بلاگز

دیہاتی اور شہری زندگی : تحریر سید محمد مدنی

دیہاتی اور شہری زندگی میں اب بہت فرق آ چکا ہے پہلے دیہاتی زندگی انتہائی سادہ ہوتی تھی گاؤں دیہات کے لوگ سادہ ہوتے تھے گھر بے شک چھوٹے مگر دل بڑے ہؤا کرتے تھے. گاؤں یا دیہات میں بھی اب شہری زندگی کی سہولیات نے جگہ لے لی ہے. اگرچہ بے شک شہری زندگی جدید سہولیات سے میسر تو ہے مگر جیسے جیسے ترقی ہو رہی ہے نئے امراض اور مسائل بھی جنم لے رہے ہیں.
خوشگوار ماحول سبزہ تازہ ہوا یہ اب شہروں میں ہے تو سہی مگر ساتھ گاڑیوں ویگنوں بسوں ٹرکوں کا نکلتا دھواں اس تازہ ہوا کے ماحول کو آلودہ کرچکا ہے دیہات میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اب مگر پھر بھی دیہاتی زندگی بہتر اس لئے ہے کہ وہاں تازہ ہوا خوشگوار ماحول مل ہی جاتا ہے.
گاؤں دیہات کی دوسری اہم بات کے وہاں اب بھی ایسا ماحول ہے کہ پڑوس والے کے ہاں اگر کوئی مسئلہ یا مشکل پیش آ جائے تو ساتھ رہنے والے پڑوسی لوگ مدد کرنے آجاتے ہیں مگر شہر کے جدید اور پوش علاقوں میں یہ چیز کم ہے ایسا بھی نہیں کہ ختم ہوگئی ہے.
دنیا کا ماحول پلوشن دھوئیں سے آلودہ ہوتا جا رہا ہے سبزہ ختم اور آکسیجن نہیں میسر ہورہی اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم نے درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا تاکہ سبزہ ہو زیادہ سے زیادہ ہو جبکہ گاؤں میں ابھی بھی آپ کو نہ آلودگی ملے گی جس سے گھٹن محسوس یا بیماری ہو اور نہ ہی زیادہ مشکلات.
گاؤں میں چیزیں بہ نسبت شہر کے کم ہوتی ہیں مگر یہ بھی بات عیاں ہے کہ گاؤں کا ماحول اب بھی بہت بہتر ہے ترقی ہو رہی ہے اور گاؤں میں بھی اب سہولیات میسر ہونے لگی ہیں مگر شہر کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں.
گاؤں کا آدمی زیادہ تر کسان ہی ہوتا ہے جو اپنی پکی ہوئی فصلوں کو بیچ کر اپنا، اپنے بچوں اور خاندان کا پیٹ پالتا ہے.
پاکستان میں زمیندار لوگ شہروں میں رہتے ہیں مگر اپنے کی زمینیں مکمل طور پر بیچ کر شہر کا رُخ ہمیشہ کے لئے نہیں کرتے یہی وہ اہم وجہ ہے جسے لوگ اب بھی ختم نہیں کر سکے کیونکہ یہ ہے ہی اتنی اہم.
غرض یہ کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کبھی گاؤں میں رہا ہی نہیں کیونکہ ہمارا گاؤں دیہات نہیں ہے لیکن مجھے صاف ستھرے قدرتی ماحول کے لئے گاؤں جانا پڑتا ہے جس کا میں محتاج ہوں. گاؤں دیہات ایک نعمت ہے اگر آپ کے پاس یہ میسر ہے تو شکر ادا کریں کہ آپ کا جب دل چاہتا ہے تازہ اور سبزہ دیکھنے کے لئے گاؤں چلے جاتے ہیں اور کچھ ہفتے یا مہینے وہاں رہتے ہیں.
دعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ پاکستان کے گاؤں دیہاتوں کو سرسبز وشاداب ہی رکھے تاکہ گندے ماحول اور پلوشن کا خاتمہ ہو سکے.
اسی جملے کے ساتھ میں اپنی تحریر کو ختم کرتا ہوں.

سید محمد مدنی

I am Mr. Syed Muhammad Madni a freelance journalist and write columns on Urdu Globally. Follow me on Twitter @M1Pak.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button