باعث وہ اپنے پیچھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے سوائے اذان کے جو قیامت تک تمام مسلمانوں کو ان کی یاد دلاتی رہے گی۔آپ نے ۲۰ ھ میں دنیائے فانی کو خیرباد کہا، کم وبیش ساٹھ برس کی عمر پائی، دمشق میں باب الصغیر کے قریب مدفون ہوئے
‏تحریر محمد اسماعیل رونجھو

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button