بلاگز

کل نفس ذائقہ الموت ترجمہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکنا ہے

کل نفس ذائقہ الموت ترجمہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکنا ہےانسان کو زندگی دینے کا مقصد اس سے اپنی عبادت کرانا مقصود ہے ، دنیا کے سجائے جانے کا مقصد اپنی پاکیزگی اور بلندی کو بتانا ہے ، وماتدری نفس بائی ارض تموت کسی نفس کو علم نہیں کہ اسکو موت کس جگہ آ پکڑے گیجب انسان کی سانسیں مکمل ہوجاتی ہے اسکا آخری وقت آن ہوجاتا ہے جب اسکو اسکا پروردگار بلاتا ہے وہ شخص جس حال میں بھی اسکو اپنے رب ذوالجلال کی جانب اس دنیائے فانی سے جانا ہوگا
واذ قال ربک للملکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ الایۃ
سب سے پہلے اللہ وبرکاتہ نے فرشتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا رب زمین پر خلیفہ بھیج رہا ہے، وہ میری حمد اور تسبیح بیان کریگا ، اور میری پاکیزگی کے نعرہ بلند کریگا، آئے نور سے معمور نفس میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے.!دنیا میں سب سے قبل ہمارے دادا حضرت آدم علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ان سے نسلوں کو جاری کیااب وہ نسلیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور ان ہی نسلوں میں کسی پر شر غالب ہے اور کسی پر تقوی غالب ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے قاصدوں کے زریعے سے بتایا کہ میں نے تم کو پیدا کیا ہے اور میری طرف تم کو آنا ہے نفس میں جہاں حیات کا مادہ رکھا گیا ہے وہی دوسری جانب ممات کا بھی مادہ ہے موت کا تلخ ذائقہ ہے، اسکو پینا کوئی بھی گوارہ نہیں کرتا، بعدہ یہ موت ہر نفس کو جکڑ لیتی ہے اس سے اسکی حیات کو ختم کردیتی ہے کبھی تو یہ ماں کی آغوش میں پل رہے بچے کو جکڑ لیتی ہے، تو کبھی عین جوانی میں آکر ہزاروں کی آرزو پر پانی بھا دیتی ہے ، اور کبھی ضعیف عمری میں وارد ہوتی ہے گرچہ وہ انسان محلات بنگلے میں مقیم ہو یا جھونپڑیوں میں،الغرض موت ہر نفس کو جکڑ لیتی ہے تفریق یہ کہ آج انکی تو کل ہماری باری ہے موت سے کس کو رستگاری ہے آج انکی تو کل ہماری باری ہے ہر نفس کو دنیا چھوڑ جانی ہے روح کے قبض ہونے کے بعد اسکا دنیا سے خاتمہ ہوجا تا ہے لوگ اسکو نہلا دھلا کر گھروں سے باہر نکل قبرستان کی طرف رواں دواں ہورہے ہوتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کے پیچھے تین شی چلتی ہیں ان میں سے دو واپس لوٹ کر آجاتی ہے میت کے پیچھے اسکا خزانہ اسکی اولادیں اور اسکے اعمال جاتے ہیں ،مال و اولاد واپس لوٹ کر آجاتے ہیں باقی اسکے ساتھ اسکے اعمال رہے جاتے ہیں خواہ اچھے ہوں یابرے ہوں اب وہ انسان اگر زندگی کو صحیح معنوں میں استعمال کرکے گیا ہے حرام کو حرام سمجھا، حلال کو حلال جانا خوف خدا کو دل میں رکھا رشوت سے مکمل پرہیز کیا جھوٹ بول کر کسی کا حق حاصل نہیں کیا، یتیموں اور مسکینوں کے غم کو اپنا غم جانا انکے مال و دولت پر ڈاکہ زنی نہیں کی زنا بالجبر اور زنا باالرضا کے قریب تک نہ پہنچ سکا رزق حلال کمایا جتنا کمایا اس پر صبر و تحمل سے کام لیا اللہ اور اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی اطاعت میں زندگی بسر کی ،کل بروز محشر اس سے اچھا برتاؤ کیا جائیگا ایک وہ انسان جس نے نافرمانی میں زندگی، کاٹی خوف خدا دل میں نہیں رکھا رشوت اور سود سے اپنے پیٹوں کو بھرا حرام کو حرام نہیں جانا یتیم اور بیواؤں کے مال پر ڈاکہ زنی کی تھی ایسا انسان کو بروز محشر ناکامیوں کا جھنڈا بایاں ہاتھ میں دیا جائیگا ،اور فرشتوں سے کہا جائگا کہ اسکو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دو اور یہ اعلان سنادو کہ اب اسکو کبھی بھی موت نہیں آئیگی،جنتی لوگوں کے لیے یہ ایک خوشحال اعلان ہوگااللہ تعالیٰ سے ہر نفس کے لئے دعا گو ہیں کہ انسان پر موت کی تکلیفوں سے محفوظ فرمائیں.!
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

تحریر اوصاف قاسمی

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button