بلاگزپاکستان

‏نبی کریمﷺ کے اپنی امت پر بہت سے حقوق ہیں:


‏نبی کریمﷺ کے اپنی امت پر بہت سے حقوق ہیں:
‏اولاً:
‏آپ ﷺ پر ایمان لانا اور آپﷺ کی رسالت کی تصدیق کرنا –
‏اللہ تعالی فرماتےہیں:
‏فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالنُّوۡرِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلۡنَا‌ؕ
‏لہذا اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
‏(التغابن آیت 8)
‏ثانیاً: آپ ﷺ کی اتباع کرنا-
‏اللہ تعالی کا فرمان ہے:
‏وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ‌ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞
‏اَ لَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِىَّ الۡاُمِّىَّ
‏ اور جہاں تک میری رحمت کا تعلق ہے وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ چنانچہ میں یہ رحمت (مکمل طور پر) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو تقوی اختیار کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں۔٭
‏جو اس رسول یعنی نبی امی کے پیچھے چلیں
‏الاعراف: 156-157
‏ثالثاً: آپ ﷺ سے محبت رکھنا-کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی اولاد، اس کے والدین اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں: – (متفق علیہ)
‏رابعا: آپ ﷺ کی حیات میں اور بعد از حیات آپ ﷺ کی نصرت کرنا-
‏اللہ تعالی کا فرمان ہے:
‏لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌ۚ ۞
‏(نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔
‏(الحشر 8)
‏خامسا: آپ ﷺ کے دعوت کو پھیلانا کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: میری طرف سے لوگوں تک پہنچاؤ چاہے وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو- (صحیح بخاری)
‏سادسا: آپ ﷺ کی زندگی میں اور آپﷺ کی وفات کے بعد ہرحالت میں آپ کی توقیر کرنا- کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
‏لِّـتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۞
‏تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں۔
‏(الفتح آیت 9)
‏سابعا: آپ ﷺ پر درود بھیجنا جو نماز میں اور ہر اس وقت واجب ہوتاہے جب آپ ﷺ کا ذکر ہو کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے
‏(احزاب آیت 56)
‏اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞
‏بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
‏ثامنا: آپ ﷺ سے محبت رکھنے والوں سے محبت کرنا اور آپ ﷺ کے دشمنوں سے نفرت کرنا-
‏کیونکہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتےہیں
‏لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ۞
‏جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے،
‏(المجادلۃ 22)

‏تحریر: محمد ابوزوہیب فوزان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button