بلاگز

دو طرح ذہنی امراض ہوتے ہیں۔ ایک نیورسک کم شدت ھوتی ہے ۔اور دوسری سایکوسک۔

بنیادی جو چیزیں ہوتی ہیں ۔نیورسک میں وہ انزائٹی ہوتی ہے۔ جو ذہن کی پریشانی یا ٹینشن ہوتی ہے۔ اب یہ جین لائک انزائٹی ڈس آرڈر کہتے

یعنی کہ جو لوکیشن ہے۔ اس بیماری جو ہے ۔میڈیکل ساہنس میں اسے یہ کہا جائے گا جینز لائک انزائٹی ڈس آرڈر ۔اگر اس مریض panic disoder ہو رہے ہیں .تو ہم کہیں گے پینک ڈس آرڈر۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان جا کر گھبراتا ہے۔ تو ہم کہیں گے سوشل ڈس آڈر۔

اس طرح سے آگے اس کی الگ اقسام ہوتی ہیں ۔لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں ۔تو اس کی صورتحال ایک ہی جیسی ہوتی ہے ۔اب اس میں انزاٹی آ جاتی ہے ۔ تو ظاہر ہے انسان کی زندگی میں بنیادی دو چیزیں ہیں۔ روح ہے۔ اور دوسرا اس کا جسم ہے۔ زندگی کیا ہے۔اور دوسراان دونوں چیزوں کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے۔ جو ہماری ذہنی کیفیت ہے ۔وہ ہمارے جسم کے اوپر اثرانداز ہوتی ہے ۔اور جو جسمانی کیفیت ہے۔ وہ ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کھانا کھا کر بیٹھے ہیں۔ تو کوئی خوشی کی خبر آپ کو سناتا ہے۔ تو دوبارہ کھانا کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ اور اگر آپ کو شدید بھوک لگی ہے۔ اور ابھی کھانا شروع نہیں کیا۔ اور آپ کو کوی دکھ کی خبر سنا دی جاتی ہے ۔ تو آپ کہیں گے کہ میری بھوک اڑ گئی ہے ۔میں نہیں اب کھانا کھاؤں گا۔

اس طرح سے انسان جب انزائٹی کا شکار ہوتا ہے۔ تو اس کے کیمیکلز میں تبدیلی سب سے پہلے دماغ میں آتی ہے ۔اور پھر پہلے سوچ آتی ہے۔ اس سوچ کے بعد ایک کیمیکلز تبدیل کیمیکلز آتی ہے۔ جو دماغ میں وہ جو کیمیکل تبدیلی ہے۔ وہ اس کے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے ۔اس طرح سے جو انزائٹی کی جو علامات ہوتی ہیں ۔جو مریض محسوس کرتا ہے۔ یا ڈاکٹر اس میں دیکھتا ہے۔ کہ یہ بھی چیز بھی مریض میں موجود ہے۔ جو مریض محسوس کرتا ہے۔ کہ اسے ہم علامات کہتے ہیں۔ اور جو ڈاکٹر مریض میں دیکھتا ہے۔ اسے ہم سائنس کہتے ہیں ۔وہ جو علامات مریض محسوس کرتا ہے۔ وہ دو طرح کی ہوگی۔ ایک ذہنی طور پر ہوگی نفسیاتی علامات ہوگی۔ اور دوسری اس کی جسمانی علامات ہوگی۔

ظاہر ہے ذہن جب پریشان ہو گا۔ ذہن میں کوئی دکھ ہوگا ۔تکلیف ہوگی۔ تو وہ جو دکھ اور پریشانی ہوگی ۔اس کے جسم پر بھی اثر انداز ہوگی۔ جو بڑی علامات ہوتی ہیں ۔جس میں انزاٹی ڈس آڈر کی ہم بات کرتے ہیں ۔ تو اس میں ذہنی ٹینشن پریشانی ہوتی ہے۔
تو ظاہر ہے ذہنی طور پر انسان کہتا ہے۔ میں بہت پریشانی محسوس کر رہا ہوں ۔گبھراہٹ ہو رہی ہے ۔ بعض دفعہ مریض یہ کہتا ہے۔ کہ مجھے کچھ ہو جاے گا۔ یہ بھی کہتا ھے کہ یادداشت خراب ہو جائے گی۔ عام طور پر کہا جاتا ہے۔ کہ میری یادداشت خراب ہوگئی۔ مجھے چیزیں بھولنا شروع ہو گئی ہیں۔ یہ مجھے بات یاد نہیں ہے۔ اس طرح سے مزاج میں بھی وہ چیز نظر آتی ہے۔

پھر جب ہم بائیولوجی کل طور پر۔ جو جسمانی طور پر ۔اس کے اوپر اثر انداز ہوتی ہے۔ چزیں جو مین ھے۔اس کے اندر بھوک ڈسٹرب ہوتی ہیں۔ نیند ڈسٹرب ہوتی ہے ۔جب انزائٹی میں کچھ ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں ۔جن کو ہم نورنگ نیز کہتے ہیں۔ وہ کیمیکلز جب جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تو سر سے پاؤں تک ھوتے ھے۔ کس کی علامات ہوگی ۔ جیسے گردن کے مسلز ۔ ہاتھ میں کپکپی طاری۔ زبان منہ خشک ہونا ۔ دل کی دھڑکن تیز ہونا ۔ اگر آنکھ کی پتلی پھیل جاتی ہے۔ تو نظر میں بھی مسئلہ ہونا۔

جب یہ کیمیکلز ہمارے جسم میں زیادہ کام کرتے ہیں۔ تو انسان جلدی تھکاوٹ محسوس کرتا ہے ۔ اور بہت سی جسمانی چیزیں اس کی وجہ سے ھوتی ھے۔ بار بار پیشاب آنا۔ بار بار موشن آنے۔ معدے کی تیزابیت تیز ہوجاتی ہے۔ اب اس چیز کو عام طور پرکہا جاتا ہے۔ کہ معدے میں گیس اٹھ رہی ہے۔ جو دماغ کو چڑھ رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ۔ ڈاکٹر نے بھی جان چھڑانے کے لئے۔ جب مریض نے کہنا ہے۔ کہ گیس ہے۔ تو ڈاکٹر نے بھی گیس کی دوائی لکھ دینی ہے۔

عام طور پر ایسا سمجھا جاتا ہے۔ دیکھیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔کہ معدے میں کوئی گیس بن رہی ہے۔ نہ ہی کوئی گیس بنتی ہے۔ اور نہ ہی دماغ کی کوئی ایسی نالی ہے۔ جو اس گیس کو دماغ تک لے کر جاتی ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ اس میں انزائٹی کی وجہ سے۔ انسان کے اندر معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔

اسی طرح سے بہت سے جسمانی علامات ہوتی ہیں۔جو انزائٹی کی جسمانی علامات۔ اس میں مریض سب سے پہلے جنرل فزیشن کے پاس جاتا ہے ۔ اور جنرل فزیشن کی او پی ڈی میں آپ دیکھیں گے۔ کہ وہاں 60 فیصد مریض انزاٹی کا شکار ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کے ذہن پر جو زیادہ چیز مسلط ہوتی ہے ۔وہ ان کی جسمانی تکلیف ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button