بلاگزبین الاقوامی

افغان جنگ اور پاکستان تحریر منیب خان

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو افغانستان کی تاریخ تقریباً 5000 سال پرانی ہے, لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان نے ان 5000 سالوں میں ایک دن بھی چھین سے نہیں گزارے۔
اس کے مختلف وجوہات ہوسکتے ہے لیکن سب سے بڑی وجہ افغان حکومت خود ہے,ہر بار افغان حکومت خود اپنے ملکی باشندوں کی سروو کی سودا کرتے ہیں۔
اگر ہم دیکھے تو کچھ عرصہ پہلے روس افغانستان پر حملہ آور ہوچکا تھا۔ اس وقت روس ”سپر پاور“ بن چکا تھا۔
روس نے یہ اپنا منشور بنایا تھاکہ افغانستان کو ایک دن بھی چھین سے بیٹھنے نہیں دینگے , لیکن ایک وقت ایا اور افغانستان نے روس کو شکست دے دی۔
اصل میں یہ جیت افغانستان کی نہیں تھی بلکہ یہ جیت پاکستان کی تھی۔
جب روس نے افغانستان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کیا تو اس نے پاکستان کو للکارنے کی ناکام کوشش کی اور پاکستان کو خبردار کردیا کہ ”گوادر“ کو روس کے حوالے کیا جاۓ اور اگر انکار کردیا تو گوادر کے ساتھ ساتھ باقی پاکستان کو بھی قبضہ کرلینگے۔
روس خطہ کے اس جگہ میں واقع ہے جہاں سال میں تقریباً 9 ماہ سردی ہوتی ہے اور 8 , 9 ماہ سمندر برف سے بھرا ہوتا ہے اور ادھر پھر انتظامیہ کی طرف سے سمندر میں تہواریں کیۓ جاتے ہیں۔
اس سردی کی وجہ سے روس کا سمندر زیادہ تر بند ہوتا ہے, روس اپنی معیشت کو بہتر بنانے کیلۓ وہ گوادر کو قبضہ کرنا چاہتاتھا۔
اس وقت جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی وہ نہایت قابل اور زہین جنرل رہ چکے ہے اور ملک کے بقاء اور خوشحالی کیلۓ ہر ممکن کوشش کی۔
اس نے نہایت سنجیدگی اور زہانت سے کام لےکے روس کو افغانستان میں شکست دے دی اور روس سے مختلف سٹیٹس علیحدہ ہوگٸ جو اج آزربایجان,ترکمانستان, کرغستان وغیرہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
بظاہر پاکستان تو ایک کمزور اور غریب ملک تھا وہ اکیلا روس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا, پاکستان نے امریکہ سے فائدہ اٹھا کر روس کو شکست دے دی۔
اس وقت پاکستان کو امریکہ کی طرف سے ”افغان ریفوجیز“ کے نام پہ امداد ملتی تھی اور پاکستانی افواج فرنٹ لائن پہ اکر روس کو شکست دےدی اور روس کی انخلا ہوی۔
امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ اگر روس افغانستان اور پاکستان سمیت کٸ ملکوں میں قابض ہوگیے تو روس دنیا میں اپنا ایک لازوال حکومت قاٸم کریں گی اور اس سے امریکہ کو بہت نقصان ہوگا۔ اسی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کی سخت ہمایت کی۔
اس جنگ کے دوران افغانستان سے تقریباً 40 سے 50 لاکھ تک افغانیوں نے پاکستان ہجرت کردی اور پاکستان نے ان مہاجرین کو عزت کے ساتھ باحفاظت پاکستان میں جگہ دے دی اور اج بھی وہ پاکستان میں اپنی مرضی کےمطابق زندگی گزار رہے ہیں۔
ان کو پاکستان میں ہر قسم کی صہولیات فراہم ہے, لیکن حکومت پاکستان اور اقوام پاکستان کی افغان حکومت سے شکوہ ہے کہ اج بھی افغانستان سے جتنا ہوسکتا ہے وہ پاکستان کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں اور افغانستان کی سرزمیں اج بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہیں۔
جب روس کی انخلا ہوٸ تو امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوگیا اور اج پورے 20 سال کے بعد امریکی افواج کی انخلا ہوگٸ۔
افغان حکومت تو ایک کٹپتلی حکومت ہے وہ تو امریکی افواج کے انخلا میں کچھ کردار ادا نہیں کرسکتی اج ساری دنیا آفغان طالبان کی حمایت اسی لیۓ کر رہی ہے کہ اس نے امریکہ کو شکست دےکر افغانستان سے نکال دیا اور ایک اسلامی نظامی حکومت کی بنیاد ڈالی۔
امریکہ پاکستان سے افغانستان اور طالبان کے خلاف ہواٸ اڈے مانگ رہی ہیں لیکن پاکستان نے صاف صاف انکار کردیا۔
ایک امریکی جنرالسٹ نے وزیراعظم پاکستان سے آڈے مانگنے کی پیشکش کی لیکن وزیراعظم عمران خان انکار کردیا ۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف کبھی بھی” absolutely not“ استعمال نہیں ہونگی۔
اللہ پاکستان کا ہامی و ناصر ہو۔۔

پاکستان زندہ باد
پاک ارمی۔

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button