بلاگز

جنسی بےراہ روی اور ہمارا معاشرہ


جنسی بے راہ روی کا مطلب ہم جنس پرستی بھی لیا جاسکتا ہے,یعنی ایک مرد کا دوسرے مرد سے اور ایک عورت کا دوسرے عورت سے جنسی تسکین حاصل کرنا کے ہے۔
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کرے تو نام نہاد قومیں جنسی بےراہ روی کی وجہ سے نشان عبرت بن چکی ہیں۔
اس کی ایک اہم مثال قوم لوط ہے۔قوم لوط وہ قوم تھی جو جنسی بے راہ روی کی شکار تھی,یعنی ایک مرد دوسرے مرد سے جنسی تسکین حاصل کرتا تھا۔
جنسی بےراہ روی کا مطلب مرد اور عورت کا ایک دوسرے کی طرف کشش کے ہیں۔
=> بخاری حدیث ہے:
ترجمہ۔ اللہ کا فرمان ہے,کہ تم مجھے دو باتوں کی زمانت دے دو میں تمہیں جنت کی زمانت دیتا ہوں۔
ایک زبان کی حفاظت اور دوسرا شرم گاہ کی حفاظت ۔
یہ دو صفات جنت الفردوس پانے والو کی بنیادی صفت ہوگی۔
=>ترمزی کی روایت:
ترمزی کی ایک روایت ہے کہ محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا;
”حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہے“
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک چلا جاے تو دوسرا بھی جاتا ہے,یعنی جس میں حیا نہ ہو اس میں ایمان نہیں رہتا۔

جنسی بےراہ روی کے اسباب :
جنسی بےراہ روی کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں۔ 

(1) جنسی بےراہ روی کے سب سے پہلا سبب وقت پر شادی نہ کرنا کے ہے۔
اس کی مثال ہم یہ لے سکتے کہ ایک شخص کی عمر 35 برس ہے اور اس کی شادی نہیں ہوٸ ہو تو ظاہر ہے وہ جنسی تسکین کے لیے غلط اور عارضی راستہ چنے گا۔

(2 ) انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال کرنا :
انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال جنسی بے راہ روی کا ایک سبب ہے۔ جب کوٸ جوان لڑکا/لڑکی زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرتی ہوگی تو زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ وہ فحش فلمیں دیکھنے کے عادی ہوجاتے ہے۔

(3) پردے کا احتمام نہ کرنا :
سورہ احزاب میں اللہ فرماتے ہیں کہ اے محمد صلى الله عليه واله وسلم اپنے بیویوں سے کہیے,بیٹھیوں سے کہیے,اور اہل ایمان والوں سے کہیے کہ اپنے اوپر میں سے جلد باب میں سے لٹکا دے۔
یعنی اس ایات کا مطلب یہ ہے کہ پردہ کا زیادہ اہتمام کیا جاے اور اس کی سخت وعید کی گٸ ہے۔

(4)نظر کی حفاظت :
اللہ فرماتا ہے کہ نظر کی حفاظت ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔

=)جنسی بےراہ روی سے بچنے کے اسباب۔
(1) وقت پر شادی کرنا:
اگر ایک شخص وقت پر شادی کارے گا تو وہ ارضی اور غلط راستہ نہیں چنے گا،بلکہ اپنی اہلیہ سے حلال طریقے سے ہمبستری کرےگا اور اسی میں بھلای ہے۔
(2) انٹرنیٹ کا صحیح استعمال۔
اگرکوٸ انسان کسی فون کا غلط استعمال کرےگا تو وہ جنسی بےراہ روی کا اسانی سے شکار ہوسکتا ہے۔ تو موبائل غلط استعمال سے ہم جنسی بے راہ روی سے بچسکتے ہیں۔
(3) پردے کا احتمام کرنا۔
الله فرماتے ہیں کہ اپ مرد اور عورت دونوں پردے کا احتمام کرے اگر اپ پردے کا احتمام نہیں کرے گے تو اپ جنسی بےراہ روی کا جیسی غلیظ حرکات کا شکار بن سکتے ہیں۔
اللہ کا ارشاد ہے: سورہ احزاب میں اللہ فرماتے ہیں کہ اے محمد صلى الله عليه واله وسلم اپنے بیویوں سے کہیے,بیٹھیوں سے کہیے,اور اہل ایمان والوں سے کہیے کہ اپنے اوپر میں سے جلد باب میں سے لٹکا دے۔
(4)نظر کی حفاظت۔
نظر کی حفاظت کرنا ہر مومن مرد اور عورت پر فرض ہیں۔
اسلام میں نظر کی حفاظت پہ اللہ نے سخت وعید سنای ہیں۔
نظر کی حفاظت نہ کرنا گناہوں کی شروعات ہے ہر مومن مرد اور عورت کو چاہیئے کہ اپنی نگاہیں نیچھے رکھے تاکہ گناہوں سے بچھ سکے۔
اللہ ہم سب لوگوں کو معاف پرمادے۔
(5) اپنے عمر سے کم عمر لڑکا/لڑکی سے تعلق رکھنا۔
جب کوٸ عمر میں زیادہ شخص اپنے سے کم عمر لڑکے سے تعلق رکھتا ہے تو انہیں روکھنا چاہیئے کیونکہ یہ تعلق پر ایک انتہاٸ غلط رنگ اختیار کر سکتی ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے ہم عمر لڑکو سے تعلق رکھنا چاہیئے ۔ اور اگر کم عمر لڑکو سے تعلق رکھوگے تو یہ ہم جنس پرستی کی طرف ایک اور مثبت قدم ہیں۔
(6) قران و سنت کی پیروی کرنا۔
قران ایک مکمکل ضابطہ حیات ہے،اگر ہم اسلام کے روشنی میں زندگی گزارنی ہے تو قران کی تعلیم حاصل کرنا فرض ہوجاتا ہیں۔
قران میں اللہ نے فرمایا ہے ہم جنس پرستی گناہ ہے اور اس سے بچنا چاہیئے۔
جنسی بےراہ روی سے ہم تب بچھ سکتے جب ہم قران وسنت کی پیروی کرے گے۔
پہلے زمانے میں لوگ جنسی بےراہ روی کا شکار تھے وہ اس غلیظ حرکات میں بہت اگے جا چکے تھے۔
اس کی مثال قوم لوط ہے جو جنسی بےراہ روی کا شکار تھے۔
اللہ نے ان پر ایسا عزاب نازل کیا جو لوگ تاقیامت یاد رکھے گے۔
اللہ نے قوم لوط کو زمین میں اندر دہنسا دیا تھا۔
اور قران میں واضح فرمایا ہے کہ اس غلیظ حرکتوں سے بچو ورنا قبر اور دوزخ میں سخت سے سخت سزاییں ملے گے۔
(7) وقت پر نماز ادا کرنا۔
نماز دین کا ستون ہے جب انسان نماز وقت پر ادا کرےگا تو اسکا گناہ کرنے کو دل نہیں کریگا۔
وہ زہن میں یہ سوچتا ہوگا کہ یار میں نے تو ابھی نماز ادا کرکے ایا ہو تو اب میں گناہ کیسے کرسکتا ہوں?
جب انسان کی ایک نماز قبول ہوتی ہے تو اللہ دوسرے نماز ادا کرنے کی توفیق ادا کردیتا ہے۔
اگر ہم وقت پر پانچھ نمازیں ادا کارینگے تو انشااللہ ہم دنیا اور اخرت دونوں میں کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق عطا کرے۔
امین۔

تحریر منیب خان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button