بلاگز

ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے تحریر حیأ انبساط

‏) سورۃ الاحزاب
‏وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا (58)
‏اور جو ایمان دار مردوں اور عورتوں کو ناکردہ گناہوں پر ستاتے ہیں سو وہ اپنے سر بہتان اور صریح گناہ لیتے ہیں۔

‏کسی بھی انسان کی پہچان اسکی تعلیم اور ڈگری کے بجائے اس کی تربیت اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ جس طرح سے آپ دوسروں کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں وہی رویہ آپکے کردار کی عکاسی کرتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حالات اس کے برعکس ہی دیکھے جاتے ہیں ۔

‏لوگ کسی کی کردارکشی کرتے لمحہ بھر کیلئے نہیں سوچتے کہ ان کے منہ سے نکلے الفاظ کسی کی آنے والی تمام زندگی پہ کتنا بھاری پڑ سکتے ہیں ۔ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی خاندان میں کسی سے شادی سے انکار کردے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ پہلے سے کسی کو پسند کر رکھا ہوگا ، اس کا تو کردار ہی خراب ہے یا پڑھائی کے بہانے یہی سب کرنے یونیورسٹی جاتے ہونگے ۔ایسے کریہہ الزامات لگاتے وہ لوگ سوچتے نہیں کہ یہ سب باتیں ان ماں باپ کے دل پہ تازیانے کی طرح لگتی ہیں جو اپنی اولاد کو گھر سے بہت مان کے ساتھ مختلف درسگاہوں میں علم حاصل کرنے کیلیئے بھیجتے ہیں۔

‏معاشرے کے لوگ مسلسل زہرافشانی کرتے رہتے ہیں اس سب سے بےخبر کہ ان کے سچے جھوٹے الزامات اور القابات کسی کی ذہنی صحت تباہ کر دیتے ہیں قوم کے معمار، روشن مستقبل کے حامل طالبعلم گمنامی کے اندھیروں میں کھو جاتے ہیں اور ان لڑکے، لڑکیوں کی ذہنی ابتری کے ذمہدار لوگ مزے سے ہاتھ جھاڑ کے کسی اور کی کردارکشی کرنے چل پڑتے ہیں ۔

‏اگر کوئی آپ کو کسی تعلیمی ادارے میں یا ورک پلیس پہ آکر دوستی کا پیغام دے اور آپ انکار کر دیں تب بھی آپ کو نیچا دیکھانے اور بدنام کرنے کیلئے کردار کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اور خاص کر کسی بھی لڑکی کو نیچے گرانے کے لیئے سب سے آسان حربہ کردارکشی ہی سمجھا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی لڑکیوں کی تعلیم اسی گھٹیا فعل کی وجہ سے بیچ میں ہی روک دی جاتی ہے ان کی بےجوڑ شادیاں کر کے ان سے جان چھڑوالی جاتی ہے ۔
‏عموماً اگر کوئی لڑکی اپنی پسند سے شادی کرنے کیلئے گھر میں بات کرتی ہے تو معاشرہ بعد میں پہلے گھر کے ہی کچھ افراد اس کے کردار پہ انگلی اُٹھا دیتے ہیں
‏وہ یہ نہیں سوچتے کہ انکی بہن یا بیٹی ؛ انکی نظروں کے سامنے تربیت حاصل کرنے والی کیسے بُرے کردار کی ہوسکتی ہے اس نے شریعت کی رو سے صرف اپنا حق استعمال کیا ہے آپکو خود آکر بتایا ہے کہیں جا کر کوئی غلط قدم نہیں اُٹھایا آپ کی عزت کی پوری پوری حفاظت کی لیکن اسکو گھر اور سماج دونوں ہی جگہ کڑی تنقید اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

‏اس معاشرے میں عورت ہی عورت کی زیادہ دشمن نظر آتی ئے مثلاً اگر کوئی مرد اپنی مرضی سے شادی کرکے دلہن لے آئے تو ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی خواتین بھی روایتی ساس ، نند بننے میں دیر نہیں لگاتیں ۔ بظاہر بہت ہی معتبر دکھنے والی ماں یا بہنیں کبھی کبھی کسی معمولی بات کا کینہ دل میں رکھتے ہوئے آنے والی نئی دلہن (جو شوہر کی من پسند ہوتی ہے ) کی کردارکشی کرنے سے باز نہیں آتیں اور اس حرکت سے انکے خود کے بیٹے یا بھائی کا گھر خراب ہوجاتا ہے۔ کبھی کوئی سہیلی ہی اپنی سہیلی کا گھر خراب کرتی دیکھائی دیتی ہے یا پھر کوئی نام نہاد بہن نما کزن کسی کی ہنستی بستی گرہستی میں آگ لگانے کا باعث بن جاتی ہے الغرض کسی اور کے منہ سے نکلا زہر ایک جیتی جاگتی ہنستی بولتی لڑکی کو زندہ لاش میں تبدیل کر دیتا ہے۔

‏ہمارے معاشرے میں جہاں لڑکیاں کردارکشی کا شکار نظر آتی ہیں وہیں آجکل مردوں کو بھی اس مسئلے میں پھنسا دیکھا جا سکتا ہے ۔ کبھی کسی تعلیمی ادارے میں ، کہیں ورک پلیس پہ اگر کوئی شریف النفس مرد کسی کی بری پیشکش پہ آفریں نہ کہہ کر منہ پھیر لے تو اسکو بزدل ، بدکردار یا پھر نامرد ہونے تک کے الزمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اس انسان کی سماجی اہمیت صفر ہو کے رہ جاتی ہے نہ وہ گھر میں کسی کو منہ دکھانے لائق رہتا ہے نہ وہ کام کرنے کی جگہ پہ سر اُٹھا کے کام کر سکتا ہے ۔ اسکا سوشل بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے ہر جگہ اسکو ذلیل کیا جاتا ہے اتنی ذہنی اذیت پہنچائی جاتی ہے کہ پارسائی سے لوگوں کا یقین ختم ہونے لگ جاتا ہے وہ سوچتا ہے کہ شرافت کی اتنی بڑی سزا ؟ اور وہ انسان نفسیاتی طور پہ اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ اسکو کوئی راہ نہیں سوجھائی دیتی ۔ اسکے اپنے اسکو بےاعتباری کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں وہ کچھ نہ کر کے بھی مجرم بن جاتا ہے اس مظلوم پہ اتنے طنر کے تیر چلائے جاتے ہیں یہاں تک کے اس مرد کو موت کی اندھیری گلی تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی جاتی ہے۔

‏اسلام کہتا ہے دوسروں کے عیب ڈھانپ لو اللّٰہ تمہارے سب عیب ڈھانپ دے گا لیکن ہمارے معاشرے میں تو جو عیب ہم میں موجود بھی نہیں ہوں وہ تلاش کر لیئے جاتے ہیں کردارکشی کی جاتی ہے اور اس کو خوب مرچ مسالہ لگا کر دنیا میں نشر بھی جاتا ہے ۔ان لوگوں سے کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ جس معصوم پہ الزام لگایا گیا ہے اسکی ذہنی صحت تباہ کرنے کے گناہ کی سزا کیسے برداشت کرپائیں گے لوگ ؟

‏سورۃ النساء آیت ۱۱۲
‏اور جو شحص کسی خطا یا گناہ کا ارتکاب کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پرلگا دے تو اس نے یقیناً ایک بہتان اور کھلے گناہ (کے بوجھ) کو اٹھا لیا،

‏اسلام میں تو بہتان کڑی سزا رکھی گئی ہے بارہا اللّٰہ نے اور اسکے نبی نے خبردار کیا ہے کہ غیبت اور بہتان سے باز رہو پھر ہم مسلمان ہونے کے باوجود اس شر سے کیوں باز نہیں رہتے؟ سوچیئے گا ضرور۔

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. یہ ایک بامقصد تحریر ہے لیکن مضمون میں شامل کچھ الفاظ کی سختی مجھے محسوس ہوئ
    ہوسکتا ہے میں غلط ہوں
    بہرحال یہ ایک اچھی کاوش ہے اللہ تعالی مزید نکھار لائے آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button