بلاگز

سیدنا کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم

وہ در یتیم جب آنکھ کھولتے ہیں دنیا میں تو والد محترم پاس نہیں پھر دادا اور والدہ بھی اس دنیا سے چلی جاتی ہیں پیار کرنے والے چچا جان ساتھ ہیں کون جانتا تھا یہ بچہ انبیاء کا سردار ہے؟کون جانتا تھا کہ یہ بکریاں چرانے والا رحمت اللعالمین ہے۔ سچ ہے اللہ جو وعدہ کرتا ہے نبھاتا ہے۔ سرکار سے کہا کے اے پیارے تمھارا زکر بلند کر دینگے اور اتنا بلند کیا ۔۔۔ اتنا بلند کیا کے چودہ سو سال کا عرصہ گزر گیا تاج والے کی شخصیت کے کسی ایک پہلو پر بھی تحقیق مکمل نا ہوسکی۔ زکر اتنا بلند کیا کہ دشمن بھی بیسٹ لیڈر آف دا ورلڈ کا خطاب دینے پر مجبور ہوگئے۔ آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں آزمائشیں اور تکالیف ہے در پے آتی چلی گئیں، آخری نبی ہونے کی بھاری زمہ داری کے ساتھ پوری دنیا کے لیے ایسا رول ماڈل پیش کیا کے عقل انسانی آج بھی حیرت زدہ ہے۔ اتنے عظیم لیڈر ، سپہ سالار ، استاد ، ماہر نفسیات ، ماہر معاشیات ، بہترین سیاست دان ، کیمسٹ ، فزیشین ، بہترین موٹیویشنل اسپیکر ، حقوق نسواں کے علمبردار غرض یہ کے کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں آپ کے علم نے دھاک نہ بٹھائی ہو مکمل شریعت دینے والے رسول ، اللہ کے لاڈلے حبیب جنہوں نے عشق حقیقی کی وہ داستان رقم کی کہ رہتی دنیا تک اس کا کوئی ثانی نہیں ہوسکتا۔۔ہمارے نبی وہ نبی ہیں جو امت کے لیے رویا کرتے تھے، امت کے لیے اپنی خاص دعا بچا کر رکھی۔۔ تمام تر ٹرائلز میں سرخرو ہو کر آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک ہر طرح سے دین پہنچا دیا لیکن ہم نے کیا کیا ؟

دور حاضر کے امتیوں نے آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نا چھوڑی۔۔۔۔سب سے بڑھ کر ظلم تو یہ کیا کہ جب بات آئی آقا کی عزت کی ۔۔۔۔ تو کیا کیا ہم نے ؟ مفاہمت اور مصلحت کو ترجیح دی۔۔ہم نا کہا کہ ہمیں اپنی اکانومی مضبوط کرنا چاہیے ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ان گستاخوں کا مقابلہ کریں۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے تاحال فرانس کی پروڈکٹ بندھ کی ؟ ہم نے کہا اس طرح کرنا جہالت ہے ہمارے دکانداروں کو نقصان ہوگا ۔۔۔ جو لوگ اٹھے ہم نے ان کا فرقہ پرستی کی وجہ سے ساتھ نا دیا ہم پیچھے ہٹ گئے ہم اس وقت ریلی میں جایئنگے جب ہمارے فرقے کے علماء ریلی نکالیں گے ہم کسی اور کے عالم کی عوام کیوں بنیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے لیے ہم ایک سفیر تک نہیں نکال سکے باتیں ہم کرتے ہیں غزوہ ہند میں شامل ہونے کی جب کے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کو ہماری جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہونے چاہے ہیں۔۔ اور ہیں بھی مگر زبانی کلامی ۔۔عمل ہمارا صفر ہے۔ اگر ہماری نجی زندگیاں دیکھی جائیں ۔۔۔سنتوں کو ہم نے ایسے فراموش کر دیا ہے جسے کوئی بھولی بسری روایات ہوں بس ۔۔ شادی سے لے کر میت تک میں دین ہم نے کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگر اپنا محاسبہ خود کریں تو شرم سے ڈوب کر مرنے کو ترجیح دیں۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین کہاں ہے ہمارے زندگی میں ؟ کون سے درجے میں رکھا ہے ہم نے آقا کی شریعت کو ؟ کوئی جواب نہیں ہے بس ایک خوفناک خاموشی ہے۔ کبھی اپنے اپنے گریبانوں میں ہم اگر جھانک لیں تو اپنے اپنے کردار کے تعفن سے خود ہی مر جائیں۔ ہمارے پاس دنیا کی ہر چیز کے لیے وقت ہے مگر دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کے لیے وقت نہیں۔ ہاں ہم اپناتے ہیں مگر بس اتنا جتنا ہمیں اپنے کام کا لگتا ہے جہاں ہمیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے ہم بس وہیں تک مسلمان ہیں۔ ہم خود نہیں جانتے کہ آخر ہم ہیں کون ہمارے پاس مسلمان ہونے کی سند بس اتنی ہے کہ ہمیں اللہ نے مسلمان گھر میں پیدا کیا ہے۔ خود کو اسلام پر رکھنے کے لیے ہم نے کیا کیا ؟ اسلام کے لیے ہم نے کیا کیا ؟

اگر ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ہمیں یہ ثابت بھی کرنا ہوگا ۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنا کر زندگی اسلام کے مطابق کرنی ہوگی۔ قرآن مجید ہمیں پکار کر کہتا ہے اے ایمان والوں ۔۔۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم خود کو ایمان والا سمجھ کر قرآن کی آواز پر لبیک کہتے ہیں یا نہیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام تکالیف اس لیے نہیں سہیں تھیں کہ ایک دن آئے گا ک جب مسلمان یہ کہہ کر دین کو نظر انداز کر دینگے کے بھئی ہم تو گناہ گار ہیں ہم کہاں ان جیسے کام کر سکتے ہیں ۔ تو بھائیو ۔۔۔ اس خود ساختہ دھوکا دہی سے نکل آؤ ۔۔۔ انہوں نے اتنی شدید آزمائشوں میں پورا اتر کر جو کردار عظیم دنیا کے سامنے پیش کیا وہ اسی لیے کیا کہ ہم جیسے گناہ گار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو صراطِ مستقیم پر مشعل راہ بنا سکیں۔ نبی رحمت سیدنا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک دین پہنچا دیا اس پر عمل کرنا ہماری زمہ داری ہے۔۔۔ خواب غفلت سے جاگ جائیں سفر کٹھن ہے، آزمائشوں کا دور ہے۔۔۔ دین کو ہماری نہیں بلکہ ہمیں دین کی ضرورت ہے۔۔۔ محبوب الٰہی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اپنانے میں ہی ہماری فلاح ہے۔
وما علینا الا البلاغ

فیض عالم
کراچی پاکستان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button