بلاگز

سورة الزمر کی آیت 53 کی شان نزول


‏السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ سورة الزمر میں فرماتا ہے۔قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ▪︎( میری جانب سے ) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالٰی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی ، بخشش بڑی رحمت والا ہے▪︎(39:53) ‏اس کے شان نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے کہا : یہ مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت کبیرہ گناہ کرنے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ کے قاتل حضرت وحشی ؓ کے متعلق ہے، ان تینوں اقوال کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں۔ ‏حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کا شریک قراردیتے ہیں اور ناحق قتل کرتے ہیں، اس کی بخشش نہیں ہوگی، تو ہم کیسے ہجرت کریں اور اسلام لائیں، حالانکہ ہم نے بتوں کی عبادت کی ہے۔‏ اور جن کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا تھا ہم نے ان کو قتل کیا ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ بتایا کہ تم میری رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٢٤٣،دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ ‏حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول ﷺ یہ کہتے تھے کہ ہماری ہر نیکی قبول کی جائے گی، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو(محمد :33)پھر ہم نے کہا : ہمارے نیک اعمال کس چیز سے باطل ہوں گے؟تو ہم نے کہا: ‏ناجازب کام اور بےحیائی کے کام ہمارے نیک کاموں کو باطل کردیں گے، پھر جب ہم کسی شخص کو کوئی ناجائز کام یا بےحیائی کا کام کرتے دیکھتے تو کہتے: یہ ہلاک ہوگیا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی: ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء(النساء :48-116) ‏پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے اس طرح کہنا چھوڑ دیا، پھر اگر ہم کسی شخص کو ناجائز یا بےحیائی کا کام کرتے ہوئے دیکھتے تو ہمیں اس پر عذاب کا خطرہ ہوتا اور اگر وہ کوئی بُرا کام نہ کرتا تو ہم اس کی مغفرت کی امید رکھتے جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٢٥٧،دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ ‏حضرت وحشی ؓ کا اسلام لانا:حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کے قاتل وحشی کی طرف کسی کو بھیج کر بلوایا اور اس کو اسلام کی دعوت دی، اس نے یہ جواب دیا کہ اے محمد ! آپ مجھے اپنے دین کی کس طرح دعوت دے رہے ہیں، حالانکہ آپ یہ کہتے ہیں کہ جس نے قتل کیا ‏یا شرک کیا، زنا کیا، اس کو بہت گناہ ہوگا۔ قیامت کی دن اس کا عذاب دگنا کیا جائے گا اور اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور میں یہ سب کام کرچکا ہوں، کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں؟تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:‏الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت ط وکان اللہ غفورا رحیما(الفرقان :70)وحشی نے کہا : اے محمد ! یہ بہت سخت شرط ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کرے، ہوسکتا ہے کہ میں اس شرط پر پورا نہ اتر سکوں، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:‏ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء۔ (النساء : 48) وحشی نے کہا : اے محمد ! میں دیکھ رہا ہوں کہ اس میں بھی مغفرت اللہ کے چاہنے پر موقوف ہے۔میں نہیں جانتا کہ میری مغفرت ہوگی یا نہیں۔ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور صورت ہے؟ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:‏اے میرے وہ بندو جو (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بہت بخشنے والا ہے، بےحد رحم فرمانے والا ہے(الزمر :53)وحشی ؓ نے کہا : اب ٹھیک ہے، پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آیا‏لوگوں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! اگر ہم بھی وحشی کی طرح گناہ کر بیٹھیں؟آپ نے فرمایا: یہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے المعجم الکبیر حدیث : ١٤٨٠،شعب الایمان ج ٥ ص ٤٢٤، حدیث : ١٤٠،تاریخ دمشق الکبیر ج ٦٥ ص ٣١٦، حدیث : ٤١٤٨، مختصر تاریخ دمشق ج ٢٦ ص ٢٦٣،مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٠١
مجاہد حسین

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button